تجارتی معاہدے ، طاقت اور سیاست کی نئی زبان
اشاعت کی تاریخ: 4th, February 2026 GMT
یہ تجارتی معاہدے آخر ہیں کیا؟ کیا یہ واقعی محض درآمد و برآمد ٹیرف اور منڈیوں کی بات کرتے ہیں یا ان کے پیچھے وہی پرانی طاقت کارفرما ہے جو کبھی توپ و تفنگ کے زور پر دنیا کو تقسیم کرتی تھی۔
آج کی دنیا جس تیزی سے نئی شکل اختیار کر رہی ہے جس میں سرحدیں بظاہر قائم ہیں مگر فیصلے کہیں اور ہوتے ہیں، یہ تجارتی معاہدے خاموشی سے تاریخ لکھ رہے ہیں۔
یہ معاہدے کاغذ کے چند اوراق ہوتے ہیں مگر ان میں انسانی محنت، ریاستی خود مختاری اور عوامی خوابوں کا حساب درج ہوتا ہے۔ یہ معاہدے ریاستوں کے درمیان طے پاتے ہیں مگر ان کا فائدہ اکثر ریاستوں سے زیادہ اُن طاقتوں کو پہنچتا ہے جن کا کوئی جھنڈا نہیں، کوئی قومی ترانہ نہیں، مگر جن کا سرمایہ ہر سرحد سے آزاد ہے۔
یہی وہ مقام ہے جہاں معیشت سیاست بن جاتی ہے اور سیاست انسان دشمن نظام میں ڈھلنے لگتی ہے۔ اگر ہم تاریخ پر نظر ڈالیں تو ہمیں سمجھ آئے گا کہ نوآبادیات کبھی صرف فوجی تسلط کا نام نہیں تھی۔
تجارت ہمیشہ سے اس کا ہر اول دستہ رہی ہے۔ ایسٹ انڈیا کمپنی محض ایک تجارتی ادارہ تھی مگر اس کے معاہدوں سودوں اور اجارہ داری نے پورے برصغیر کی تقدیر بدل دی۔
آج کمپنیوں کے پاس فوج نہیں مگر ان کے پاس ایسے معاہدے ہیں جو ریاستوں کو اپنے ہی عوام کے خلاف کھڑا کر دیتے ہیں۔ فرق صرف زبان کا ہے مقصد وہی ہے منافع کسی بھی قیمت پر۔
دوسری جنگِ عظیم کے بعد دنیا کو یہ خواب دکھایا گیا کہ اب استحصال کا دور ختم ہو چکا ہے۔ اب تعاون ترقی اور شراکت داری کا زمانہ ہے۔
اسی خواب کے نام پر عالمی مالیاتی ادارے وجود میں آئے۔ کہا گیا کہ آزاد تجارت غربت کم کرے گی۔ خوشحالی آئے گی، فاصلے مٹیں گے مگر سوال یہ ہے کہ جب تجارت آزاد ہوئی توکیا انسان بھی آزاد ہوا؟ یا صرف سرمایہ آزاد ہوا اور انسان مزید جکڑ دیا گیا؟
آزاد تجارت کا تصور بظاہر بڑا دلکش ہے مگر اس آزادی کی شرط ہمیشہ کمزور کے لیے سخت اور طاقتور کے لیے نرم رہی ہے۔ ترقی یافتہ ممالک اپنی صنعتوں کو دہائیوں تک ریاستی تحفظ دیتے ہیں، سبسڈی فراہم کرتے ہیں منڈیاں مضبوط کرتے ہیں اور پھر ترقی پذیر ممالک سے کہتے ہیں کہ وہ یک دم اپنی سرحدیں کھول دیں۔
نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ مقامی صنعت دم توڑ دیتی ہے، کسان منڈی سے بے دخل ہو جاتا ہے اور ریاست قرضوں کے جال میں پھنس جاتی ہے۔ پھر انھی قرضوں کے بدلے مزید معاہدے ہوتے ہیں، مزید شرائط لگتی ہیں اور یوں ایک نہ ختم ہونے والا چکر شروع ہوجاتا ہے۔
آج کے تجارتی معاہدے صرف سامان کی نقل و حرکت تک محدود نہیں۔ یہ طے کرتے ہیں کہ ریاست کیا قانون بنا سکتی ہے اور کیا نہیں۔ اگر کوئی ریاست ماحولیات کے تحفظ کے لیے مزدوروں کے حقوق کے لیے یا صحتِ عامہ کے لیے کوئی قدم اٹھائے اور اس سے کسی سرمایہ کار کے منافع پر حرف آئے تو وہ ریاست کٹہرے میں کھڑی ہو سکتی ہے۔
عوامی عدالتوں میں نہیں بلکہ ایسے بند کمروں میں جہاں عوام کا کوئی نمایندہ موجود نہیں ہوتا۔ یہ وہ لمحہ ہے جہاں جمہوریت خاموش ہو جاتی ہے اور سرمایہ بولنے لگتا ہے۔
دنیا کی سیاست آج جس موڑ پرکھڑی ہے وہاں توپوں کی گھن گرج کم اور معاہدوں کی سرسراہٹ زیادہ سنائی دیتی ہے۔ مشرقِ وسطیٰ ہو یا ایشیا افریقہ ہو یا لاطینی امریکا کہیں بندرگاہوں کے معاہدے ہیں تو کہیں معدنی وسائل کے سودے کہیں ڈیجیٹل معیشت کے نام پر نئے ضابطے۔
یہ سب کچھ ترقی کے نام پر ہو رہا ہے مگر اس ترقی کا بوجھ ہمیشہ محنت کش کے کندھوں پر ڈالا جاتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ آج دنیا میں عدم مساوات صرف بڑھ نہیں رہا بلکہ معمول بنتا جا رہا ہے۔
چند ہاتھوں میں دولت کا ارتکاز اور کروڑوں انسانوں کی زندگی عدم تحفظ کا شکار ہے۔ یہ کوئی قدرتی عمل نہیں، یہ ان معاہدوں کا نتیجہ ہے، جن میں انسان کو یکسر نظرانداز کیا گیا ہے اور توجہ صرف منافع پہ ہے
معیشت کوئی فطری مظہر نہیں، یہ انسان بناتا ہے اور انسان ہی بدل سکتا ہے۔ تجارتی معاہدے بھی تقدیر نہیں، یہ طاقت کے رشتوں کا اظہار ہیں۔
جب تک ان پر سوال نہیں اٹھایا جائے گا تب تک مزدور، کسان اور عام شہری ان معاہدوں کی زبان نہیں سمجھیں گے اور تب تک سیاست چند بورڈ رومز تک محدود رہے گی۔
آج کی دنیا ایک نئی شکل لے رہی ہے، فرق صرف اتنا ہے کہ اب بندوق کی جگہ قانونی اصطلاحات کی خاموشی نے لے لی ہے اور اس خاموشی میں سب سے زیادہ دبنے والی آواز وہی ہے جو ہمیشہ دبی ہے محنت کش طبقے کی آواز۔
اصل سوال یہ نہیں کہ تجارتی معاہدے ہوں یا نہ ہوں اصل سوال یہ ہے کہ یہ معاہدے کس کے لیے اور کس کی قیمت پر طے پاتے ہیں۔ یہ سوال اگر زندہ رہا تو شاید سیاست بھی زندہ رہے۔
ان معاہدوں کا ایک اور پہلو بھی ہے جس پر کم بات ہوتی ہے اور وہ ہے معلومات پر کنٹرول۔ آج کی دنیا میں ڈیٹا ٹیکنالوجی اور ادویات کے فارمولے طاقت کے نئے ہتھیار بن چکے ہیں۔ تجارتی معاہدوں کے ذریعے یہ طے کیا جاتا ہے کہ کون سی دوا کتنی مہنگی بکے گی۔
اسی طرح علم کی نجکاری ہو رہی ہے، جامعات تحقیق اور صحت جیسے شعبے بھی منڈی کے اصولوں کے تابع کر دیے گئے ہیں، جہاں نفع ہی سب کچھ ہے اور انسانی ذہانت ثانوی حیثیت اختیار کر لیتی ہے۔
یہ معاہدے وقت کے ساتھ اتنے پیچیدہ ہو چکے ہیں کہ عام شہری تو درکنار اکثر ماہرین بھی ان کی باریکیوں کو پوری طرح نہیں سمجھ پاتے۔ شفافیت کے نام پر خاموشی اور مشاورت کے نام پر رازداری مسلط کر دی جاتی ہے۔
نتیجتاً عوامی مفاد کی بات صرف انتخابی نعروں تک محدود رہ جاتی ہے جب کہ اصل فیصلے کہیں اور ہو چکے ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جب احتجاج ہوتا ہے تو ریاست خود کو مجبور پاتی ہے۔
جب تک عام آدمی یہ نہیں سمجھے گا کہ روٹی کی قیمت دوا کی دستیابی اور روزگار کا عدم تحفظ کن فیصلوں سے جڑا ہے تب تک یہ معاہدے عام آدمی کی زندگی کو پامال کرتے رہیں گے۔ سوال اٹھانا بحث کرنا اور متبادل راستوں کا تصور ہی وہ عمل ہے جو اس خاموشی کو توڑ سکتا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: حقیقی جمہوریت کی تلاش تجارتی معاہدے یہ معاہدے کے نام پر ہوتے ہیں کرتے ہیں ہیں اور ہیں مگر جاتی ہے ہے اور ہیں کہ رہی ہے کے لیے
پڑھیں:
سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان
پاکستان نے یمن کے حوثی گروپ کی جانب سے سعودی آئل ٹینکر پر حملے اور بحیرہ احمر میں تجارتی جہاز رانی کو درپیش خطرات کی پرزور الفاظ میں مذمت کی ہے اور سعودی عرب کی سلامتی و خودمختاری کے لیے اپنی مکمل حمایت کا اعادہ کیا ہے۔وزیراعظم شہباز شریف نے جمعرات کو سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے ٹیلی فونک رابطہ کر کے بحرِ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حوثی ملیشیا کے حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کی۔وزیراعظم نے حملے کو بزدلانہ اقدام قرار دیتے ہوئے کہا کہ ”ایسے اقدامات قطعی ناقابلِ قبول ہیں. یہ بین الاقوامی قانون کی صریح خلاف ورزی ہیں، جہاز رانی اور تجارتی نقل و حمل کی آزادی کے لیے خطرہ ہیں اور علاقائی امن، سلامتی اور استحکام کو نقصان پہنچاتے ہیں“۔وزیراعظم نے سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کی مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ میں خود، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور پوری پاکستانی قوم اس نازک وقت میں سعودی قیادت اور مملکت کے برادر عوام کے ساتھ مضبوطی اور عزم کے ساتھ کھڑے ہیں۔انہوں نے مزید یقین دہانی کرائی کہ پاکستان مملکت سعودی عرب کی سلامتی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی مکمل حمایت کرتا ہے اور بحرِ احمر، آبنائے ہرمز اور خطے میں سمندری تجارت کی روانی کو یقینی بنانے کے لیے عالمی برادری اور سعودی عرب کے ساتھ مل کر کام کرتا رہے گا۔گفتگو کے دوران سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے پاکستان کی اس مستقل حمایت اور دونوں ممالک کے درمیان قائم قریبی برادرانہ تعلقات کی تعریف کی۔ اس موقع پر وزیراعظم پاکستان نے خادمِ حرمین شریفین، شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود کے لیے بھی نیک خواہشات اور خیر سگالی کے جذبات کا اظہار کیا۔
دوسری جانب، دفترِ خارجہ کے ترجمان طاہر حسین اندرابی نے ہفتہ وار میڈیا بریفنگ کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ”گزشتہ ہفتے بھی حوثیوں کی جانب سے حملہ کیا گیا تھا. جس کی وزیراعظم پاکستان نے فوری مذمت کرتے ہوئے سعودی عرب کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا تھا“۔طاہر اندرابی نے کہا کہ ہمارے بحری جہازوں پر حملہ ریڈلائن ہوگی. ہم سعودی عرب کے ساتھ باہمی دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور سعودی عرب کے ساتھ تمام معاہدوں کی پاسداری کریں گے۔انہوں نے خبردار کیا کہ یمن کے مسلح گروہوں کی جانب سے سعودی عرب پر ایسے حملے خطے میں پہلے سے موجود کشیدگی کو مزید بڑھا سکتے ہیں، اس لیے پاکستان تمام فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے اور مسائل کا پرامن حل سفارتی راستے سے نکالنے کی اپیل کرتا ہے۔خطے میں امن قائم کرنے اور کشیدگی کم کرنے کے لیے پاکستان نے اپنی سفارتی رفت و آمد میں بھی اضافہ کر دیا ہے۔ترجمان کے مطابق حال ہی میں ایران کے وزیر داخلہ اسکندر مومنی نے پاکستان کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے وزیراعظم، فیلڈ مارشل اور وفاقی وزیر داخلہ سمیت اعلیٰ قیادت سے ملاقاتیں کیں تاکہ علاقائی سیکیورٹی کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا جا سکے۔اس کے علاوہ پاکستان اور کویت کے وزرائے خارجہ کے درمیان رابطہ ہوا، جبکہ منیلا میں آسیان ریجنل فورم کے موقع پر نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے مصر، عمان، فلپائن، روس اور بنگلہ دیش کے وزرائے خارجہ سے الگ الگ اہم ملاقاتیں کیں۔ان ملاقاتوں کی تفصیل بتاتے ہوئے ترجمان نے کہا کہ ”مصر کے وزیر خارجہ سے ملاقات میں دونوں رہنماؤں نے تمام ممالک کی علاقائی سالمیت اور خودمختاری کے احترام پر زور دیا، جبکہ عمان کے وزیر خارجہ نے خطے میں کشیدگی کے خاتمے اور امن و استحکام کے لیے پاکستان کے سفارتی کردار کو سراہا“۔اس کے ساتھ ساتھ روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف اور بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ خلیل الرحمان سے بھی باہمی تعلقات اور تعاون کو آگے بڑھانے پر بات چیت کی گئی۔ترجمان دفترِ خارجہ نے مزید بتایا کہ پاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اب شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے وزرائے خارجہ کونسل اجلاس میں شرکت کے لیے بشکیک پہنچیں گے. جہاں ان کی کرغزستان کے صدر اور دیگر رکن ممالک کے وزرائے خارجہ سے ملاقاتیں متوقع ہیں۔ترجمان نے یہ بھی بتایا کہ کینیڈا کی وزیر خارجہ انیتا آنند نے بھی حال ہی میں پاکستان کا دورہ کیا ہے، جو گزشتہ بیس سالوں میں کسی کینیڈین وزیر خارجہ کا پہلا دورہ تھا اور اس دوران دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تعلقات کی مضبوطی کے لیے اعلیٰ سطح پر بات چیت کی گئی۔