ہمیں ابھی تک کوئی رقم یا چیک نہیں ملا: مقتولہ کے والد ساجد حسین
اشاعت کی تاریخ: 4th, February 2026 GMT
—فائل فوٹو
لاہور میں مین ہول میں گر کر جاں بحق ہونے والی سعدیہ کے والد ساجد حسین نے کہا ہے کہ ہمیں ابھی تک کوئی رقم یا چیک نہیں ملا۔
متقولہ کے والد ساجد حسین سے کمرۂ عدالت میں صحافی کی جانب سے سوال کیا گیا کہ کیا آپ کو ایک کروڑ روپے کا چیک مل گیا ہے؟
ساجد حسین نے جواب دیا کہ ہمیں ابھی تک کوئی رقم یا چیک نہیں ملا۔
یہ بھی پڑھیے مین ہول میں گر کر جاں بحق خاتون کے شوہر غلام مرتضیٰ پر تشدد، وزیرِاعلیٰ پنجاب مریم نواز برہم لاہور: مین ہول میں گر کر جاں بحق خاتون کے شوہر پر پولیس تشدد کی تصدیق لاہور بھاٹی گیٹ واقعہ: خاتون کے شوہر غلام مرتضیٰ کا مؤقف سامنے آگیاصحافی نے پھر ساجد حسین سے سوال کیا کہ کیا آپ معاملے کو صلح صفائی کی طرف لے کر جا رہے ہیں؟
جس پر ساجد حسین نے جواب دیا کہ ابھی ہم صدمے میں ہیں، مجھے آج پہلی بار عدالت نے بلوایا ہے، حاضر ہوا ہوں۔
واضح رہے کہ سانحہ بھاٹی گیٹ میں ماں اور بیٹی کے مین ہول میں گر کر جاں بحق ہونے کے کیس میں ضلع کچہری لاہور کے حکم پر مقتولہ سعدیہ کے والد ساجد اور شوہر مرتضی عدالت کے روبرو پیش ہوئے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: مین ہول میں گر کر جاں بحق کے والد ساجد
پڑھیں:
باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا ،لاہور ہائیکورٹ
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا ہے کہ مالی مشکلات یا کسی نجی معاہدے کی بنیاد پر باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا اور یہ ذمہ داری اسلامی تعلیمات کے مطابق مستقل اور قابل نفاذ فریضہ ہے۔جسٹس محسن اختر کیانی نے 15 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کرتے ہوئے باپ اختر حسین اعوان کی درخواست خارج کر دی اور فیملی کورٹ و اپیلٹ کورٹ کے فیصلے برقرار رکھے۔عدالت نے قرار دیا کہ نابالغ بچے کا نان و نفقہ صرف قانونی نہیں بلکہ اخلاقی اور مذہبی ذمہ داری بھی ہے۔ غیر ادا شدہ نان و نفقہ باپ پر قرض تصور ہوگا جو وقت گزرنے سے ختم نہیں ہو سکتا۔فیصلے میں سور البقرہ، سور الطلاق اور متعدد احادیث نبوی کے حوالے دیتے ہوئے کہا گیا کہ معاہدے یا رضامندی کے ذریعے نابالغ بچے کے حقوق ختم نہیں کیے جا سکتے، خصوصا جب بچہ معذوری کی حالت میں ہو۔(جاری ہے)
درخواست گزار کا موقف تھا کہ 2005 میں فریقین کے درمیان ہونے والے رضامندی نامے کے تحت تاحیات خرچہ طے ہو چکا تھا اور ماضی کے نان و نفقہ کی وصولی قانونا چھ سال سے زائد مدت کے لیے نہیں کی جا سکتی۔عدالت نے ماضی کے نان و نفقہ سے متعلق اسلامی اصولوں کی روشنی میں نئی قانون سازی کی سفارش کرتے ہوئے فیصلے کی نقل لا اینڈ جسٹس کمیشن اور وزارت قانون و انصاف کو ارسال کرنے کا حکم بھی دیا۔