دوسروں صوبوں میں حکومت جعلی یہاں اصلی، ترقی کیوں نہیں ہورہی؟ طالبہ کا سہیل آفریدی سے سوال
اشاعت کی تاریخ: 4th, February 2026 GMT
پشاور(ڈیلی پاکستان آن لائن)وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی سے تقریب کے دوران طالبہ کا دلچسپ مکالمہ ہوا۔
نجی ٹی وی چینل 24نیوز کے مطابق طالبہ نے سوال کیا جعلی حکومتیں ترقی کر رہی ہیں، کے پی اصلی حکومت میں بھی 13 سال سے کیوں پسماندہ ہو رہا ہے؟ آپ ادھر اُدھر کی باتیں کر رہے ہیں، بتائیں صوبے کو کیا دیا؟
وزیرِ اعلیٰ سہیل آفریدی نے طالبہ کو جواب دیتے ہوئے کہا کہ آپ کا تعلق ضرور اے این پی یا کسی دوسری پارٹی سے ہو گا۔
طالبہ نے کہا کہ جتنی بھی ترقی ہوئی ہے، ایم پی اے اور ایم این اے کے گھروں میں ہوئی، صوبے میں جو کرپشن ہوئی ہے، اس کا آپ نے کیا کیا؟ دوسرے صوبوں سے ہمارے صوبے کا موازنہ کیا جائے کہ ہم نے کتنی ترقی کی ہے۔
خیبرپختونخوا حکومت نے عام تعطیل کا اعلان کر دیا
وزیرِ اعلیٰ سہیل آفریدی نے کہا کہ ہم نے صوبے کے نوجوانوں کو سوال کرنے کا شعور دیا، یہ شعور دیا کہ ایک بہن مجھ سے میری پالیسی پر سوال کر رہی ہیں، اے این پی کے دور میں بم دھماکے ہوتے تھے، این کے دور میں نشتر ہال بند تھا، ہم نے کھول دیا۔
انہوں نے کہا کہ جنوبی پنجاب میں لوگ سکولوں میں جانور باندھتے ہیں، سندھ میں آج بھی ہسپتالوں میں کتے گھوم رہے ہیں، پشاور میں ترقی آرہی ہے، 200 ارب روپے کی سکیمیں لے کر آرہے ہیں، قبائلی اضلاع میں ایک ہزار ارب روپے خرچ ہوں گے۔
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: کہا کہ
پڑھیں:
حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف
حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (حیسکو) میں تنخواہوں اور الاؤنسز کی مد میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کرپشن کا انکشاف ہوا ہے۔
قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں آڈٹ حکام نے انکشاف کیا کہ حیسکو میں گھوسٹ ملازمین، ڈبل تنخواہوں کے ذریعے قومی خزانے کو نقصان پہنچایا گیا اور وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے)99 کروڑ 62 لاکھ کی مبینہ کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے۔
آڈٹ حکام نے مزید انکشاف کیا کہ حیسکو کی اندرونی انکوائری میں مزید 6 کروڑ 78 لاکھ روپے کی مشتبہ ادائیگیاں ہوئی ہیں۔
چیئرمین کمیٹی شاہدہ اختر کی زیرصدارت اجلاس میں ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ اس معاملے میں ایف آئی آرز کی تعداد 5 ہوگئی تھی، 151 ملزمان تھے جن میں سے 14 کو گرفتار کیا گیا جبکہ دیگر ضمانت پر ہیں، ایک ارب روپے میں سے 13 کروڑ روپے کی ریکوری ہوئی ہے۔
رکن کمیٹی قاسم نون نے کہا کہ 13 کروڑ روپے کچھ بھی نہیں ہیں، سخت ایکشن لیا جائے، سید امین الحق نے کہا کہ گھوسٹ ملازمین کی تصدیق بھی کی گئی کہ وہ موجود ہیں۔
سینیٹر افنان اللہ خان نے کہا کہ وزارت کو چاہیے کہ وہ مداخلت کرے اور ذمہ داران کا تعین کرے۔
چیئرمین کمیٹی شاہد اختر نے کہا کہ یہ تو آڈٹ نے نشان دہی کر دی ہے، لگتا ہے کہ پاور ڈویژن کا کوئی چیک اینڈ بیلنس نہیں ہے، جس پر سی ای او حیسکو نے بتایا کہ 756 ملین روپے کی ذمہ داری بھی فکس ہو چکی ہے۔
شاہدہ اختر نے کہا کہ عدالت کے حکم تک یہ آڈٹ پیرا زیر التوا رہے گا، رکن کمیٹی سید حسین طارق نے سوال کیا کہ حیسکو میں بائیو میٹرک سسٹم کیوں نہیں ہے۔
پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) کی رکن شازیہ مری نے کہا کہ ہم ڈسکوز کو یہاں کمنٹس کے لیے نہیں احتساب کے لیے بلاتے ہیں، یہ لوگوں کو چور کہتے ہیں اور اپنی پرفارمنس کے گیت گاتے نہیں تھکتے۔
پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے ہدایت کی کہ 13 کروڑ روپے کی ریکوری کی آڈٹ سے تصدیق کرائی جائے، جو ریکوری رہ گئی ہے وہ معاملہ زیر التوا رہے گا۔