کشمیری عوام 77 سال سے غلامی کی زندگی گزار رہے ہیں، طاہر کھوکھر
اشاعت کی تاریخ: 4th, February 2026 GMT
سابق وزیر آزاد حکومت کا کہنا تھا کہ کشمیر کی آزادی صرف نعروں اور بیانات سے ممکن نہیں اگر ایسا ہوتا تو آج کشمیر آزاد ہوتا۔ اسلام ٹائمز۔ پاسبان وطن پاکستان کے مرکزی صدر سابق وزیر سیاحت و ٹرانسپورٹ محمد طاہر کھوکھر نے مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ کشمیری عوام 77 سال سے غلامی کی زندگی گزار رہے ہیں اور نہ انہیں معاشرتی آزادی حاصل ہے اور نہ ہی مذہبی انہوں نے کہا کہ کشمیری عوام ہمارے جسم کا حصہ ہیں انہیں چوٹ پہنچتی ہے تو ہمیں بھی درد ہوتا ہے۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے طاہر کھوکھر نے کہا کہ یہ ہمارے حکمرانوں اور پوری دنیا کے لیے شرم کا مقام ہے کہ وہ کشمیری عوام کی آزادی کے لیے کوئی عملی کردار ادا نہیں کر سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ کشمیر کی آزادی صرف نعروں اور بیانات سے ممکن نہیں اگر ایسا ہوتا تو آج کشمیر آزاد ہوتا۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ کشمیریوں کو ہماری عملی جدوجہد اور توجہ کی ضرورت ہے ہم مقبوضہ کشمیر کی عوام کو یقین دلاتے ہیں کہ ہم ان کے ساتھ ہیں اور ان کے لیے ہر محاذ اور ہر فورم پر ان کی آواز بن کر بولیں گے اور ان کی آزادی کے لیے لڑیں گے۔ انڈیا نے کشمیریوں کا استحصال کیا، کشمیری عوام کو شہید کیا اور بے گناہ کشمیریوں کو بدنام زمانہ جیلوں میں پابند سلاسل رکھا ہوا ہے، ہماری حریت قیادت کو یا تو نظربند یا پھر جیلوں میں قید رکھا ہوا ہے تاکہ کشمیری عوام کی آزادی کی تحریک کو دبایا جا سکے مگر کشمیری جنگجو، بہادر، پہاڑی قوم ہے وہ جھکنے والی نہیں ہیں، ان کے حوصلے بلند ہیں، کشمیری مائوں نے جنگجو پیدا کیے ہیں جو 77سال سے ٹوٹے نہیں۔ انڈیا کے سامنے ڈٹ کر کھڑے ہیں جن پر بھارت نے 10لاکھ سے زائد فوج، بدنام ایجنسیاں، ہندوں دہشت گرد تنظیمیں مسلط کی ہوئی ہیں مگر ان کا حوصلہ نہیں توڑ سکی ہیں، ہم کشمیری مائوں اوربھائیوں کی ہمت کو سلام پیش کرتے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: کشمیری عوام کہ کشمیری کی ا زادی کہ کشمیر کے لیے
پڑھیں:
مہاجرین کی نشستوں کے مستقبل پر بڑا فیصلہ قریب، اہم پیش رفت سامنے آگئی
مظفرآباد: مہاجرین کی نشستیں آزاد جموں و کشمیر کی سیاست میں ایک بار پھر توجہ کا مرکز بن گئی ہیں، جہاں ان نشستوں کے مستقبل سے متعلق اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت نے اس معاملے پر نرم رویہ اختیار کرتے ہوئے مکمل خاتمے کے بجائے نشستوں کی تعداد میں کمی کی تجویز پر غور شروع کر دیا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ وادی کشمیر سے تعلق رکھنے والے مہاجرین کی چھ نشستیں کم کرنے کی ابتدائی تجویز زیر غور ہے۔ اس پیش رفت کو انتخابی اصلاحات کے حوالے سے ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے، جس سے طویل عرصے سے جاری سیاسی بحث کو کسی نتیجے تک پہنچانے میں مدد مل سکتی ہے۔
اطلاعات کے مطابق وفاقی حکومت جلد آزاد کشمیر کی قیادت کو اپنے مؤقف سے آگاہ کرے گی۔ اس سلسلے میں وزیراعظم آزاد کشمیر کی جانب سے جوائنٹ پبلک ایکشن کمیٹی سے رابطے کا بھی امکان ظاہر کیا جا رہا ہے تاکہ مختلف سیاسی اور سماجی حلقوں کو اعتماد میں لیا جا سکے۔
دوسری جانب آزاد کشمیر میں انتخابی اصلاحات کے موضوع پر کل ہونے والی آل پارٹیز کانفرنس بھی غیر معمولی اہمیت اختیار کر گئی ہے۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ مہاجرین کی نشستیں کم کرنے کی تجویز پر اتفاق رائے پیدا ہونے سے انتخابی نظام میں اصلاحات کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔
ذرائع کے مطابق اس معاملے پر مختلف سیاسی جماعتوں اور اسٹیک ہولڈرز کے درمیان مشاورت جاری ہے، جبکہ وفاقی حکومت بھی ایسا حل تلاش کرنے کی کوشش کر رہی ہے جو تمام فریقوں کے لیے قابل قبول ہو۔
سیاسی حلقوں کا ماننا ہے کہ اگر اس معاملے پر اتفاق رائے پیدا ہو جاتا ہے تو یہ آزاد کشمیر کی سیاسی تاریخ میں ایک اہم سنگ میل ثابت ہو سکتا ہے۔