میئر کراچی مرتضی وہاب کیخلاف تحریک عدم اعتماد کی کامیابی کا کتنا امکان ہے؟
اشاعت کی تاریخ: 4th, February 2026 GMT
کراچی کی سیاست میں اس وقت ایک بڑی ہلچل مچی ہوئی ہے کیونکہ اپوزیشن نے میئر کراچی مرتضیٰ وہاب کیخلاف تحریک عدم اعتماد لانے کی باقاعدہ تیاریاں شروع کر دی ہیں۔
سانحہ گل پلازہ کے بعد کراچی سٹی کونسل میں اپوزیشن جماعت جماعت اسلامی نے میئر کراچی مرتضیٰ وہاب کو اس انتظامی ناکامی کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے ان کے خلاف محاذ کھول دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ’باپ کا مال ہے کہ استعفیٰ دے دوں؟‘ میئر کراچی مرتضیٰ وہاب کا رویہ تنقید کی زد میں
کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن سٹی کونسل میں اپوزیشن لیڈر سیف الدین ایڈووکیٹ کی قیادت میں تحریک عدم اعتماد پر دستخطوں کا عمل شروع ہو چکا ہے، ابتدائی مرحلے میں جماعت اسلامی کی 29 خواتین کونسلرز نے اس قرارداد پر دستخط کیے ہیں۔
ترجمان اپوزیشن لیڈر نعمان خان کے مطابق جماعت اسلامی کی پارلیمانی پارٹی کا اجلاس اسی ہفتے ادارہ نورحق میں منعقد ہوگا، جماعت اسلامی کے پاس اپنے 127 ارکان کی مکمل تعداد موجود ہے، جبکہ وہ تحریک انصاف، ن لیگ اور جےیوآئی سے بھی رابطے میں ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2013 میں عدم اعتماد کی قرارداد پیش کرنے کے لیے ارکان کی کوئی تعداد متعین نہیں ہے جبکہ کوشش ہے کہ زیادہ سے زیادہ ارکان کے دستخطوں کے ساتھ تحریک جمع کرائی جائے۔
سٹی کونسل میں اس وقت جماعت اسلامی کے 127، پاکستان تحریک انصاف کے 61، مسلم لیگ (ن) کے 14 ارکان، جےیوآئی کے 4 جبکہ ٹی ایل پی کے 2 ارکان موجود ہیں۔
مزید پڑھیں: ’بطور میئر کامیاب نہیں ہو سکا‘، مرتضیٰ وہاب کا بچے کے گٹر میں گرنے کے واقعے پر اظہار ندامت
تحریک عدم اعتماد کی کامیابی کے لیے جماعت اسلامی کو 185 ارکان کی ضرورت ہے اس صورت حال میں تمام اپوزیشن جماعتیں مل کر یا صرف جماعت اسلامی اور تحریک انصاف عدم اعتماد کی تحریک کامیاب کرا سکتے ہیں۔
کامیابی کی صورت میں میئر کے منصب کےلیے ازسرنو انتخاب ہوگا جبکہ لوکل گورنمنٹ ایکٹ کے مطابق نئے انتخاب میں مرتضی وہاب حصہ نہیں لے سکیں گے۔
جماعت اسلامی نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ اس تحریک کو کامیاب بنانے کے لیے دیگر جماعتوں بشمول پی ٹی آئی، ن لیگ اور جے یو آئی سے بھی رابطے کر رہی ہے۔
مزید پڑھیں: میونسپل ٹیکس کا نفاذ شہری حکومت کا حق ہے، میئر کراچی مرتضیٰ وہاب
جماعت اسلامی کے بعد سٹی کونسل میں سب سے بڑی اپوزیشن جماعت پاکستان تحریک انصاف ہے جن کے ارکان کی تعداد 61 ہے تحریک عدم اعتماد کو کامیاب بنانے کے لیے جماعت اسلامی کا بیشتر انحصار پی ٹی آئی پر ہے اگر پی ٹی آئی اس تحریک کے لیے حامی بھرتی ہے تو جماعت اسلامی اسی وقت تحریک عدم اعتماد کے لیے درخواست دیدے گی۔
پاکستان تحریک انصاف کے سینیئر رہنما فردوس شمیم نقوی کا کہنا ہے کہ ہم سمجھتے ہیں کہ میئر کراچی غلط طریقے سے میئر بنے ہیں۔
’ان کا انتخاب کا طریقہ غلط تھا ہمارے ارکان کو یرغمال بنا کر انہیں میئر بنوایا گیا، ہم نہ صرف اس میئر کے خلاف ہیں بلکہ کراچی میں نئے سرے سے بلدیاتی انتخابات کا مطالبہ کرتے ہیں۔‘
فردوس شمیم نقوی نے اب تک واضح طور پر جماعت اسلامی کی عدم اعتماد کی اس تحریک کا ساتھ دینے کا اعلان نہیں کیا۔
’جماعت اسلامی اس وقت ’پریشر کوکر‘ جیسا کردار نبھا رہی ہے، اس وقت سندھ حکومت پر پریشر ہے تو یہ کوکر کی طرح پریشر ہٹانا چاہ رہی ہے جب بھی پیپلز پارٹی پر دباؤ بڑھا، انہوں نے اسے کم کرنے کا کردار ادا کیا ہے۔‘
اپوزیشن کے پاس 14 کونسل ارکان کے ساتھ اپوزیشن کی تیسری بڑی جماعت مسلم لیگ ن ہے، مسلم لیگ کے سینیئر رہنما نہال ہاشمی نے وی نیوز کو بتایا کہ ان کی جماعت پیپلز پارٹی کے ساتھ اتحادی ہیں لہذا تحریک عدم اعتماد پر جماعت اسلامی کا ساتھ دینے یا نہ دینے کے حوالے سے فیصلہ پارٹی قیادت کرے گی۔
مزید پڑھیں: اہل کراچی جلد خوشخبری سنیں گے، میئرکراچی مرتضیٰ وہاب
’۔۔۔لیکن ہم حکومت اور پارٹی پالیسی کے ساتھ ہیں جماعت اسلامی ایک الگ تنظیم ہے، ہم مرکز اور صوبے میں پیپلز پارٹی کے اتحادی ہیں۔‘
ذرائع کے مطابق تحریک عدم اعتماد 8 سے 10 فروری کے درمیان سٹی کونسل میں باقاعدہ طور پر جمع کرائے جانے کا امکان ہے، اس سے قبل 5 فروری کو ادارہ نورِ حق میں پارلیمانی پارٹی کا اہم اجلاس بھی طلب کیا گیا ہے۔
اپوزیشن کا الزام ہے کہ جب شہر میں جنازے اٹھ رہے تھے، میئر کراچی اسلام آباد میں نمائشوں کا افتتاح کر رہے تھے، شہر میں کتے کے کاٹنے، گٹر میں گرنے اور ٹینکرز کی وجہ سے ہلاکتوں کے واقعات پر میئر کی خاموشی کو تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
مزید پڑھیں: کیا میئر کراچی مرتضیٰ وہاب گجر نالے میں گرگئے؟
کمشنر کراچی کی جانب سے گل پلازہ پر تیار کی گئی رپورٹ کو اپوزیشن نے ’بوگس‘ قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا تھا، میئر کراچی کو ہٹانے کے لیے اپوزیشن کو سادہ اکثریت کی ضرورت ہوگی۔
پیپلز پارٹی کو مسلم لیگ (ن) اور جے یو آئی کی حمایت حاصل رہی ہے اگر پی ٹی آئی کے تمام اراکین اور دیگر چھوٹی جماعتیں جماعت اسلامی کے ساتھ مل جائیں، تو میئر کے لیے اپنی کرسی بچانا مشکل ہو سکتا ہے۔ تاہم، ماضی کی طرح ارکان کی فیصلہ کن ’غیر حاضری‘پیپلز پارٹی کو دوبارہ فائدہ پہنچا سکتی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اپوزیشن پاکستان تحریک انصاف پریشر کوکر تحریک جماعت اسلامی جے یو آئی سٹی کونسل سیف الدین عدم اعتماد فردوس شمیم نقوی لوکل گورنمنٹ ایکٹ مرتضیٰ وہاب مسلم لیگ میئر کراچی.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اپوزیشن پاکستان تحریک انصاف پریشر کوکر تحریک جماعت اسلامی جے یو آئی سٹی کونسل سیف الدین فردوس شمیم نقوی لوکل گورنمنٹ ایکٹ مرتضی وہاب مسلم لیگ میئر کراچی پاکستان تحریک انصاف تحریک عدم اعتماد میئر کراچی مرتضی جماعت اسلامی کے عدم اعتماد کی سٹی کونسل میں پیپلز پارٹی مزید پڑھیں پی ٹی آئی مسلم لیگ ارکان کی کے ساتھ رہی ہے کے لیے
پڑھیں:
میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت
لندن کے میئر سر صادق خان(sadiq khan) نے 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بچوں کو آن لائن دنیا میں درپیش خطرات اور نقصانات سے بچانے کے لیے یہ ایک ضروری اقدام ہے۔
منگل کو لندن میں انجینئرز، کاروباری شخصیات اور سرمایہ کاروں سے خطاب کے دوران صادق خان نے کہا کہ جس طرح خوراک اور ادویات تیار کرنے والی کمپنیوں کو اپنی مصنوعات کی حفاظت ثابت کرنا پڑتی ہے، اسی طرح سوشل میڈیا کمپنیوں کو بھی اپنے پلیٹ فارمز کے بچوں کے لیے محفوظ ہونے کا ثبوت دینا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ جب تک سوشل میڈیا کمپنیاں اپنے پلیٹ فارمز کی حفاظت ثابت نہیں کرتیں، اس وقت تک کم عمر بچوں کے لیے ان پر پابندی عائد کرنا ہی نقصانات کو روکنے کا مؤثر طریقہ ہے۔
میئر نے اس بات پر بھی تشویش کا اظہار کیا کہ آن لائن مینوسفیئر نامی رجحان نوجوان لڑکوں اور مردوں پر منفی اثرات مرتب کر رہا ہے، جس سے ایک کھوئی ہوئی نسل پیدا ہونے کا خطرہ ہے۔
یہ مؤقف برطانوی وزیر اعظم سر کیئر اسٹارمر کے مؤقف سے زیادہ سخت سمجھا جا رہا ہے، اگرچہ وزیر اعظم نے بچوں کی آن لائن حفاظت کے لیے اہم اقدامات کا وعدہ کیا ہے، تاہم انہوں نے ابھی تک سوشل میڈیا پر مکمل پابندی کی حمایت نہیں کی۔
برطانوی حکومت نے حال ہی میں بچوں کے آن لائن تحفظ سے متعلق ایک مشاورتی عمل مکمل کیا ہے، جس میں سوشل میڈیا کے لیے کم از کم عمر مقرر کرنے، ایپس کے استعمال کے اوقات محدود کرنے، لا محدود اسکرولنگ اور آٹو پلے جیسی عادت ساز خصوصیات پر پابندی لگانے اور عمر کی تصدیق کے سخت نظام متعارف کرانے جیسے اقدامات پر رائے طلب کی گئی تھی۔
مزید پڑھیں:نیشنل ہیلتھ سروسز کیلئے 22 ارب روپے کا بجٹ مختص، اہم تفصیلات سامنے آگئیں
مشاورت کے نتائج کی بنیاد پر حکومت بچوں کے تحفظ کے لیے آئندہ پالیسی اور قانون سازی کے حوالے سے فیصلے کرے گی۔