Express News:
2026-06-02@22:20:41 GMT

جنوری میں پاکستان کی برآمدات پہلی بار 3 ارب ڈالر سے تجاوز کرگئی

اشاعت کی تاریخ: 4th, February 2026 GMT

‍‍‍‍‍‍

اسلام آباد:

ایس آئی ایف سی کی معاشی اور تجارتی حکمت عملی کے نتیجے میں پاکستان نے برآمدات اور تجارتی ترقی میں تاریخی سنگِ میل عبور کر لیا۔

برآمدات میں اضافہ ملکی زرمبادلہ، وسیع روزگار کے مواقع اور اقتصادی خودمختاری کے فروغ کی جانب اہم پیش رفت ہے۔ جنوری میں پاکستان کی برآمدات پہلی بار تاریخی سنگِ میل عبور کرتے ہوئے 3 ارب ڈالر سے تجاوز کر گئی۔

پاکستان بیورو آف اسٹاٹسٹکس کے اعداد و شمار کے مطابق برآمدات میں تاریخ ساز اضافہ اور درآمدات میں نمایاں کمی سے تجارتی خسارہ کم ہوا۔ جنوری میں برآمدات 3 ارب ڈالر تک پہنچیں جبکہ درآمدات کم ہو کر تقریباً ساڑھے 5 ارب ڈالر رہیں۔

ماہانہ بنیاد پر برآمدات میں تقریباً 35 فیصد اضافہ ریکارڈ ہوا اور درآمدات میں تقریباَ 5 فیصد کمی سے تجارتی خسارہ نمایاں طور پر محدود ہوا۔ مالی سال کے پہلے سات ماہ میں مجموعی برآمدات 18 ارب ڈالر اور درآمدات 40 ارب ڈالر ریکارڈ کی گئیں۔

پاکستان کی برآمدات میں اضافہ اور تجارتی سرگرمیوں میں مضبوط پیش رفت ملکی معیشت کے لیے خوش آئند ہے۔

مشیرخزانہ خرم شہزاد کے مطابق پاکستانی برآمدات میں سب سے بڑا حصہ ٹیکسٹائل شعبے کا ہے جو ماہانہ بنیادوں پر ویلیو ایڈڈ سیگمینٹ میں دسمبر کی بنسبت جنوری میں قوی بہتری دکھا رہا ہے۔ ملک کے اہم شعبوں جیسے اسپورٹس، کیمیکل، فارما، سیمنٹ اور انجینئرنگ گڈز کی برآمدات میں بھی واضح بہتری دیکھی گئی۔

خرم شہزاد کے مطابق ویلیو ایڈڈ شعبے ملکی معیشت اور برآمدات میں نمایاں اور موثر کردار ادا کر رہے ہیں۔

جنوری 2026 میں پاکستان کا تجارتی خسارہ شش ماہی بنیاد پر 35 فیصد سے کم ہو کر تقریباَ 28 فیصد رہ گیا ہے۔

وزیرِ اعظم پاکستان کی جانب سے ایکسپورٹ ڈویلپمینٹ سرچارج کا خاتمہ، بجلی کی قیمتوں میں کمی اور فائنینسنگ ریٹس میں واضح کمی ایک انقلابی اقدام ہے۔ یہ تمام اقدامات وزارتِ خزانہ اور ایس آئی ایف سی کی مشترکہ کوششوں کا مظہر ہیں، جو پاکستان کی تجارتی ترقی کو فروغ دے رہے ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: میں پاکستان برآمدات میں کی برآمدات پاکستان کی ارب ڈالر

پڑھیں:

پاکستان میں کاروباری اعتماد کمزور، 80 فیصد اداروں نے سرمایہ کاری فیصلے مؤخر کر دیئے

سروے کے مطابق کاروباری اعتماد میں کمی کی بڑی وجوہات میں مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی، بڑھتی ہوئی مہنگائی، ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ، سپلائی چین میں رکاوٹیں، پالیسی غیر یقینی اور اقتصادی نمو کے حوالے سے خدشات شامل ہیں۔  اسلام ٹائمز۔ پاکستان میں 70 سے 80 فیصد کاروباری ادارے نئی سرمایہ کاری کے فیصلوں کو مؤخر کر رہے ہیں یا ان پر نظرثانی کر رہے ہیں۔ اوورسیز انویسٹرز چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے تازہ بزنس کانفیڈنس انڈیکس سروے میں یہ بات سامنے آئی، سروے میں پاکستان میں کاروباری اعتماد میں نمایاں کمی سامنے آئی ہے۔ او آئی سی سی آئی کی جانب سے 2026ء کی دوسری سہ ماہی کے دوران کیے گئے بزنس کانفیڈنس انڈیکس سروے کی 29ویں لہر کے نتائج جاری کرتے ہوئے انکشاف کیا گیا کہ مجموعی کاروباری اعتماد 9فیصد پوائنٹس کمی کے بعد مثبت 13 فیصد رہ گیا ہے، جو اس سے قبل 28ویں لہر میں مثبت 22 فیصد تھا۔ سروے کے مطابق کاروباری اعتماد میں کمی کی بڑی وجوہات میں مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی، بڑھتی ہوئی مہنگائی، ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ، سپلائی چین میں رکاوٹیں، پالیسی غیر یقینی اور اقتصادی نمو کے حوالے سے خدشات شامل ہیں۔ 

کاروباری اداروں کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال نے سرمایہ کاری کے فیصلوں، پیداواری لاگت، خام مال کی دستیابی اور مستقبل کی منصوبہ بندی کو متاثر کیا ہے۔ شعبہ جاتی بنیادوں پر خدمات کے شعبے میں سب سے زیادہ کمی دیکھی گئی، جہاں اعتماد 20 پوائنٹس گر کر مثبت 14 فیصد رہ گیا۔ مینوفیکچرنگ کے شعبے میں بھی 7 پوائنٹس کی کمی ریکارڈ کی گئی، تاہم ریٹیل سیکٹر واحد شعبہ رہا جہاں کاروباری اعتماد میں 3 پوائنٹس بہتری آئی اور یہ مثبت 20 فیصد تک پہنچ گیا۔ سرمایہ کاری کے رجحانات میں بھی نمایاں کمزوری سامنے آئی ہے۔ نیو انویسٹمنٹ انڈیکس 10 پوائنٹس کمی کے بعد صرف مثبت 2 فیصد رہ گیا، جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ کاروباری ادارے موجودہ غیر یقینی صورتحال میں نئی سرمایہ کاری سے گریز کر رہے ہیں۔ سروے کے مطابق بیشتر ادارے متاثرہ تجارتی راستوں پر انحصار کم کرنے، سپلائی چین کو متنوع بنانے اور آپریشنل خطرات کم کرنے پر توجہ دے رہے ہیں۔ 

سروے کے مطابق عالمی کاروباری صورتحال کا اشاریہ بھی 31 پوائنٹس تک گر گیا ہے، جبکہ تمام شعبوں سے وابستہ کاروباری اداروں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ موجودہ تعطل چھ ماہ سے زیادہ عرصے تک جاری رہ سکتا ہے۔ آئندہ چھ ماہ کے حوالے سے 34 فیصد جواب دہندگان نے معاشی حالات مزید خراب ہونے کا خدشہ ظاہر کیا، جبکہ گزشتہ سروے میں یہ شرح 22 فیصد تھی۔ کاروباری اداروں نے سیاسی عدم استحکام، ایندھن کی قیمتوں، مہنگائی، بلند ٹیکسز، کرنسی کے اتار چڑھاؤ اور پالیسیوں کے عدم تسلسل کو بڑے خطرات قرار دیا۔ ساختی خطرات کے حوالے سے 84 فیصد جواب دہندگان نے بڑھتی ہوئی مہنگائی کو سب سے بڑا مسئلہ قرار دیا، 79 فیصد نے زیادہ ٹیکسز پر تشویش ظاہر کی، جبکہ 61 فیصد نے کرنسی کے عدم استحکام اور حکومتی پالیسیوں میں تسلسل کے فقدان کو کاروباری ترقی کیلئے اہم رکاوٹ قرار دیا۔ 

او آئی سی سی آئی کی رکن کمپنیوں، جو ملک میں بڑے غیر ملکی سرمایہ کاروں کی نمائندگی کرتی ہیں، کے درمیان کاروباری اعتماد نسبتاً بہتر رہا اور معمولی اضافے کے ساتھ مثبت 28 فیصد تک پہنچ گیا۔ بڑے شہروں میں کاروباری اعتماد 12 پوائنٹس کمی کے بعد مثبت 11فیصد رہا، جبکہ پشاور، کوئٹہ، راولپنڈی، ملتان، سیالکوٹ اور سکھر سمیت دیگر شہروں میں 3 پوائنٹس بہتری کے بعد اعتماد مثبت 22 فیصد ریکارڈ کیا گیا۔ سروے میں یہ بھی سامنے آیا کہ قلیل مدتی معاشی دباؤ کے باوجود کئی ادارے جنریٹو آرٹیفیشل انٹیلیجنس کے استعمال میں دلچسپی لے رہے ہیں۔ خصوصاً او آئی سی سی آئی کی رکن کمپنیوں نے ٹیکنالوجی پلیٹ فارمز، بنیادی کاروباری عمل اور افرادی قوت کی تربیت میں مصنوعی ذہانت کو شامل کرنے کے حوالے سے زیادہ تیاری ظاہر کی ہے۔ واضح رہے کہ او آئی سی سی آئی کا بزنس کانفیڈنس انڈیکس سروے سال میں دو مرتبہ کیا جاتا ہے، جس میں شامل شرکاء پاکستان کی جی ڈی پی کے تقریباً 80 فیصد کی نمائندگی کرتے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • پہلی ہی گیند پر وکٹ: شاہین آفریدی پاکستان کے عظیم کپتانوں کی فہرست میں شامل
  • پاکستان میں پٹرولیم مصنوعات کی کھپت میں 23 فیصد کمی
  • ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا، کپیسٹی چارجز کے سبب بجلی کی قیمتیں زیادہ ہیں، قائمہ کمیٹی تجارت
  • پاکستان میں ڈالر مستحکم، پاؤنڈ اور یورو سمیت بڑی کرنسیوں کے تازہ ریٹس جاری
  • پاکستان میں کاروباری اعتماد کمزور، 80 فیصد اداروں نے سرمایہ کاری فیصلے مؤخر کر دیئے
  • ایران-امریکا مجوزہ معاہدہ، عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں کمی
  • جعلی ادویات بیچنا اب آسان نہیں! پاکستان میں پہلی بار جدید ٹریکنگ سسٹم کا نفاذ
  • پاکستان میں سونے کی قیمت میں پھر بڑا اضافہ
  • تاریخ میں پہلی بار پاکستان کے دو پروجیکٹ اقوام متحدہ کی سطح پر شارٹ لسٹ
  • برآمدات بڑھانے کیلئے مؤثر اقدامات ترجیح ہیں: وزیرِ اعظم شہباز شریف