بلوچستان میں دہشت گردی، شہداء کے لواحقین کا عزم، صبر اور وطن سے وفا بے مثال
اشاعت کی تاریخ: 4th, February 2026 GMT
بلوچستان میں فتنہ الہندوستان کی دہشت گردی شہداء کے لواحقین کے حوصلے پست نہ کر سکی۔ شہداء کے لواحقین آج بھی صبر، حوصلے اور وطن سے غیر متزلزل محبت کی مثال بنے ہوئے ہیں۔
شہداء کے لواحقین نے اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان کے پیاروں نے وطن کی حفاظت کیلئے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔ ایس ایچ او ساجد بلوچ شہید کے والد کا کہنا تھا کہ ان کا بیٹا مچھ میں تعینات تھا، جہاں اس نے بہادری سے مقابلہ کیا اور لوگوں کی جانیں بچاتے ہوئے شہید ہو گیا۔
صدیق بلوچ شہید کے والد نے بتایا کہ ان کے بیٹے نے گولی لگنے کے باوجود کہا تھا کہ وہ کسی دہشت گرد کو نہیں چھوڑے گا۔ کانسٹیبل شہزاد شہید کی بیٹی نے کہا کہ ان کے شہید والد انہیں بہت عزیز تھے، جبکہ شہزاد شہید کے بھائی کا کہنا تھا کہ ایک بھائی کیا، اگر ہم سب بھی ملک کیلئے قربان ہو جائیں تو کوئی دکھ نہیں۔
بلوچستان کے یہ شہداء اور ان کے لواحقین آنے والی نسلوں کیلئے مشعلِ راہ اور پوری قوم کیلئے باعثِ فخر ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: شہداء کے لواحقین
پڑھیں:
نرس نے نومولود بچی کے ہاتھ کا انگوٹھا کاٹ دیا، والد نے پولیس میں درخواست دے دی
راولپنڈی:ہولی فیملی ہسپتال راولپنڈی کی گائنی وارڈ کی نرسری میں زیرِ علاج 23 روزہ نومولود بچی کے دائیں ہاتھ کا انگوٹھا پراسرار طور پر کٹ جانے کا انکشاف سامنے آیا ہے، جبکہ متاثرہ بچی کے والد نے واقعے پر پولیس کو درخواست دے دی ہے۔
متاثرہ بچی کے والد قیصر محمود نے بتایا کہ وہ ضلع اٹک کے رہائشی اور پیشے کے لحاظ سے کارپینٹر ہیں۔ ان کے مطابق ان کی بیٹی کی پیدائش ہولی فیملی ہسپتال میں ہوئی تھی اور پیدائش کے بعد سے بچی کو نرسری میں رکھا گیا ہے۔
والد کا کہنا ہے کہ جب وہ آج اپنی 23 روزہ بیٹی سے ملنے ہسپتال پہنچے تو دیکھا کہ اس کے دائیں ہاتھ کا انگوٹھا کٹا ہوا تھا۔ انہوں نے فوری طور پر ڈاکٹروں سے اس بارے میں استفسار کیا۔
قیصر محمود کے مطابق ڈاکٹرز نے انہیں بتایا کہ انگوٹھا نرس سے غلطی سے کٹ گیا۔ تاہم ان کے بقول ہسپتال انتظامیہ نے صرف انکوائری کی یقین دہانی کرائی نہ واقعے کی وجہ واضح کی گئی اور نہ ہی اب تک کسی ذمہ دار کے خلاف کارروائی کی گئی۔
متاثرہ والد نے انصاف کے لیے پولیس کو درخواست دے دی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ درخواست موصول ہونے کے بعد ابتدائی چھان بین مکمل کر لی گئی ہے اور قانون کے مطابق کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
دوسری جانب اس سنگین واقعے پر ہولی فیملی ہسپتال کی انتظامیہ کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ مؤقف سامنے نہیں آیا۔