بچوں کی جسمانی صحت برقرار رکھنے کیلئے پولیو کا خاتمہ ضروری ہے، وزیراعلیٰ سندھ
اشاعت کی تاریخ: 4th, February 2026 GMT
کراچی:
وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ بچوں کی جسمانی صحت کو برقرار رکھنے کیلئے پولیو کا خاتمہ ضروری ہے۔
وزیراعلیٰ سندھ کو انسداد پولیو مہم کے پہلے دن کی رپورٹ پیش کردی گئی، رپورٹ کے مطابق سندھ بھر میں پولیو مہم کی مجموعی گھریلو کوریج 92 فیصد، ریکال کوریج 93 فیصد رہی، پہلے روز 2 لاکھ 26 ہزار سے زائد بچے پولیو کے قطروں سے محروم رہے۔
رپورٹ کے مطابق کراچی میں پولیو مہم کو چیلنجز درپیش ہیں 14.
وزیر اعلیٰ سندھ کو آگاہی دی گئی کہ کراچی جنوبی میں والدین کے انکار کی شرح 40 فیصد ریکارڈ کی گئی ہے، کراچی ڈویژن میں 87 فیصد پولیو کوریج رہی، مسڈ بچوں کی شرح 14.2 فیصد رہی، حیدرآباد ڈویژن میں 92 فیصد پولیو کوریج رہی، مسڈ بچوں کی شرح 8.6 فیصد رہی۔
میرپورخاص ڈویژن میں 94 فیصد پولیو کوریج رہی، مسڈ بچوں کی شرح 8.1 فیصد رہی، لاڑکانہ ڈویژن میں 93 فیصد پولیو کوریج رہی، مسڈ بچوں کی شرح 7.7 فیصد رہی، سکھر ڈویژن 94 فیصد پولیو کوریج رہی، مسڈ بچوں کی شرح 7 فیصد رہی، شہید بینظیرآباد ڈویژن میں 95 فیصد پولیو کوریج رہی، مسڈ بچوں کی شرح 5.7 فیصد رہی۔
وزیراعلیٰ سندھ نے ہدایت دی کہ زیادہ مسڈ اضلاع میں فوری ٹارگیٹڈ فالو اپ کیا جائے، انسداد پولیو مہم میں بچوں کی کوریج یقینی بنائی جائے، پولیو کے خاتمے تک مہم میں کسی قسم کی غفلت برداشت نہیں کی جائے گی۔
وزیراعلیٰ سندھ نے والدین سے اپیل کی کہ بچوں کو معذوری سے بچائیں اور پولیو سے بچاؤ کے قطرے لازمی پلائیں، صوبے بھر میں اگر کہیں پولیو کی ٹیم نہیں پہنچ سکی تو 1166 پر کال کر کے اطلاع دیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: فیصد پولیو کوریج رہی مسڈ بچوں کی شرح پولیو مہم ڈویژن میں فیصد رہی
پڑھیں:
کمسن بچی کے قتل کیس میں مجرم کی اپیل مسترد، سزائے موت برقرار
سپریم کورٹ آف پاکستان نے 5 سالہ کمسن بچی کو زیادتی کے بعد قتل کرنے والے مجرم سنی مسیح کی اپیل مسترد کرتے ہوئے اس کی سزائے موت برقرار رکھنے کا فیصلہ سنا دیا۔
عدالت عظمیٰ نے اپنے اہم فیصلے میں قرار دیا ہے کہ اپنی مرضی سے نشہ کرکے جرم کا ارتکاب کرنے والا شخص اپنے مجرمانہ عمل سے استثنیٰ کا دعویٰ کرنے کا حق نہیں رکھتا۔
3 رکنی بینچ، جس میں جسٹس محمد ہاشم خان کاکڑ، جسٹس صلاح الدین پہنور اور جسٹس اشتیاق ابراہیم شامل تھے، نے مجرم کی اپیل پر فیصلہ جاری کیا۔
فیصلے میں کہا گیا کہ جرم سے استثنیٰ کا دعویٰ صرف اس صورت میں کیا جا سکتا ہے جب کسی شخص کو اس کی مرضی کے خلاف یا اس کے علم میں لائے بغیر نشہ آور چیز دی گئی ہو۔
عدالتی فیصلے کے مطابق مجرم سنی مسیح کے خلاف 5 سالہ کمسن بچی کو زیادتی کا نشانہ بنانے اور قتل کرنے کا مقدمہ 22 جنوری 2014 کو سبی میں درج کیا گیا تھا۔
ٹرائل کورٹ نے جرم ثابت ہونے پر مجرم کو سزائے موت سنائی تھی، جسے بعد ازاں ہائیکورٹ نے بھی برقرار رکھا اور اب سپریم کورٹ نے بھی اس فیصلے کی توثیق کردی ہے۔
دوران سماعت مجرم کے وکیل نے مؤقف اختیار کیاکہ وقوعہ کے وقت ملزم نشے کی حالت میں تھا، اس لیے سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کیا جائے۔
تاہم سپریم کورٹ نے اس استدعا کو مسترد کرتے ہوئے قرار دیا کہ کسی شخص کو ایسے عمل کی سزا نہیں دی جا سکتی جس کے ارتکاب کا اس کا ارادہ نہ ہو، لیکن رضاکارانہ طور پر نشہ کرکے اسے اپنے دفاع کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا۔
فیصلے میں مزید کہا گیا کہ مجرم نے خود تسلیم کیاکہ اس نے اپنی مرضی سے شراب پی تھی۔
عدالت نے واضح کیاکہ جو شخص اپنی مرضی سے شراب نوشی کرتا ہے وہ بعد میں مجرمانہ ذمہ داری سے استثنیٰ کا مطالبہ نہیں کر سکتا۔
سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ مجرم نے بے دردی کے ساتھ کمسن بچی کو قتل کیا، لہٰذا اس کی اپیل خارج کرتے ہوئے سزائے موت برقرار رکھی جاتی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews سزائے موت برقرار قتل کیس کمسن بچی وی نیوز