فلسطین کے حق میں مظاہرے: ٹرمپ کا ہارورڈ یونیورسٹی پر ایک ارب ڈالر ہرجانے کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 4th, February 2026 GMT
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ ان کی انتظامیہ ہارورڈ یونیورسٹی پر ایک ارب ڈالر ہرجانے کا دعویٰ کر رہی ہے۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق صدر ٹرمپ کا یہ مطالبہ ان وفاقی تحقیقات کے تناظر میں سامنے آیا ہے جس میں نیورسٹی کی پالیسیوں اور کیمپس کے ماحول کے یہود دشمن ہونے کا انکشاف کیا گیا تھا۔
امریکی صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر بیان دیتے ہوئے کہا کہ ہم اب ایک ارب ڈالر ہرجانے کا مطالبہ کر رہے ہیں اور مستقبل میں ہارورڈ یونیورسٹی سے ہمارا کوئی مزید تعلق نہیں ہونا چاہیے۔
انہوں نے یہ واضح نہیں کیا کہ یہ رقم کس بنیاد پر طے کی گئی یا کن مخصوص نقصانات کے ازالے کے لیے مانگی جا رہی ہے۔
ہارورڈ یونیورسٹی نے فوری طور پر صدر ٹرمپ کے اس نئے مطالبے پر کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا۔
ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ گزشتہ کئی ماہ سے ہارورڈ سمیت متعدد امریکی جامعات کو خبردار کر رہی ہے کہ اگر انہوں نے کیمپس میں مبینہ یہود مخالف سرگرمیوں، فلسطین کے حق میں ہونے والے مظاہروں، تنوع (diversity) پروگرامز اور ٹرانس جینڈر پالیسیوں پر نظرثانی نہ کی تو وفاقی فنڈنگ روکی جا سکتی ہے۔
انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ غزہ جنگ کے دوران ہونے والے فلسطین نواز مظاہروں میں بعض مواقع پر یہود دشمن نعروں اور رویوں کو برداشت کیا گیا، جس سے یہودی اور اسرائیلی طلبہ کے لیے ماحول معاندانہ ہو گیا۔
جس پر ٹرمپ حکام اور ہارورڈ یونیورسٹی کی انتظامیہ کے درمیان کئی ماہ سے بات چیت جاری ہے۔
صدر ٹرمپ نے ستمبر میں کہا تھا کہ ایک سمجھوتہ قریب ہے جس میں ہارورڈ کی جانب سے 500 ملین ڈالر کی ادائیگی شامل ہو سکتی ہے۔
ہارورڈ نے بھی گزشتہ سال ٹرمپ انتظامیہ کے خلاف مقدمہ دائر کیا تھا جس پر ایک جج نے قرار دیا کہ حکومت نے یونیورسٹی کی کچھ گرانٹس غیر قانونی طور پر ختم کیں۔
رپورٹس کے مطابق بعض دیگر جامعات حکومت سے سمجھوتہ کر چکی ہیں جن میں کولمبیا یونیورسٹی نے 220 ملین ڈالر سے زائد ادائیگی پر اتفاق کیا۔
اسی طرح براؤن یونیورسٹی نے 50 ملین ڈالر مقامی ورک فورس ڈویلپمنٹ کے لیے دینے کا اعلان کیا ہے۔
دوسری جانب مظاہرین اور بعض یہودی گروپس کا بھی کہنا ہے کہ اسرائیل کی پالیسیوں پر تنقید یا فلسطینیوں کے بنیادی حقوق کی حمایت کو یہود دشمنی قرار دینا درست نہیں۔
ادھر ایک داخلی رپورٹ اور حکومتی تحقیقات کے مطابق ہارورڈ کیمپس میں یہودی اور اسرائیلی طلبہ کو شدید سماجی و تعلیمی دباؤ کا سامنا رہا اور یونیورسٹی انتظامیہ اس صورتحال سے مؤثر طور پر نمٹنے میں ناکام رہی۔
انسانی حقوق کے حلقوں نے بھی ٹرمپ انتظامیہ کی تحقیقات پر آزادی اظہار اور تعلیمی خودمختاری کے حوالے سے تحفظات ظاہر کیے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان کھیل ہارورڈ یونیورسٹی
پڑھیں:
اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر میں اضافہ، مرکزی بینک کے ذخائر 17.25 ارب ڈالر سے تجاوز کر گئے
اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے زرمبادلہ ذخائر میں گزشتہ ہفتے کے دوران اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس کے بعد مرکزی بینک کے پاس موجود غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر 17 ارب 25 کروڑ 86 لاکھ ڈالر تک پہنچ گئے ہیں۔ ماہرین نے اس پیش رفت کو ملکی مالیاتی استحکام اور بیرونی ادائیگیوں کی صلاحیت کے لیے مثبت اشارہ قرار دیا ہے۔
اسٹیٹ بینک کے ترجمان کی جانب سے جاری اعداد و شمار کے مطابق 18 جولائی کو ختم ہونے والے ہفتے کے دوران مرکزی بینک کے زرمبادلہ ذخائر میں3 کروڑ 30 لاکھ ڈالر کا اضافہ ہوا۔ ترجمان کے مطابق یہ اضافہ بیرونی ادائیگیوں کے مؤثر انتظام اور مالیاتی استحکام کے تناظر میں اہم پیش رفت ہے۔
اگرچہ اسٹیٹ بینک کے ذخائر میں اضافہ ہوا، تاہم ملک کے مجموعی زرمبادلہ ذخائر معمولی کمی کے بعد 22 ارب 66 کروڑ 96 لاکھ ڈالر کی سطح پر آ گئے ہیں۔
اعداد و شمار کے مطابق کمرشل بینکوں کے پاس موجود غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر 5 ارب 41 کروڑ 10 لاکھ ڈالر ریکارڈ کیے گئے، جس کے باعث مجموعی ذخائر میں معمولی کمی دیکھنے میں آئی۔
معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ اسٹیٹ بینک کے ذخائر میں مسلسل اضافہ اس بات کی علامت ہے کہ پاکستان کی بیرونی ادائیگیوں کی صلاحیت بہتر ہو رہی ہے، جبکہ درآمدی بل کی ادائیگی اور روپے کے استحکام کے لیے بھی یہ مثبت پیش رفت سمجھی جا رہی ہے۔
تاہم ماہرین نے اس بات کی بھی نشاندہی کی کہ مجموعی زرمبادلہ ذخائر میں کمی ظاہر کرتی ہے کہ کمرشل بینکوں کے ذخائر میں اتار چڑھاؤ کا سلسلہ برقرار ہے، جس پر مسلسل نظر رکھنے کی ضرورت ہے۔
اقتصادی ماہرین کے مطابق اگر آنے والے ہفتوں میں ترسیلاتِ زر، بیرونی سرمایہ کاری، برآمدات اور بین الاقوامی مالی معاونت کا سلسلہ برقرار رہا تو پاکستان کے زرمبادلہ ذخائر میں مزید بہتری آنے کا امکان ہے، جس سے ملکی معیشت اور مالیاتی استحکام کو مزید تقویت مل سکتی ہے۔