بدین، کھلی کچہری کا انعقاد ، منشیات اور تعلیمی صورتحال کی شکایات
اشاعت کی تاریخ: 4th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
بدین (جسارت نیوز ) ریجنل ڈائریکٹر صوبائی محتسبِ اعلیٰ سندھ بدین عبدالوہاب میمن کی جانب سے ٹاؤن کمیٹی کڈھن شہر میں کھلی کچہری کا انعقاد کیا گیا۔ اس سے قبل ریجنل ڈائریکٹر محتسبِ اعلیٰ نے گورنمنٹ ہائر سیکنڈری اسکول کڈھن اور آر ایچ سی کڈھن کا تفصیلی دورہ بھی کیا ٹاؤن کمیٹی کڈھن میں منعقدہ کھلی کچہری کے دوران شہریوں کی جانب سے تعلیم، واٹر سپلائی اسکیم، ڈرینیج، ایجوکیشن ورکس، این آر ایس پی، ہائی وے، ٹاؤن کمیٹی، اسپورٹس، آبپاشی اور پبلک ہیلتھ سمیت مختلف محکموں سے متعلق درخواستیں پیش کی گئیں۔ اس موقع پر ریجنل ڈائریکٹر محتسبِ اعلیٰ بدین عبدالوہاب میمن نے شہریوں کو یقین دہانی کراتے ہوئے کہا کہ ہر جائز مسئلہ ضرور حل کیا جائے گا انہوں نے کہا کہ کڈھن شہر کے دورے کے دوران سب سے زیادہ شکایات منشیات سے متعلق سامنے آئیں، دوسرے نمبر پر تعلیمی اداروں کی زبوں حالی اور تیسرے نمبر پر تجاوزات کے مسائل ہیں کھلی کچہری میں صدر کڈھن پریس کلب ظفر حسین خواجہ نے کہا کہ نوجوانوں کے لیے کھیلوں کے میدان موجود نہیں، جس کے باعث نوجوان نسل منشیات کی طرف مائل ہو رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کڈھن میں منشیات، چرس اور سفینہ سرعام فروخت ہو رہی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ مین پرائمری اسکول جو 1866 میں قائم ہوا تھا، اس وقت انتہائی خستہ حال ہے اور کوئی دادرسی کرنے کو تیار نہیں دیگر شہریوں نے تجاوزات کے باعث مسائل اور فائر بریگیڈ گاڑی نہ ہونے کی شکایات بھی کیں۔ ایک شہری نے بتایا کہ کڈھن شہر میں واٹر سپلائی کا شدید بحران ہے۔ 1983 میں پانی کے دو تالاب تعمیر کیے گئے تھے، اْس وقت شہر کی آبادی صرف 1200 تھی، جبکہ اب آبادی بڑھ کر 35 ہزار سے تجاوز کر چکی ہے، مگر آج بھی وہی دو تالاب شہر کی صرف 20 فیصد آبادی کو پانی فراہم کر رہے ہیں جبکہ 80 فیصد آبادی پانی کی بوند بوند کو ترس رہی ہے اس موقع پر ریجنل ڈائریکٹر محتسبِ اعلیٰ عبدالو?اب میمن نے کہا کہ وہ کھیلوں کے میدان کے لیے سیکریٹری اسپورٹس کو خط لکھیں گے اور کڈھن کے نوجوانوں کے لیے اسپورٹس گراؤنڈ کی منظوری یقینی بنائیں گے۔ اس سلسلے میں ڈسٹرکٹ اسپورٹس آفیسر بدین سے بھی رابطہ کیا جائے گا۔ انہوں نے ٹاؤن چیئرمین کو ہدایت کی کہ نئی واٹر سپلائی اسکیم جلد مکمل کی جائے تاکہ شہریوں کو صاف پینے کا پانی میسر آ سکے۔انہوں نے ایس ایس او کو ہدایات دیتے ہوئے کہا کہ منشیات پر قابو پانا پولیس کی ذمہ داری ہے۔ تجاوزات کا نوٹس لیتے ہوئے انہوں نے ٹاؤن چیئرمین اور ایس ایچ او کو ہدایت کی کہ تجاوزات کے خلاف جلد آپریشن شروع کیا جائے انہوں نے مزید کہا کہ درخواست گزاروں کی سہولت کے لیے محتسبِ اعلیٰ سندھ نے آن لائن درخواستوں کا نظام بھی شروع کر دیا ہے، جہاں موبائل ایپ کے ذریعے کسی بھی صوبائی محکمے کے خلاف شکایت درج کرائی جا سکتی ہے، جس کے لیے نہ کسی وکیل، سفارش یا فیس کی ضرورت ہے اس سے قبل ریجنل ڈائریکٹر محتسبِ اعلیٰ عبدالو?اب میمن نے گورنمنٹ ہائر سیکنڈری اسکول کڈھن اور آر ایچ سی کڈھن کا تفصیلی دورہ کیا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ریجنل ڈائریکٹر محتسب کھلی کچہری نے کہا کہ انہوں نے کے لیے
پڑھیں:
حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
وفاقی وزیر اوورسیز پاکستانیز چوہدری سالک حسین نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آج کا دن پاکستان میں لیبر مائیگریشن کے نظم و نسق کو مضبوط بنانے کی جانب ایک اہم سنگ میل ہے۔ یہ پالیسی ہر اس پاکستانی سے کیے گئے قومی عزم کی عکاس ہے جو بہتر مواقع کی تلاش میں اپنا گھر چھوڑتا ہے۔انہوں نے کہا کہ محفوظ اور منظم نقل مکانی، مہارتوں کی ترقی، کارکنوں کا تحفظ، تارکینِ وطن کی شمولیت اور وطن واپس آنے والوں کی بحالی اس پالیسی کے بنیادی ستون ہیں۔ تکنیکی جدت، آبادیاتی تبدیلیاں اور لیبر مارکیٹ کے بدلتے ہوئے تقاضے دنیا بھر کی معیشتوں کو نئی شکل دے رہے ہیں. اس لیے پاکستان کو اپنی افرادی قوت کو آج اور مستقبل دونوں کے مواقع کے لیے تیار کرنا ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 اس سمت میں ایک اہم قدم اور پاکستان کی افرادی قوت کو مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے میں سنگ میل ثابت ہوگی۔چوہدری سالک حسین نے کہا کہ ایک کروڑ 20 لاکھ پاکستانی دنیا بھر میں مقیم ہیں اور اپنی پیشہ ورانہ مہارت، دیانت داری اور محنت کی بدولت پاکستان کے سفیر بن چکے ہیں۔ گزشتہ مالی سال میں سمندر پار پاکستانیوں نے 41 ارب امریکی ڈالر سے زائد کی ترسیلاتِ زر وطن بھیجیں، جو ملکی تاریخ کی بلند ترین رقم ہے۔ انہوں نے کہا کہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی کامیابی پاکستان کی کامیابی ہے اور ان کی فلاح و بہبود ہماری قومی ذمہ داری ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ پالیسی اداروں، تجربات اور شراکت داریوں کو ایک مشترکہ وژن کے تحت یکجا کرتی ہے تاکہ ہر پاکستانی کارکن نقل مکانی کے پورے سفر کے دوران بہتر طور پر تیار، محفوظ اور معاونت یافتہ ہو۔ اس پالیسی کا محور ہر اس پاکستانی کا سفر ہے جو مواقع کی تلاش میں اپنا گھر چھوڑتا ہے، جبکہ ذمہ داری روانگی سے پہلے ہی شروع ہو جاتی ہے، جہاں نوجوان کارکنوں کو متعلقہ مہارتیں، قابلِ اعتماد معلومات اور اخلاقی بھرتی تک رسائی فراہم کی جائے گی۔وفاقی وزیر نے کہا کہ اس پالیسی کی کامیابی وفاقی اور صوبائی حکومتوں، نفاذ کرنے والے اداروں، آجروں، تربیتی اداروں، ترقیاتی شراکت داروں، نجی شعبے اور سمندر پار پاکستانیوں کے باہمی تعاون سے مشروط ہے۔ انہوں نے صوبائی حکومتوں، آئی سی ایم پی ڈی (ICMPD)، دیگر ترقیاتی شراکت داروں اور تمام اسٹیک ہولڈرز کا مشاورتی عمل میں تعاون پر شکریہ ادا کیا، جبکہ اسپیشل انویسٹمنٹ فیسیلیٹیشن کونسل (SIFC) کی مسلسل معاونت کو بھی سراہا۔انہوں نے کہا کہ ہجرت یا نقل مکانی غیر یقینی کا سفر نہیں بلکہ مواقع، وقار اور قومی ترقی کا راستہ ہونا چاہیے۔ آئیں مل کر ایسا مستقبل بنائیں جہاں ہر پاکستانی اعتماد کے ساتھ بیرون ملک جائے، فخر کے ساتھ وطن واپس آئے اور ہمیشہ ایک ایسی قوم سے جڑا رہے جو اس کی خدمات کی قدر اور عزت کرتی ہو۔ انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ اس وژن کو عوام کے لیے بامعنی ترقی، پاکستان کے لیے دیرپا خوشحالی اور ہر سمندر پار پاکستانی اور اس کے خاندان کے روشن مستقبل کا ذریعہ بنائے۔