سعودی ولی عہد اور روسی صدر کا ٹیلیفونک رابطہ، عالمی سطح پر بدلتی صورتحال پر گفتگو
اشاعت کی تاریخ: 4th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
ریاض، ماسکو: سعودی عرب اور روس کے درمیان سفارتی روابط کو مزید مستحکم کرنے کے لیے اعلیٰ سطح پر ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان اور روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کے درمیان تفصیلی ٹیلی فونک رابطہ ہوا، جس میں دوطرفہ تعلقات کے ساتھ ساتھ خطے اور عالمی سطح پر بدلتی صورتحال پر جامع تبادلہ خیال کیا گیا۔
سعودی پریس ایجنسی کے مطابق رابطے کے دوران دونوں رہنماؤں نے سعودی۔روسی تعلقات کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لیا اور باہمی تعاون کو مزید وسعت دینے پر اتفاق کیا۔ گفتگو میں اس بات پر زور دیا گیا کہ دونوں ممالک کے تعلقات نہ صرف اقتصادی مفادات سے جڑے ہیں بلکہ عالمی استحکام اور مشترکہ چیلنجز کے تناظر میں بھی اہم حیثیت رکھتے ہیں۔
ٹیلی فونک رابطے میں توانائی کے شعبے کو خصوصی اہمیت دی گئی، جو سعودی عرب اور روس کے درمیان تعاون کا ایک مرکزی ستون سمجھا جاتا ہے۔ دونوں رہنماؤں نے عالمی توانائی منڈی میں استحکام، تیل کی قیمتوں اور پیداوار سے متعلق امور پر بھی خیالات کا تبادلہ کیا اور اس شعبے میں ہم آہنگی برقرار رکھنے کے عزم کا اظہار کیا۔
علاوہ ازیں معیشت، سرمایہ کاری اور دیگر اسٹریٹجک شعبوں میں تعاون بڑھانے پر بھی گفتگو ہوئی۔ دونوں رہنماؤں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ بدلتے عالمی حالات میں قریبی مشاورت اور رابطہ نہایت ضروری ہے تاکہ دونوں ممالک اپنے قومی مفادات کے ساتھ ساتھ عالمی ذمہ داریوں کو بھی مؤثر انداز میں نبھا سکیں۔
گفتگو کے دوران علاقائی سطح پر جاری اہم پیش رفت پر بھی تفصیل سے بات کی گئی۔ مشرق وسطیٰ، یورپ اور دیگر حساس خطوں میں ہونے والی تبدیلیوں کو مدنظر رکھتے ہوئے فریقین نے سفارتی تعاون کو مضبوط رکھنے کی ضرورت پر زور دیا۔ اس کے ساتھ ساتھ عالمی سطح پر امن و استحکام کے فروغ کے لیے مشترکہ کوششوں کی اہمیت کو بھی اجاگر کیا گیا۔
ٹیلی فونک رابطے کے اختتام پر سعودی ولی عہد اور روسی صدر نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ باہمی دلچسپی کے امور پر رابطے کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا۔ دونوں رہنماؤں نے مستقبل میں بھی اعلیٰ سطحی مشاورت اور تعاون کو فروغ دینے پر اتفاق کیا، جسے عالمی سفارتی حلقوں میں ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
گورنر خیبرپختونخوا سے ترک سفیر کی ملاقات ، باہمی تعاون ،دوطرفہ امور پر تبادلہ خیال
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی سے ترک سفیر ڈاکٹر عرفان نذیر اوغلو نے ملاقات کی،جس میں پاک ترک تعلقات، باہمی تعاون اور دوطرفہ امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔منگل کو گورنر آفس اسلام آباد سے جاری بیان کے مطابق ملاقات میں پاکستان اور ترکیہ کے برادرانہ تعلقات مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اظہار کیا گیا۔دونوں رہنماؤں کے درمیان تجارت، سرمایہ کاری، تعلیم اور ثقافت کے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر گفتگو ہوئی اورخیبرپختونخوا اور ترکیہ کے درمیان اقتصادی روابط کے فروغ پر تبادلہ خیال کیا گیا۔اس موقع پرگورنر خیبرپختونخوانے کہا کہ پاک۔بھارت جنگ میں ترکیہ نے پاکستان کا بھرپور ساتھ دیا،نئی نسل کو پاک ترک دوستی میں متحرک کرنا انتہائی ضروری ہے۔(جاری ہے)
انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا کے تاجروں اور طلبہ کے ترکیہ دوروں کا سلسلہ شروع کیا جائے،دونوں ممالک کے ثقافتی اور ادبی وفود کے دورے بھی انتہائی ضروری ہیں، ایسے اقدامات سے ترکیہ اور پاکستان دوستی مزید مضبوط ہو گی۔گورنر خیبرپختونخوا نے کہا کہ زراعت کے شعبہ میں بھی دونوں ممالک بالخصوص خیبرپختونخوا میں ترقی اور سرمایہ کاری کے وسیع امکانات ہیں۔ گورنر خیبرپختونخوا نے پشاور کو ترکیہ کے کسی بڑے شہر کے ساتھ سسٹر سٹی قرار دینے کی تجویز پیش کی۔ترک سفیر نے بتایا کہ پشاور کو ترکیہ کے ایک شہر کے ساتھ سسٹر سٹی قرار دیا جائے گا، پاکستان کے نوجوانوں کو آئی ٹی اور جدید ٹیکنالوجی کے شعبوں میں تربیت کے مواقع فراہم کرنے کے لئے تعاون کریں گے۔ ترک سفیر نے وزیراعظم یوتھ پروگرام کو نوجوانوں کی ترقی کے لئے ایک مثبت اور موثر اقدام قرار دیا۔ترک سفیر نے کہا کہ پاکستان اور ترکیہ کے درمیان تعلیم، ٹیکنالوجی اور نوجوانوں کی استعداد کار بڑھانے کے شعبوں میں تعاون مزید فروغ پائے گا۔ملاقات میں پاکستان پیپلز پارٹی کے خیبر پختونخوا اسمبلی میں پارلیمانی لیڈر احمد کنڈی بھی موجود تھے۔