واٹر مینجمنٹ کے ملازمین کا 18ماہ کی تنخواہوں کے لیے دھرنا
اشاعت کی تاریخ: 4th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
حیدرآباد(اسٹاف رپورٹر)آن فارم واٹر مینجمنٹ کے کنٹیجنسی ملازمین نے گزشتہ 18ماہ سے تنخواہیں ادا نہ کیے جانے کے خلاف شہباز بلڈنگ کے مرکزی گیٹ کے سامنے ٹھنڈ ی سڑک پرواقع ڈی جی آن فارم واٹر مینجمنٹ کے دفتر کے روبرو احتجاجی مظاہرہ کرتے ہوئے دھرنا دیا۔ مظاہرین نے شہباز بلڈنگ کے گیٹ کا گھیرا ئوبھی کیا، جس کے باعث ٹھنڈ ی سڑک مکمل طور پر بند ہو گئی اورسڑک پر گاڑیاں کھڑی ہونے کے باعث ٹریفک معطل ہو گئی۔اس موقع پر ملازمین کی ایکشن کمیٹی کے رہنمائوں شکیل خاصخیلی، عمیر علی، امجد علی، ذوالفقار میمن، عبداللطیف نارائی، مزمل نارائی اور دیگر نے کہا کہ ہزاروں ملازمین گزشتہ کئی برسوں سے ادارے کے مختلف شعبوں میں کنٹیجنسی بنیادوں پر خدمات انجام دے رہے ہیں، مگر گزشتہ ڈیڑھ سال سے ڈی جی آن فارم واٹر مینجمنٹ بلاجواز اور من مانی کرتے ہوئے تنخواہیں بند کیے بیٹھا ہے، جس کے باعث ملازمین فاقہ کشی پر مجبور ہو چکے ہیں۔انہوں نے الزام عائد کیا کہ ڈی جی نے اپنی من پسند پالیسی کے تحت غیرقانونی طور پر تقریبا 1500 نئے ملازمین بھرتی کر لیے ہیں اور انہیں باقاعدگی سے تنخواہیں بھی ادا کی جا رہی ہیں، جبکہ پرانے اور تجربہ کار ملازمین کو تنخواہوں سے محروم رکھا جا رہا ہے، جو سراسر ظلم اور ناانصافی ہے۔مظاہرین نے کہا کہ پیپلز پارٹی کا منشور روزگار فراہم کرنا ہے، مگر ڈی جی ندیم شاہ پیپلز پارٹی کے منشور کے برعکس اقدامات کرتے ہوئے ہزاروں نوجوانوں سے روزگار چھین چکا ہے اور ان کے گھروں کے چولہے بجھا دیے گئے ہیں۔ انہوں نے اعلان کیا کہ جب تک تنخواہیں جاری نہیں کی جاتیں، احتجاجی تحریک جاری رکھی جائے گی۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: واٹر مینجمنٹ
پڑھیں:
سندھ کابینہ نے صوبے کے سرکاری ملازمین کے کنوینس الاؤنس میں اضافہ کر دیا ہے، شرجیل میمن
فائل فوٹو
وزیر اطلاعات سندھ شرجیل میمن کا کہنا ہے کہ سندھ کابینہ نے صوبے کے سرکاری ملازمین کے کنوینس الاؤنس میں اضافہ کر دیا ہے، گریڈ ایک سے 16 تک ملازمین کا سفری الاؤنس بڑھا دیا گیا ہے۔
سندھ کابینہ اجلاس کے بعد پریس کانفرنس کرتے ہوئے شرجیل میمن نے کہا کہ سندھ کابینہ کے اجلاس میں اہم فیصلے کیے گئے ہیں، گورنر ہاؤس اور وزیراعلیٰ ہاؤس اسٹاف کی ہیلتھ انشورنس میں چھ ماہ کی توسیع کی ہے، معیشت، سرمایہ کاری، مالیات، آبی وسائل سے متعلق مختلف ٹاسک فورسز تشکیل دی ہیں، موسمیاتی تبدیلی اور آرٹیفیشل انٹیلیجنس سے متعلق مختلف ٹاسک فورسز تشکیل دی ہیں۔
شرجیل میمن نے کہا کہ سندھ کابینہ نے گٹکا اور مین پوری کے خلاف سخت کریک ڈاؤن کی منظوری دی ہے، گٹکا ماوا کیخلاف کارروائی نارکوٹکس کنٹرول کا محکمہ کرے گا، قانون سازی کر رہے ہیں۔
شرجیل میمن نے کہا کہ ملازمین عملی کام کے بجائے یونٹ، سیکٹر دفاتر میں بیٹھے رہتے تھے، صحافی ولی خان بابر نے ایسے معاملات کی رپورٹنگ کی تھی بعد میں انھیں قتل کر دیا گیا۔
صوبائی وزیر نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ زراعت کے شعبے کو نقصان نہ ہو، قانون میں گندم کی ترسیل روکنے کی ممانعت ہے، پنجاب نے گندم کی ترسیل روکی ہوئی ہے، پنجاب نے گندم کی ترسیل کیلئے بارڈر سیل کیے ہیں، ہم مذمت کرتے ہیں، گندم کی فصل بہت اچھی ہوئی، سندھ میں کچھ لوگوں نے گندم کی ذخیرہ اندوزی کر رکھی ہے۔
شرجیل میمن نے کہا کہ سندھ حکومت پانچ لاکھ میٹرک ٹن گندم امپورٹ کرے گی، پاسکو سے بھی گندم خریدی جائے گی، ان اقدامات سے گندم ذخیرہ کرنے والوں کو بہت نقصان ہوگا، ناردرن بائی پاس پر 4 سو ایکڑ پر ٹرک اسٹینڈ بنانے جارہے ہیں۔
شرجیل میمن نے کہا کہ افسوس کی بات ہےان دونوں رہنماؤں نے آئین اور قانون کا سنجیدہ مطالعہ نہیں کیا، مطالعہ کرتے تو اس نوعیت کے غیر ذمہ دارانہ بیانات دینے سے گریز کرتے۔
صوبائی وزیر نے مزید کہا کہ مون سون کے موقع پر تمام اداروں کو الرٹ جاری کر دیا گیا ہے، کے پی کے اور پنجاب میں بارشوں سے اموات ہوئی ہیں، حیرت کی بات ہے ہمارے میڈیا نے پر اس پر خاموشی رکھی ہوئی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کر بارش سے پنجاب کے دیہی اور شہری علاقوں کے حالات خراب ہیں، ملک بھر میں بارشوں سے بہت تباہی ہوئی ہے، پنجاب میں بارشوں سے 17 افراد جاں بحق ہوئے، خیبر پختونخوا میں بارشوں سے 20 افراد جان کی بازی ہار گئے ہیں۔
شرجیل میمن نے کہا کہ کشمیر میں انتخابات چل رہے ہیں، کشمیر انتخابات میں مسلم لیگ ن ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کررہی ہے۔