ٹی 20 ورلڈکپ: کیا پاکستانی ٹیم کولمبو کے موسم کی وجہ سے مشکلات کا شکار ہو سکتی ہے؟
اشاعت کی تاریخ: 4th, February 2026 GMT
حکومتِ پاکستان نے قومی کرکٹ ٹیم کو آئندہ ٹی 20 ورلڈ کپ کھیلنے کی اجازت دے دی ہے لیکن بھارت کے خلاف شیڈول میچ کا بائیکاٹ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
بھارت کے خلاف میچ کا بائیکاٹ کرنے کے فیصلے کی وجہ سے قومی ٹیم ٹورنامنٹ کے آغاز میں ہی مشکل پوزیشن میں ہے۔
آئی سی سی کے قوانین کے تحت جو ٹیم میچ کا بائیکاٹ کرتی ہے وہ میچ ہار جاتی ہے اور اس حساب سے قومی ٹیم پاک بھارت میچ سے ملنے والے 2 پوائنٹس کھو دے گی۔
ٹی 20 ورلڈ کپ میں 20 ٹیموں کو 4 گروپس میں تقسیم کیا گیا ہے یعنی ہر گروپ میں 5 ٹیمز ہیں اور ہر گروپ سے نمایاں کارکردگی دکھانے والی 2 ٹیمز ایونٹ کے سپر 8 مرحلے میں داخل ہوں گی تو پاک بھارت میچ کے 2 پوائنٹس کھو دینے کا مطلب ہے کہ قومی ٹیم کے پاس باقی گروپ میچز کے دوران غلطی کا کوئی مارجن نہیں ہے۔
پاکستان کو گروپ اے میں بھارت، نیدرلینڈز، امریکا اور نمیبیا کے ساتھ رکھا گیا ہے اور قومی ٹیم تمام گروپ میچز کولمبو میں کھیلے گی۔
ٹی 20 ورلڈ کپ 2026ء میں قومی ٹیم اپنا پہلا میچ 7 فروری کو کولمبو میں نیدرلینڈز کے خلاف صبح ساڑھے 10 بجے کھیلے گی، دوسرا میچ 10 فروری کو امریکا اور تیسرا میچ 18 فروری کو نمیبیا کے خلاف کھیلے گی جبکہ 15 فروری کو بھارت کے خلاف شیڈول میچ کے بائیکاٹ کا اعلان پہلے ہی کیا جا چکا ہے۔
قومی ٹیم کے لیے کولمبو کے موسم نے ایونٹ کی صورتحال کو مزید تشویش ناک بنا دیا ہے۔
برطانوی خبررساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق 7 فروری کو کولمبو میں ہلکی ہواؤں کے ساتھ گرج چمک کے ساتھ بارش متوقع ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ کولمبو میں 7 فروری کو دن کے وقت درجۂ حرارت 32 ڈگری سینٹی گریڈ تک اور رات میں تقریباً 22 ڈگری سینٹی گریڈ تک رہ سکتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق کولمبو میں دوپہر سے شام تک بارش ہونے کا امکان زیادہ ہے اور صبح کے وقت موسم جزوی طور پر ابر آلود رہ سکتا ہے۔
اگر بارش کی وجہ سے نیدرلینڈز کے خلاف میچ واش آؤٹ ہوا تو ایونٹ کے اگلے مرحلے میں قومی ٹیم کے داخل ہونے کا امکان مزید کم ہو سکتا ہے۔
پاکستان کو ممکنہ طور پر باقی تینوں گروپ میچ جیتنے ہوں گے اور اپنے نیٹ رن ریٹ کو نمایاں طور پر بہتر کرنا ہو گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: کولمبو میں قومی ٹیم فروری کو کے خلاف
پڑھیں:
تیزی سے بڑھتی آبادی ملک کیلئے سب سے بڑا چیلنج ہے: وزیراعظم
وزیراعظم شہباز شریف نے تیزی سے بڑھتی آبادی کو ملک کے لیے چیلنج قرار دے دیا۔وزیراعظم شہبازشریف کی زیرصدارت ملک میں بہبود آبادی کے حوالے سے جائزہ اجلاس ہوا جس میں وزیراعظم نے نیشنل پاپولیشن کونسل کا اجلاس جلد از جلد بلانے کی ہدایت کی۔شہباز شریف نے کہا کہ تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی ملک کے لیے سب سے بڑا چیلنج ہے، آبادی پر قابو پانے کیلئے اقدامات اور بہبود آبادی کو قومی فریضہ سمجھا جانا چاہیے۔وزیراعظم کا کہنا تھا کہ آبادی میں توازن ہی پائیدار قومی ترقی کی ضمانت ہے، آبادی کی منصوبہ بندی کو قومی ترقی اور معاشی استحکام سے ہم آہنگ کرنے کی ضرورت ہے، بہبود آبادی اقدامات سے متعلق صوبوں کے ساتھ روابط اور ہم آہنگی مزید بہتر بنائی جائے، بڑھتی ہوئی آبادی پر قابو پانے کے مؤثر عوامی آگہی مہم کا کلیدی کردار ہے۔