ترک صدر رجب طیب اردوان نے کہا ہے کہ سعودی عرب کے ساتھ ترکیہ کے تعلقات محض دوطرفہ نہیں بلکہ پورے خطے کے امن، استحکام اور خوشحالی کے لیے اسٹریٹجک اہمیت رکھتے ہیں۔

ترک صدر منگل کو سرکاری دورے پر ریاض پہنچے۔ عرب اخبار ’الشرق الاوسط‘ کو انٹرویو دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ان کا دورہ خطے کے اہم مسائل، بالخصوص غزہ اور شام کی صورتحال پر مشاورت بڑھانے اور ترکیہ سعودی تعلقات کو نئی وسعت دینے کے لیے ہے۔

انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ترکیہ ایران اور امریکا کے درمیان بڑھتی کشیدگی کم کرانے کے لیے ثالثی کا کردار ادا کرنے کو تیار ہے اور کسی بھی ایسی کارروائی کی مخالفت کرتا ہے جو خطے کو جنگ کی طرف لے جائے۔

ترکیہ سعودی تعلقات: صرف دوطرفہ نہیں، علاقائی استحکام کی ضمانت

صدر اردوان نے کہا کہ ترکیہ اور سعودی عرب 2 دوست ممالک ہیں جن کے درمیان گہرے تاریخی تعلقات، مضبوط ریاستی روایات اور خطے کے لیے مشترکہ ذمہ داری کا احساس موجود ہے۔

ان کے مطابق دونوں ممالک کے تعلقات کو کبھی محض دوطرفہ مفادات تک محدود نہیں دیکھا گیا، کیونکہ یہ تعلقات پورے خطے کے لیے امن اور استحکام کی بنیاد فراہم کرتے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ ولی عہد اور وزیر اعظم شہزادہ محمد بن سلمان کے ساتھ سابقہ ملاقاتوں میں نہ صرف دوطرفہ بلکہ علاقائی اور عالمی امور پر بھی تفصیلی گفتگو ہوئی، اور تعاون کو مزید گہرا کرنے کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔

غزہ، شام اور فلسطین ایجنڈے میں سرفہرست

صدر اردوان کے مطابق ان کے دورے کا ایجنڈا غزہ میں مستقل جنگ بندی، فلسطین، اور شام کی صورتحال پر مرکوز ہے۔

انہوں نے کہا کہ اصل مسئلہ غزہ میں جنگ بندی کو مستقل بنانا، شہریوں کا تحفظ، بلا رکاوٹ انسانی امداد کی فراہمی اور جبری نقل مکانی کا مکمل خاتمہ ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ جب تک زمینی سطح پر اعتماد بحال نہیں ہوتا اور مستقل امن قائم نہیں ہوتا، غزہ امن منصوبے کے اگلے مرحلے کی کامیابی ممکن نہیں۔

ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی پر ترکیہ کا مؤقف

صدر اردوان نے خبردار کیا کہ ماضی میں مشرق وسطیٰ میں مسلط کی جانے والی جنگی حکمت عملیوں نے امن کے بجائے تباہی کو جنم دیا، جیسا کہ غزہ، عراق، شام اور افغانستان میں دیکھا جا چکا ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ ترکیہ کسی نئی جنگ یا تباہی کے حق میں نہیں اور ایران کے خلاف کسی بھی فوجی کارروائی کی مخالفت کرتا ہے۔

اردوان کے مطابق ترکیہ ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کم کرانے کے لیے سہولت کار کا کردار ادا کرنے کو تیار ہے، اور اس سلسلے میں سعودی عرب اور پاکستان سمیت دوست ممالک سے مسلسل رابطے میں ہے۔

دفاع، معیشت اور توانائی میں تعاون بڑھانے کا عزم

ترک صدر نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان تعاون صرف معیشت تک محدود نہیں بلکہ دفاعی صنعت، توانائی، سیاحت، ٹرانسپورٹ اور لاجسٹکس جیسے شعبوں میں بھی وسیع امکانات موجود ہیں۔

انہوں نے زور دیا کہ ترکیہ اور سعودی عرب مشترکہ پیداوار، ٹیکنالوجی کی منتقلی اور تربیت کے ذریعے دفاعی تعاون کو مضبوط بنانا چاہتے ہیں۔

شام: اتحاد، خودمختاری اور دہشتگردی سے پاک مستقبل پر زور

شام سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے صدر اردوان نے کہا کہ شام کی علاقائی سالمیت، قومی اتحاد اور ریاستی رِٹ کی بحالی ہی دیرپا امن کی ضمانت ہے۔

انہوں نے کہا کہ ترکیہ شام کے مستقبل کو شامی عوام کی مرضی کے مطابق دیکھنا چاہتا ہے اور سعودی عرب سمیت دوست ممالک کے ساتھ مل کر شام کے استحکام کے لیے ہر مثبت قدم کی حمایت کرے گا۔

سوڈان میں جنگ، ترکیہ کی ثالثی اور انسانی امداد

صدر اردوان نے سوڈان کی صورتحال پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جنگ کو ایک ہزار دن مکمل ہو چکے ہیں اور عوام شدید مشکلات کا شکار ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ ترکیہ نے ثالثی کی پیشکش کے ساتھ ساتھ انسانی امداد، فضائی پروازوں، اور تعمیر نو کے اقدامات بھی کیے ہیں، جن میں 12,600 ٹن امداد اور 30 ہزار خیمے شامل ہیں۔

اسرائیل کی جانب سے صومالی لینڈ کو تسلیم کرنا ناقابل قبول

صدر اردوان نے اسرائیل کے صومالی لینڈ کو تسلیم کرنے کے فیصلے کو غیر قانونی اور کالعدم قرار دیا۔

انہوں نے کہا کہ ترکیہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق صومالیہ کی علاقائی سالمیت کا مکمل دفاع کرتا رہے گا، اور اسرائیلی حکومت کے اقدامات پورے افریقہ کے لیے خطرہ ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: انہوں نے کہا کہ صدر اردوان نے کے درمیان کہ ترکیہ کے مطابق کے ساتھ کے لیے خطے کے

پڑھیں:

حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا

وفاقی وزیر اوورسیز پاکستانیز چوہدری سالک حسین نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آج کا دن پاکستان میں لیبر مائیگریشن کے نظم و نسق کو مضبوط بنانے کی جانب ایک اہم سنگ میل ہے۔ یہ پالیسی ہر اس پاکستانی سے کیے گئے قومی عزم کی عکاس ہے جو بہتر مواقع کی تلاش میں اپنا گھر چھوڑتا ہے۔انہوں نے کہا کہ محفوظ اور منظم نقل مکانی، مہارتوں کی ترقی، کارکنوں کا تحفظ، تارکینِ وطن کی شمولیت اور وطن واپس آنے والوں کی بحالی اس پالیسی کے بنیادی ستون ہیں۔ تکنیکی جدت، آبادیاتی تبدیلیاں اور لیبر مارکیٹ کے بدلتے ہوئے تقاضے دنیا بھر کی معیشتوں کو نئی شکل دے رہے ہیں. اس لیے پاکستان کو اپنی افرادی قوت کو آج اور مستقبل دونوں کے مواقع کے لیے تیار کرنا ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 اس سمت میں ایک اہم قدم اور پاکستان کی افرادی قوت کو مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے میں سنگ میل ثابت ہوگی۔چوہدری سالک حسین نے کہا کہ ایک کروڑ 20 لاکھ پاکستانی دنیا بھر میں مقیم ہیں اور اپنی پیشہ ورانہ مہارت، دیانت داری اور محنت کی بدولت پاکستان کے سفیر بن چکے ہیں۔ گزشتہ مالی سال میں سمندر پار پاکستانیوں نے 41 ارب امریکی ڈالر سے زائد کی ترسیلاتِ زر وطن بھیجیں، جو ملکی تاریخ کی بلند ترین رقم ہے۔ انہوں نے کہا کہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی کامیابی پاکستان کی کامیابی ہے اور ان کی فلاح و بہبود ہماری قومی ذمہ داری ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ پالیسی اداروں، تجربات اور شراکت داریوں کو ایک مشترکہ وژن کے تحت یکجا کرتی ہے تاکہ ہر پاکستانی کارکن نقل مکانی کے پورے سفر کے دوران بہتر طور پر تیار، محفوظ اور معاونت یافتہ ہو۔ اس پالیسی کا محور ہر اس پاکستانی کا سفر ہے جو مواقع کی تلاش میں اپنا گھر چھوڑتا ہے، جبکہ ذمہ داری روانگی سے پہلے ہی شروع ہو جاتی ہے، جہاں نوجوان کارکنوں کو متعلقہ مہارتیں، قابلِ اعتماد معلومات اور اخلاقی بھرتی تک رسائی فراہم کی جائے گی۔وفاقی وزیر نے کہا کہ اس پالیسی کی کامیابی وفاقی اور صوبائی حکومتوں، نفاذ کرنے والے اداروں، آجروں، تربیتی اداروں، ترقیاتی شراکت داروں، نجی شعبے اور سمندر پار پاکستانیوں کے باہمی تعاون سے مشروط ہے۔ انہوں نے صوبائی حکومتوں، آئی سی ایم پی ڈی (ICMPD)، دیگر ترقیاتی شراکت داروں اور تمام اسٹیک ہولڈرز کا مشاورتی عمل میں تعاون پر شکریہ ادا کیا، جبکہ اسپیشل انویسٹمنٹ فیسیلیٹیشن کونسل (SIFC) کی مسلسل معاونت کو بھی سراہا۔انہوں نے کہا کہ ہجرت یا نقل مکانی غیر یقینی کا سفر نہیں بلکہ مواقع، وقار اور قومی ترقی کا راستہ ہونا چاہیے۔ آئیں مل کر ایسا مستقبل بنائیں جہاں ہر پاکستانی اعتماد کے ساتھ بیرون ملک جائے، فخر کے ساتھ وطن واپس آئے اور ہمیشہ ایک ایسی قوم سے جڑا رہے جو اس کی خدمات کی قدر اور عزت کرتی ہو۔ انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ اس وژن کو عوام کے لیے بامعنی ترقی، پاکستان کے لیے دیرپا خوشحالی اور ہر سمندر پار پاکستانی اور اس کے خاندان کے روشن مستقبل کا ذریعہ بنائے۔

متعلقہ مضامین

  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
  • علی الزیدی کا ایران کا اہم دورہ، دوطرفہ تعلقات بڑھانے پر اتفاق
  • سعودی توانائی معاہدہ ابراہیمی معاہدوں سے مشروط، وائٹ ہاؤس نے ٹرمپ کا مؤقف دہرا دیا
  • اہم ٹیلیفونک رابطہ، پاکستان سعودی عرب کے ساتھ کھڑا، سہیل آفریدی پر الزام، مریم نواز اور بلاول کے ایک دوسرے پر تابڑ توڑ حملے
  • صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ
  • حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
  • سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان
  • فیلڈ مارشل، میں اور قوم سعودیہ کیساتھ ہیں، وزیراعظم کا ولی عہد سے رابطہ، آئل ٹینکرز پر حملے کی مذمت
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم