مکہ مکرمہ میں نویں صدی ہجری کا سونے سے مزین تاریخی قرآنی نسخہ نمائش کے لیے پیش
اشاعت کی تاریخ: 4th, February 2026 GMT
مکہ مکرمہ کے حراء ثقافتی محلہ میں واقع قرآن کریم میوزیم میں نویں صدی ہجری سے تعلق رکھنے والے قرآن مجید کے ایک نایاب پارے کو نمائش کے لیے پیش کر دیا گیا ہے۔
یہ تاریخی قرآنی پارہ مصحف شریف کے پچیسویں پارے پر مشتمل ہے اور پندرہویں صدی عیسوی میں تحریر کیا گیا تھا۔
العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق، یہ نادر قرآنی نسخہ بلادِ شام میں نفیس خطِ نسخ میں تحریر کیا گیا ہے، جس پر باریک اور دیدہ زیب نقش و نگار کے ساتھ شاندار زریں آرائش کی گئی ہے۔ اس مخطوطے کی خاص بات یہ ہے کہ لفظ جلالہ کو سونے کے پانی سے تحریر کیا گیا ہے، جو اسلامی خطاطی میں قرآن کریم کے تقدس اور احترام کی اعلیٰ مثال ہے۔
یہ تاریخی پارہ قرآن کریم کو پاروں کی صورت میں ترتیب دینے کی قدیم روایت کی نمائندگی کرتا ہے، جو مسلمانوں کی جانب سے قرآن کریم کی حفاظت اور تدوین کے لیے اختیار کی گئی حکمت عملیوں کو ظاہر کرتا ہے۔
یہ نایاب قرآنی پارہ مرکزِ شاہ فیصل برائے تحقیق اور اسلامی مطالعات کے ذخیرے سے تعلق رکھتا ہے، جسے ثقافتی اشتراک کے تحت قرآن کریم میوزیم میں نمائش کے لیے رکھا گیا ہے۔ اس نمائش کا مقصد قیمتی قرآنی مخطوطات کو عام زائرین کے سامنے لانا اور انہیں اسلامی خطاطی اور تذہیب کے اعلیٰ فن سے روشناس کرانا ہے۔
قرآن کریم میوزیم مکہ مکرمہ کا پہلا خصوصی میوزیم ہے، جو جدید طرزِ نمائش کے ذریعے قرآن مجید کی تاریخ، کتابت اور تدوین کے مختلف مراحل کو اجاگر کرتا ہے۔
یہ میوزیم جبل النور کے قریب واقع ہے، جہاں وحی کی ابتدائی آیات نازل ہوئیں، اور حراء ثقافتی محلہ کا ایک اہم حصہ ہے، جو دینی، تاریخی اور ثقافتی ورثے کو یکجا کرتا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: نمائش کے کرتا ہے کے لیے گیا ہے
پڑھیں:
سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ جوہری معاہدے کے لیے اسرائیل سے تعلقات کی بحالی سے مشروط کردیا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک ’’تاریخی جست‘‘ ثابت ہوگی۔
نیتن یاہو نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ سعودی عرب کی ابراہام معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام اور تعاون کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔
خیال رہے کہ اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے سول جوہری پروگرام کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کرنے کے بعد سامنے آیا ہے۔
کچھ دیر قبل ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودیہ ابراہام معاہدوں میں شامل نہیں ہوجاتا۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
یاد ہے کہ ایک روز قبل جب جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب کے اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے نہیں جوڑا تھا تاہم بعد میں انھوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔
ادھر سعودی حکومت نے تاحال صدر ٹرمپ کے تازہ بیان پر کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا تاہم ریاض متعدد مواقع پر واضح کرچکا ہے کہ وہ اس وقت تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا جب تک فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے قابلِ عمل اور واضح راستہ موجود نہ ہو۔
سعودی عرب کا مؤقف رہا ہے کہ 1967 کی سرحدوں کی بنیاد پر آزاد فلسطینی ریاست کا قیام، مشرقی یروشلم کو اس کا دارالحکومت بنانا اور فلسطینی عوام کے جائز حقوق کا تحفظ اسرائیل سے تعلقات کی بحالی کے لیے بنیادی شرائط ہیں۔
ابراہام معاہدے کیا ہیں؟
ابراہام معاہدے 2020 میں امریکی ثالثی کے تحت طے پائے تھے جن کے نتیجے میں متحدہ عرب امارات، بحرین، سوڈان اور مراکش نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے۔ بعد ازاں قازقستان نے بھی معاہدے کی حمایت کا اعلان کیا تاہم سعودی عرب اب تک اس کا حصہ نہیں بنا۔
ان معاہدوں کا مقصد اسرائیل کے عرب و مسلم ممالک کے ساتھ سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعاون کو فروغ دینا تھا لیکن غزہ جنگ اور فلسطینی مسئلے کے باعث سعودی عرب نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کا عمل روک رکھا ہے۔