ڈزنی کا اگلا سی ای او کون؟ نام سامنے آگیا
اشاعت کی تاریخ: 4th, February 2026 GMT
دی والٹ ڈزنی کمپنی نے اعلان کیا ہے کہ اس کے تھیم پارکس ڈویژن کے سربراہ جوش ڈی امارو کو کمپنی کا نیا چیف ایگزیکٹو آفیسر (سی ای او) مقرر کر دیا گیا ہے۔ وہ 18 مارچ کو باب آئیگر کی جگہ عہدہ سنبھالیں گے، جو تقریباً دو دہائیوں تک دو مختلف ادوار میں ڈزنی کی قیادت کرتے رہے۔
کمپنی کے مطابق 54 سالہ جوش ڈی امارو کی تقرری بورڈ آف ڈائریکٹرز کے متفقہ فیصلے کے تحت کی گئی۔ بورڈ کے چیئرمین جیمز گورمن نے کہا کہ ڈی امارو میں متاثر کن قیادت، جدت پسندی، اسٹریٹجک ترقی کی صلاحیت اور ڈزنی برانڈ کے لیے گہرا جذبہ موجود ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ڈزنی لینڈ میں افسوسناک واقعہ: جھولے کی سواری کے دوران 60 سالہ خاتون کا انتقال
جوش ڈی امارو گزشتہ 28 برسوں سے ڈزنی سے وابستہ ہیں اور اس وقت کمپنی کے سب سے بڑے کاروباری شعبے، پارکس اینڈ ایکسپیرینسز، کی نگرانی کر رہے ہیں۔ یہ شعبہ مالی سال 2025 میں 36 ارب ڈالر کی آمدنی حاصل کر چکا ہے اور دنیا بھر میں 12 تھیم پارکس اور 57 ریزورٹ ہوٹلز کے ذریعے ایک لاکھ پچاسی ہزار سے زائد افراد کو روزگار فراہم کر رہا ہے۔
ڈی امارو کی قیادت میں ’اسٹار وارز: گلیکسیز ایج‘ جیسے بڑے منصوبے مکمل کیے گئے جبکہ ابو ظہبی میں نئے تھیم پارک کے منصوبے پر بھی کام جاری ہے۔ اس کے علاوہ ڈزنی نے ایپک گیمز کے ساتھ شراکت داری کے تحت فورٹ نائٹ میں اپنے کرداروں کی شمولیت کا منصوبہ بھی شروع کیا۔
یہ بھی پڑھیں: دنیا کے 12ڈزنی پارکوں کی صرف 12دن میں سیر
باب آئیگر نے اپنے بیان میں جوش ڈی امارو کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ انہیں ڈزنی برانڈ کی فطری سمجھ اور سامعین کی پسند ناپسند کا گہرا ادراک حاصل ہے۔ اسی موقع پر ڈانا والڈن، جو ڈزنی انٹرٹینمنٹ کی شریک چیئرمین ہیں ان کو صدر اور چیف کری ایٹو آفیسر مقرر کیا گیا ہے جو ایک نیا عہدہ ہے۔ وہ براہ راست جوش ڈی امارو کو رپورٹ کریں گی اور کمپنی کے تخلیقی امور کی نگرانی کریں گی۔
کمپنی کے اعلامیے کے مطابق باب آئیگر دسمبر 2026 تک سینئر ایڈوائزر کے طور پر خدمات انجام دیتے رہیں گے جس کے بعد وہ ریٹائر ہو جائیں گے۔ آئیگر کے دورِ قیادت میں ڈزنی نے پکسر، مارول، لوکاس فلم اور 21st سنچری فاکس جیسے بڑے ادارے خریدے، چین میں شنگھائی ڈزنی ریزورٹ قائم کیا اور ڈزنی پلس اور ای ایس پی این پلس اسٹریمنگ سروسز کا آغاز کیا۔
یہ بھی پڑھیں: دنیا بھر میں بچوں میں مقبول مزاحیہ شو ’دی مپٹ‘ طویل وقفے کے بعد دوبارہ اسکرین پر، ٹریلر جاری
واضح رہے کہ باب آئیگر نے فروری 2020 میں سی ای او کے عہدے سے استعفیٰ دیا تھا اور باب چیپک کو ذمہ داریاں سونپی گئی تھیں تاہم کووڈ-19 کے دوران اختلافات کے بعد نومبر 2022 میں چیپک کو برطرف کر دیا گیا اور آئیگر دوبارہ سی ای او بن گئے۔
آئیگر کی واپسی کے بعد کمپنی نے اخراجات میں کمی، ہزاروں ملازمین کی چھانٹی، اور تنظیمی ڈھانچے میں اصلاحات کیں جبکہ اسٹریمنگ بزنس میں ہونے والے نقصانات پر قابو پانے کی کوششیں بھی کی گئیں۔
یہ بھی پڑھیں: دنیا کے سب سے زیادہ انسٹاگرام کیے جانے والے سیاحتی مقامات کون سے ہیں؟
یہ قیادت کی تبدیلی ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب ڈزنی کو روایتی میڈیا اور ویڈیو اسٹریمنگ کے شعبوں میں سخت مسابقت اور دباؤ کا سامنا ہے۔ ڈزنی پلس کو 2019 میں نیٹ فلکس کے مقابلے کے لیے متعارف کرایا گیا تھا جسے منافع بخش بننے میں کئی سال لگے۔
ڈزنی اس کے ساتھ ساتھ مصنوعی ذہانت کے شعبے میں بھی قدم رکھ رہی ہے، جہاں دسمبر میں ایک تین سالہ لائسنسنگ معاہدہ کیا گیا ہے جس کے تحت صارفین مصنوعی ذہانت کے ذریعے ڈزنی کے مشہور کرداروں پر مبنی مختصر ویڈیوز تیار کر سکیں گے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
دی والٹ ڈزنی کمپنی ڈزنی.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: دی والٹ ڈزنی کمپنی جوش ڈی امارو یہ بھی پڑھیں باب آئیگر کمپنی کے سی ای او کے بعد
پڑھیں:
وسائل پر قبضے کی جنگ: افغان طالبان میں اختلافات کھل کر سامنے آگئے
افغانستان کے صوبے بدخشاں میں سونے کی کانوں، غیر قانونی دولت، مسلح گروہوں کے باہمی مفادات اور قدرتی وسائل پر کنٹرول کے تنازع نے طالبان حکومت کے اندر بڑھتے ہوئے اختلافات کو نمایاں کردیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق بدخشاں کی صورتحال طالبان کے سرکاری بیانیے سے مختلف تصویر پیش کرتی ہے، جہاں مختلف دھڑے عوامی فلاح یا حکمرانی کے بجائے سونے کے ذخائر، منشیات سے حاصل ہونے والی آمدنی، غیر قانونی مالی فوائد اور طاقت کے حصول کے لیے ایک دوسرے کے مدمقابل دکھائی دیتے ہیں۔
سونے کے ذخائر پر کشمکش، قندھاری قیادت پر الزاماتبدخشاں میں سونے کی کانوں پر جاری تنازع نے طالبان کے اندر موجود گہرے اختلافات کو نمایاں کر دیا ہے۔
مقامی سطح پر اس بات پر ناراضی پائی جاتی ہے کہ قندھاری طالبان قیادت مبینہ طور پر کانوں، آمدنی کے ذرائع، ریاستی اختیارات اور معاشی فوائد پر اپنا کنٹرول مضبوط کرنے کی کوشش کر رہی ہے، جبکہ مقامی طالبان عناصر کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔
10 ہزار جنگجوؤں کا دعویٰ، انتظامی بیان یا طاقت کا مظاہرہ؟صوبہ زابل کے طالبان نائب گورنر ملا جمعہ خان فتح کی جانب سے 10 ہزار جنگجوؤں پر کمانڈ رکھنے کا دعویٰ بھی توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق یہ بیان ایک فعال انتظامیہ کے نمائندے کے بجائے ایسے مسلح دھڑے کے رہنما کا تاثر دیتا ہے جو دولت، اثر و رسوخ اور اختیار کی اندرونی کشمکش میں اپنی طاقت دکھانے کے لیے تیار ہے۔
تحقیقات کا حکم، بدعنوانی کے اعتراف کے مترادف قرارطالبان رہنما کی جانب سے غیر قانونی کان کنی، منشیات کی تجارت اور شہریوں پر مظالم کے الزامات کی تحقیقات کا حکم اس بات کا اعتراف سمجھا جا رہا ہے کہ طالبان نظامِ حکومت کے اندر مجرمانہ مالی مفادات، وسائل کے استحصالی استعمال اور اختیارات کے ناجائز استعمال کے مسائل موجود ہیں۔
اسلامی انصاف کا دعویٰ سوالات کی زد میںرپورٹ میں کہا گیا ہے کہ طالبان اقتدار سنبھالنے کے بعد بعض عہدیداروں کی اچانک بڑھتی ہوئی دولت، کانوں پر کنٹرول کے لیے دھڑوں کی کشمکش اور ہزاروں جنگجوؤں تک رسائی کے دعوے طالبان کے ’اسلامی انصاف‘ کے بیانیے کو کمزور کرتے ہیں۔ اس صورتحال کو وسائل کی لوٹ مار، عسکری بدعنوانی اور جنگجو سرداروں کی طرز کی سیاست سے تشبیہ دی گئی ہے۔
بدخشاں طالبان طرز حکمرانی کی عکاس تصویررپورٹ کے مطابق بدخشاں میں سونے کے مافیا، منشیات پر مبنی معیشت، مسلح سرپرستی کے نظام، شہریوں کو دباؤ میں رکھنے کے حربے اور مختلف جنگجو گروہوں کے درمیان مسابقت طالبان حکمرانی کی ایک واضح تصویر پیش کرتی ہے۔
اس صورتحال میں مقامی آبادی استحصال کا سامنا کررہی ہے جبکہ طالبان کے مختلف حلقے وسائل اور اثر و رسوخ کے حصول کی دوڑ میں مصروف ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق طالبان نے اقتدار میں آنے سے قبل نظم و ضبط، احتساب اور بدعنوانی کے خاتمے کے وعدے کیے تھے، تاہم بدخشاں کی صورتحال قندھاری قیادت کے مبینہ اختیارات پر قبضے، اندرونی اختلافات، معدنی وسائل کی لوٹ مار، منشیات سے جڑی بدعنوانی اور مسلح گروہی طرز عمل کو نمایاں کرتی ہے، جس سے یہ تاثر ابھرتا ہے کہ طالبان حکومت ایک مرکزی ریاستی نظام کے بجائے مختلف مسلح نیٹ ورکس کے اتحاد کی صورت اختیار کر چکی ہے جو اقتدار اور وسائل کی تقسیم پر باہمی کشمکش میں مبتلا ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews اختلافات افغان طالبان وسائل پر قبضے کی جنگ وی نیوز