جنوری میں پاکستان کی برآمدات پہلی بار 3 ارب ڈالر سے تجاوز کرگئی
اشاعت کی تاریخ: 4th, February 2026 GMT
اسلام آباد:
ایس آئی ایف سی کی معاشی اور تجارتی حکمت عملی کے نتیجے میں پاکستان نے برآمدات اور تجارتی ترقی میں تاریخی سنگِ میل عبور کر لیا۔
برآمدات میں اضافہ ملکی زرمبادلہ، وسیع روزگار کے مواقع اور اقتصادی خودمختاری کے فروغ کی جانب اہم پیش رفت ہے۔ جنوری میں پاکستان کی برآمدات پہلی بار تاریخی سنگِ میل عبور کرتے ہوئے 3 ارب ڈالر سے تجاوز کر گئی۔
پاکستان بیورو آف اسٹاٹسٹکس کے اعداد و شمار کے مطابق برآمدات میں تاریخ ساز اضافہ اور درآمدات میں نمایاں کمی سے تجارتی خسارہ کم ہوا۔ جنوری میں برآمدات 3 ارب ڈالر تک پہنچیں جبکہ درآمدات کم ہو کر تقریباً ساڑھے 5 ارب ڈالر رہیں۔
ماہانہ بنیاد پر برآمدات میں تقریباً 35 فیصد اضافہ ریکارڈ ہوا اور درآمدات میں تقریباَ 5 فیصد کمی سے تجارتی خسارہ نمایاں طور پر محدود ہوا۔ مالی سال کے پہلے سات ماہ میں مجموعی برآمدات 18 ارب ڈالر اور درآمدات 40 ارب ڈالر ریکارڈ کی گئیں۔
پاکستان کی برآمدات میں اضافہ اور تجارتی سرگرمیوں میں مضبوط پیش رفت ملکی معیشت کے لیے خوش آئند ہے۔
مشیرخزانہ خرم شہزاد کے مطابق پاکستانی برآمدات میں سب سے بڑا حصہ ٹیکسٹائل شعبے کا ہے جو ماہانہ بنیادوں پر ویلیو ایڈڈ سیگمینٹ میں دسمبر کی بنسبت جنوری میں قوی بہتری دکھا رہا ہے۔ ملک کے اہم شعبوں جیسے اسپورٹس، کیمیکل، فارما، سیمنٹ اور انجینئرنگ گڈز کی برآمدات میں بھی واضح بہتری دیکھی گئی۔
خرم شہزاد کے مطابق ویلیو ایڈڈ شعبے ملکی معیشت اور برآمدات میں نمایاں اور موثر کردار ادا کر رہے ہیں۔
جنوری 2026 میں پاکستان کا تجارتی خسارہ شش ماہی بنیاد پر 35 فیصد سے کم ہو کر تقریباَ 28 فیصد رہ گیا ہے۔
وزیرِ اعظم پاکستان کی جانب سے ایکسپورٹ ڈویلپمینٹ سرچارج کا خاتمہ، بجلی کی قیمتوں میں کمی اور فائنینسنگ ریٹس میں واضح کمی ایک انقلابی اقدام ہے۔ یہ تمام اقدامات وزارتِ خزانہ اور ایس آئی ایف سی کی مشترکہ کوششوں کا مظہر ہیں، جو پاکستان کی تجارتی ترقی کو فروغ دے رہے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: میں پاکستان برآمدات میں کی برآمدات پاکستان کی ارب ڈالر
پڑھیں:
کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
پریس کلب کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سکھ برادری کے رہنماؤں نے کہا کہ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر انکی عبادتگاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ کوئٹہ میں سکھ برادری کے رہنماء سردار جسبیر سنگھ اور کنزیومر سول سوسائٹی بلوچستان کے رہنماء خیر محمد شاہین نے کہا ہے کہ آرچر روڈ پر موجود سکھوں کا قدیمی گردوارہ 1953ء سے سینٹ گیبریل سکول قائم تھا، جسے مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانے کا کام شروع کیا گیا ہے، جس کی مذمت کرتے ہیں۔ یہ گردوارہ سکھ برادری نے تعلیمی سرگرمیوں کے لئے سینٹ گیبرل سکول کو دے رکھا تھا۔ انہوں نے وزیراعظم پاکستان اور دیگر اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ گزشتہ دنوں نامعلوم افراد کی جانب سے سکھوں کے مقدس گردوارے کی 90 سالہ پرانی عمارت کو مسمار کرنے کا نوٹس لیکر گردوارے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کے دوران کیا۔
انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں سکھ برادری کی ہزاروں ایکڑ اراضیات، مقدس مقامات بدستور لینڈ مافیا کے قبضے میں ہیں۔ حکومت کی جانب سے ان کی واگزاری کے لئے کوششیں بار آور ثابت نہیں ہو رہی ہے۔ آرچر روڈ پر واقع گردوارہ کو شری سنگھ بنیاد گرودت سنگھ نے تعمیر کیا تھا اور پرانے بندوبست کے ریکارڈ میں فرد انتقالات انہی کے نام سے اب بھی موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ وہی گرودت سنگھ ہے۔ جنہوں نے گورنمنٹ اسپیشل ہائی اسکول جو خالصہ کہلاتی تھی کی بنیاد رکھی تھی اور جاتے ہوئے اسکول کی 20 ایکڑ اراضی مقامی بچوں کی تعلیمی مقاصد کے لئے وقف کر دی تھی۔ یہ عمارت سینٹ گیبرل اسکول یا محکمہ اوقاف کی نہیں، بلکہ سکھوں کی مذہبی عبادت گاہ گردوارہ سکھ سبھا کی ملکیت ہے۔ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر ان کی عبادت گاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ مبینہ طور پر کہا جا رہا ہے کہ محکمہ اوقاف نے تجارتی مقاصد کے لئے عمارت کی زمین تجارتی بنیادوں پر فروخت کر دی ہے، اگر یہ درست ہے تو انتہائی تشویش کی بات ہے کہ محکمہ اوقاف متروکہ عمارت کی نگران ہوتی ہے مالک نہیں۔ محکمہ اوقاف سکھوں کے نمائندوں کی موجودگی میں سکھوں کی متراکہ املاک کو کس طرح قانون کے تحت فروخت کرنے کی مجاز ہے۔ 2014ء میں سپریم کورٹ نے واضح فیصلہ دیا تھا کہ پاکستان میں سکھوں کے تمام مقدس مقامات پر جائیدادوں کو حکومت پاکستان کی جانب سے مکمل تحفظ فراہم رہے گا۔ اس کے علاوہ آئین میں تمام اقلیتوں کے مذہبی عمارات کو تحفظ کا حق حاصل ہے۔ ہم وزیراعظم پاکستان اور اعلیٰ حکام سے مطالبہ کرتے ہیں کہ آرچر روڈ کے منہدم مذکورہ گردوارے کو فی الفور اس کی اصل حالت میں بحال کرکے اسے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے تاکہ انصاف کے تقاضے پورے ہوسکیں۔