گزشتہ برس ایک کروڑ 95 لاکھ غیر ملکی عازمین حج و عمرہ کی آمد ہوئی‘ سعودی حکام
اشاعت کی تاریخ: 4th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
ریاض (انٹرنیشنل ڈیسک) سعودی نیشنل سینٹرفار پرفارمینس مینجمنٹ نے کہا ہے کہ گزشتہ سال بیرون ملک سے ایک کروڑ 95 لاکھ عازمین حج اور عمرہ زائرین کی آمد ریکارڈ کی گئی جبکہ 90 فیصد سے زیادہ عازمین نے فراہم کی جانے والی خدمات کو قابل اطمینان قرار دیا ۔ سعودی حکومت کے ضیوف الرحمان خدمت پروگرام نے واضح کیا کہ عازمین کو فراہم کی جانے والی خدمات کے حوالے سے سروے میں 91 فیصد عازمین حج جبکہ 94 فیصد عمرہ زائرین نے ان خدمات کو اطمینان بخش قرار دیا ہے۔ یہ شرح عازمین کی خدمت کے اداروں کی معیاری کارکردگی اور مثالی منصوبہ بندی کو ظاہر کرتی ہے۔عمرہ و حج سیزن کے دوران بڑے پیمانے پر کمیونٹی کی شرکت بھی ریکارڈ کی گئی۔ ایک لاکھ 84 ہزار سے زائد مرد وخواتین رضا کاروں نے ضیوف الرحمان کی رہنمائی میں اہم کردار ادا کیا۔ا ن اعداد وشمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ سعود ی عرب کے باہر سے عازمین حج اور عمرہ زائرین کی تعداد بڑھ رہی ہے۔فراہم کی جانے والی خدمات پر اطمینان اس بات کا عکاس ہے کہ مملکت کے مختلف ادارے حج، عمرہ اور سعودی عرب آنے کے لیے انتظامات میں سعودی وژن 2030 کے عین مطابق آسانیاں پیدا کر رہے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
سیٹلائٹ تصاویر نے کوٹلی ستیاں جنگلات میں لگنے والی بھیانک آگ کی تباہی کی تفصیلات ظاہر کر دیں
سیٹلائٹ تصاویر نے کوٹلی ستیاں کے جنگلات میں لگنے والی حالیہ بھیانک آگ کی تباہی کی تفصیلات ظاہر کر دیں۔
سپارکو کی جانب سے پر جاری کردہ سیٹلائٹ ڈیٹا کے مطابق گرمی کی حالیہ شدید لہر کے باعث جنگلات میں لگنے والی ہولناک آگ نے پنجاب کے ماحولیاتی لحاظ سے حساس علاقے 'کوٹلی ستیاں' کے 25 مقامات پر پھیلے ہوئے تقریباً 3,037 ہیکٹر (7,504.7 ایکڑ) پر مشتمل قدرتی جنگلات کو خاکستر کر دیا ہے۔
9 مئی سے 29 مئی 2026 تک کی سیٹلائٹ تصاویر کا موازنہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ آگ لگنے کے بعد 'چِیڑ' کے جنگلات کو شدید نقصان پہنچا ہے، جو کہ دریائے سندھ اور دریائے جہلم کے اہم ذیلی آبی ذخائر کے لیے انتہائی ضروری ہیں۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اس کے ماحولیاتی اثرات صرف آگ سے جھلسنے والے فوری نقصانات تک محدود نہیں ہیں؛ بلکہ اس آفت نے مقامی پرندوں اور جنگلی حیات کی افزائشِ نسل کے عروج کے سیزن کو شدید متاثر کیا ہے۔
نئے اگنے والے پودوں اور پنیریوں کو تباہ کر دیا ہے، اور اس متاثرہ زمین پر ایسی جڑی بوٹیوں اور جھاڑیوں کے پھیلنے کی راہ ہموار کر دی ہے جو آگ کو برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔
اگرچہ مقامی آبادی اور محکمہ جنگلات کے عملے نے کئی علاقوں میں آگ پر کامیابی سے قابو پا لیا ہے، لیکن تیز اور گرم ہواؤں کے باعث ہمسایہ ڈھلوانوں پر اب بھی آگ پھیل رہی ہے، جس سے ماحول کو مزید نقصان پہنچنے کا خطرہ ہے۔