لیبیا کے سابق حکمران معمر قذافی کے بیٹے کو قتل کر دیا گیا
اشاعت کی تاریخ: 4th, February 2026 GMT
TRIPOLI:
لیبیا کے سابق آمر معمر قذافی کے بیٹے سیف الاسلام قذافی کو لیبیا میں قتل کر دیا گیا ہے۔ لیبیائی حکام اور مقامی میڈیا کے مطابق 53 سالہ سیف الاسلام کو مسلح افراد نے ان کے گھر میں فائرنگ کر کے ہلاک کیا۔
سیف الاسلام کے وکیل خالد الزیدی اور سیاسی مشیر عبداللہ عثمان نے منگل کے روز سوشل میڈیا پر الگ الگ پوسٹس کے ذریعے ان کی ہلاکت کی تصدیق کی تاہم قتل کی تفصیلات فوری طور پر سامنے نہیں آئیں۔
لیبیائی میڈیا ادارے فواصل میڈیا کے مطابق عبداللہ عثمان نے بتایا کہ چار مسلح نقاب پوش افراد نے دارالحکومت طرابلس سے 136 کلومیٹر جنوب مغرب میں واقع شہر زنتان میں سیف الاسلام قذافی کے گھر پر دھاوا بولا اور انہیں قتل کر دیا۔
سیف الاسلام قذافی کی سیاسی ٹیم کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ حملہ آوروں نے واردات سے قبل گھر کے سی سی ٹی وی کیمرے بند کر دیے تاکہ شواہد مٹائے جا سکیں، بیان کے مطابق سیف الاسلام نے حملہ آوروں کے ساتھ مزاحمت بھی کی۔
مزید پڑھیںلیبیا میں بڑی پیش رفت: حکومت اور مسلح گروپ ’’رداع‘‘ کے درمیان معاہدہ
واقعے کے بعد طرابلس میں قائم ہائی اسٹیٹ کونسل کے سابق سربراہ خالد المشری نے قتل کی شدید مذمت کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ اس واقعے کی فوری، شفاف اور غیر جانبدار تحقیقات کی جائیں۔
واضح رہے کہ سیف الاسلام قذافی اگرچہ کسی سرکاری عہدے پر فائز نہیں تھے، تاہم 2000 سے 2011 تک انہیں اپنے والد معمر قذافی کا جانشین اور طاقت کا دوسرا بڑا مرکز سمجھا جاتا تھا۔
یاد رہے سابق حکمران معمر قذافی 2011 میں حکومت کے خاتمے کے بعد باغیوں کے ہاتھوں مارے گئے تھے۔
سیف الاسلام کو 2011 میں فرار کی کوشش کے دوران زنتان سے گرفتار کر کے قید کیا گیا تھا، تاہم 2017 میں عام معافی کے تحت رہا کر دیا گیا جس کے بعد وہ زنتان میں ہی مقیم تھے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: حقیقی جمہوریت کی تلاش معمر قذافی کر دیا
پڑھیں:
سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں اور کالمز پر کارروائی کے اختیار کا معاملہ زیر بحث آیا، جہاں سینئر صحافی طارق محمود سمیر نے اپنا مؤقف پیش کرتے ہوئے اہم قانونی نکات اٹھائے۔
اجلاس کے دوران طارق محمود سمیر نے کہا کہ لاہور سے شائع ہونے والے روزنامہ نئی بات میں بیوروکریسی سے متعلق شائع ہونے والے ایک کالم کی بنیاد پر کالم نگار توفیق بٹ اور اخبار کے ایڈیٹر کو نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی) کی جانب سے جاری کیا گیا نوٹس واپس لیا جانا چاہیے۔انہوں نے قائمہ کمیٹی کو تجویز دی کہ اس معاملے کو متعلقہ فورم یعنی پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے، کیونکہ قانون کے مطابق پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور تنازعات کا جائزہ لینے کا اختیار صرف پریس کونسل کے پاس ہے۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے سینئر صحافی طارق محمود سمیر کی اس تجویز سے متفقہ طور پر اتفاق کرتے ہوئے ہدایت جاری کی کہ مذکورہ معاملہ پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے تاکہ قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔
کمیٹی نے اس موقع پر واضح کیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق کسی بھی قسم کے معاملات یا شکایات نہ تو پیمرا کے دائرہ اختیار میں آتی ہیں اور نہ ہی این سی سی آئی ایسے معاملات میں براہ راست نوٹس لینے کا مجاز ہے۔ کمیٹی کے مطابق اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں، مضامین اور کالمز سے متعلق شکایات صرف پریس کونسل آف پاکستان کے سامنے ہی پیش کی جا سکتی ہیں۔اجلاس میں یہ بھی یاد دلایا گیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق قانون سازی کے دوران وفاقی حکومت نے قومی اسمبلی میں واضح یقین دہانی کرائی تھی کہ اخبارات اور پرنٹ میڈیا کے معاملات کا واحد مجاز ادارہ پریس کونسل آف پاکستان ہوگا، اور اسی فورم پر شکایات درج کرائی جا سکیں گی۔
قائمہ کمیٹی نے اس مؤقف کو دہراتے ہوئے متعلقہ اداروں پر زور دیا کہ آئندہ بھی پرنٹ میڈیا سے متعلق تمام معاملات قانون کے مطابق صرف پریس کونسل آف پاکستان کے ذریعے ہی نمٹائے جائیں تاکہ آئینی اور قانونی دائرہ اختیار برقرار رہے۔