لیبیا کے سابق حکمران معمر قذافی کے بیٹے سیف الاسلام قذافی فائرنگ میں ہلاک
اشاعت کی تاریخ: 3rd, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
طرابلس:افریقی ملک لیبیا کے سابق حکمران معمر قذافی کے بیٹے سیف الاسلام قذافی کو نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کر کے قتل کر دیا۔
عرب میڈیا کے مطابق یہ واقعہ لیبیا کے ایک نامعلوم علاقے میں پیش آیا جہاں چار مسلح افراد نے سیف الاسلام پر گولیاں برسائیں اور موقع سے فرار ہو گئے۔
سیف الاسلام قذافی کے سیاسی مشیر عبداللہ عثمان نے قتل کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ حملہ اچانک اور انتہائی منظم تھا، حملہ آوروں نے قریب سے فائرنگ کی جس کے نتیجے میں سیف الاسلام موقع پر ہی ہلاک ہو گئے۔ واقعے کے بعد سیکیورٹی اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر تحقیقات شروع کر دی ہیں تاہم حملہ آوروں کی گرفتاری سے متعلق تاحال کوئی تفصیل سامنے نہیں آئی۔
سیف الاسلام قذافی لیبیا کے سابق آمر معمر قذافی کے نمایاں بیٹوں میں شمار ہوتے تھے اور ایک وقت میں انہیں اپنے والد کا سیاسی جانشین بھی تصور کیا جاتا تھا۔ جب 2011 میں لیبیا میں بغاوت کے دوران معمر قذافی کو باغیوں نے گولی مار کر ہلاک کیا تو اس وقت سیف الاسلام بھی ان کے ہمراہ موجود تھے۔ بعد ازاں وہ زخمی حالت میں باغیوں کے ہاتھوں گرفتار کر لیے گئے تھے۔
سیف الاسلام قذافی نے تقریباً چھ سال قید میں گزارے، جس کے بعد انہیں 2017 میں رہائی ملی تھی۔ رہائی کے بعد انہوں نے سیاست میں واپسی کی کوشش کی اور 2021 میں ہونے والے صدارتی انتخابات میں حصہ لینے کا اعلان کیا، لیبیا کے الیکشن کمیشن نے انہیں صدارتی انتخاب کے لیے نااہل قرار دے دیا تھا۔ الیکشن کمیشن نے اس وقت 25 امیدواروں کے کاغذات مسترد کیے تھے جن میں سیف الاسلام قذافی بھی شامل تھے۔
سیف الاسلام کی ہلاکت کے بعد لیبیا میں ایک بار پھر سیاسی بے چینی اور غیر یقینی صورتحال پیدا ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: معمر قذافی لیبیا کے قذافی کے کے بعد
پڑھیں:
سیکیورٹی فورسز کی بلوچستان کے مختلف علاقوں میں کارروائیاں، 17 دہشتگرد ہلاک
سیکیورٹی فورسز نے بلوچستان کے مختلف علاقوں میں کارروائیاں کرتے ہوئےفتنہ الہندوستان سے تعلق رکھنے والے 17 دہشتگردوں کو ہلاک کردیا۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق 24 مئی کو پیش آنے والے ٹرین واقعے کے بعد سیکیورٹی فورسز نے بلوچستان کے اضلاع مستونگ، نوشکی، زہری، خضدار اور کیچ میں انٹیلی جنس بنیادوں پر متعدد آپریشنز کیے۔
مزید پڑھیں: بلوچستان میں دہشتگردی کرنے والے پاکستان کے دشمن، ان کی کوئی ناراضی نہیں، رانا ثنااللہ
آئی ایس پی آر کے مطابق ان کارروائیوں کے دوران سیکیورٹی فورسز نے دہشتگردوں کے متعدد ٹھکانوں کو مؤثر انداز میں نشانہ بنایا۔ شدید اور سخت فائرنگ کے تبادلے کے بعد بھارتی حمایت یافتہ فتنہ الہندستان سے تعلق رکھنے والے 17 دہشت گرد ہلاک کر دیے گئے، جس سے ان علاقوں میں سرگرم دہشتگرد نیٹ ورکس کو بڑا دھچکا پہنچا ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ مارے گئے دہشتگرد علاقے میں متعدد دہشت گرد کارروائیوں میں سرگرم رہے تھے۔
ہلاک دہشت گردوں کے قبضے سے اسلحہ، گولہ بارود، بڑی مقدار میں دھماکا خیز مواد اور تیار شدہ دیسی ساختہ بم (آئی ای ڈیز) بھی برآمد کیے گئے ہیں۔
آئی ایس پی آر کے مطابق ان علاقوں سے دہشتگردوں کے مکمل خاتمے کے لیے کلیئرنس اور سرچ آپریشنز بدستور جاری ہیں۔
مزید پڑھیں: علما کرام کی جانب سے بلوچستان میں دہشتگردی کی مذمت، امن اور مکالمے پر زور
بیان میں کہا گیا ہے کہ قومی ایکشن پلان کے تحت وفاقی ایپکس کمیٹی سے منظور شدہ وژن ’عزمِ استحکام‘ کے مطابق پاکستان کی سیکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی انسداد دہشت گردی مہم پوری رفتار سے جاری رہے گی تاکہ ملک سے بیرونی سرپرستی اور حمایت یافتہ دہشتگردی کے ناسور کا مکمل خاتمہ کیا جا سکے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews آئی ایس پی آر بلوچستان دہشتگرد ہلاک سیکیورٹی فورسز وی نیوز