data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

یورپ کی بلند ترین عمارت کسی بڑے شہر میں واقع فلک بوس ٹاور نہیں بلکہ ایک چھوٹی سی جھونپڑی نما کیبن ہے، جو اٹلی کے برف پوش الپس پہاڑوں میں انتہائی دشوار گزار مقام پر موجود ہے۔

یہ عمارت، جسے مارگریٹا ہٹ کے نام سے جانا جاتا ہے، سطح سمندر سے تقریباً 15 ہزار فٹ کی بلندی پر واقع ہے اور دنیا کی سب سے منفرد پہاڑی تعمیرات میں شمار ہوتی ہے۔

مارگریٹا ہٹ اٹلی کے مونٹے روزا ماسف میں واقع پونتا گنیفیٹی کی چوٹی پر تعمیر کی گئی ہے، جو سوئٹزر لینڈ کی سرحد کے قریب واقع ہے۔ اس کیبن کا نام اٹلی کی ملکہ مارگریٹا آف ساوائے کے نام پر رکھا گیا، جنہوں نے 1893 میں اس تاریخی عمارت کا افتتاح کیا تھا۔ اس دور میں اس مقام تک پہنچنا آج کے مقابلے میں کہیں زیادہ مشکل تصور کیا جاتا تھا۔

ابتدائی طور پر مارگریٹا ہٹ کو ہائی ایلیویشن میڈیسن کی تحقیق کے لیے استعمال کیا جاتا تھا، جہاں سائنسدان انسانی جسم پر بلندی کے اثرات کا مطالعہ کرتے تھے۔ بعد ازاں اس کیبن کو کوہ پیماؤں کے لیے ایک محفوظ پناہ گاہ میں تبدیل کر دیا گیا تاکہ مشکل موسمی حالات میں انہیں قیام کی سہولت فراہم کی جا سکے۔

سطح سمندر سے 4554 میٹر کی بلندی پر واقع ہونے کے باعث یہ نہ صرف مونٹے روزا ماسف کی بلند ترین جھونپڑی ہے بلکہ یورپ کی سب سے اونچی عمارت بھی سمجھی جاتی ہے۔ گرمیوں کے موسم میں، جون کے آغاز سے ستمبر کے اوائل تک، یہ کیبن کھلا رہتا ہے اور اس میں تقریباً 70 افراد کے قیام کی گنجائش موجود ہے۔

2017 کے بعد سے قریبی شہر الاگنا ولاسیا کے میئر نے یہاں شادی کی تقریبات کی بھی اجازت دے رکھی ہے، جس کے باعث یہ جگہ ایڈونچر پسند جوڑوں کے لیے ایک منفرد انتخاب بن چکی ہے، تاہم اس تجربے کا حصہ بننے کے لیے غیر معمولی جسمانی فٹنس اور پہاڑی چڑھائی کا تجربہ درکار ہوتا ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ مارگریٹا ہٹ تک ہیلی کاپٹر کے ذریعے بھی رسائی ممکن نہیں۔ یہاں پہنچنے کا واحد ذریعہ پیدل سفر ہے، جو عموماً دو دن پر محیط ہوتا ہے اور اس کے لیے الپائن تکنیکس اور موسم کی مکمل آگاہی ضروری سمجھی جاتی ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: کی بلند کے لیے

پڑھیں:

سندھ کی جیلوں میں گنجائش سے زائد قیدی موجود

فائل فوٹو

سندھ کی تمام جیلوں میں گنجائش سے زیادہ قیدی ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔ صوبائی جیلوں میں 14 ہزار قیدیوں کی گنجائش ہے لیکن 27 ہزار قیدی موجود ہیں۔

دستاویز کے مطابق کراچی کی سینٹرل جیل میں بھی قیدیوں کی تعداد بلند ترین سطح پر پہنچ گئی، جہاں گنجائش 2400 قیدیوں کی ہے مگر 8 ہزار قیدی رہ رہے ہیں۔

اسی طرح ملیر جیل کی گنجائش 2200 قیدیوں کی ہے لیکن وہاں ساڑھے 5 ہزار قیدی موجود ہیں۔

جیو نیوز کو حاصل دستاویز کے مطابق صوبہ سندھ میں 23 جیلیں ہیں، جو نہ صرف بھری ہوئی ہیں بلکہ اب اوور پاپولیٹڈ ہوگئی ہیں۔

حیدرآباد سینٹرل جیل میں قیدیوں کی گنجائش ڈیڑھ ہزار کی ہے، جہاں 3 ہزار افراد قید کاٹ رہے ہیں۔

لاڑکانہ سینٹرل جیل ساڑھے 6 سو افراد کے لیے بنائی گئی لیکن یہاں 1 ہزار افراد قید ہیں، ٹھٹھہ کی جیل ڈھائی سو افراد کے لیے ڈیزائن کی گئی لیکن قیدی ساڑھے 9 سو ہیں۔

صوبے میں خواتین کی 3 جیلیں کراچی، حیدرآباد اور سکھر میں قائم ہیں، جہاں موجود خواتین قیدیوں کی تعداد 438 تک پہنچ چکی ہے جبکہ ان میں سے صرف 68 خواتین سزا یافتہ ہیں۔

صوبے بھر کی جیلوں میں 27 ہزار قیدیوں میں سب سے زیادہ 22 ہزار 600 ایسے قیدی ہیں، جن کے کیسز عدالتوں میں زیر سماعت ہیں جبکہ سزا یافتہ قیدیوں کی تعداد محض ساڑھے 3 ہزار ہے۔

جیلوں میں سزائے موت کے 459 افراد بھی اپنی زندگی کے دن گن رہے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • ملک بھر میں گدھوں، گھوڑوں، خچروں کی تعداد میں اضافہ
  • کراچی، محسن نقوی کا صفورا میں واقع نادرا میگا سینٹر کا اچانک دورہ
  • مینگو شیک کے لیے کون سا آم بہترین ہے؟ ذائقے اور کریمی ٹیکسچر کو بدل دینے والے راز
  • حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا
  • پاکستان میں سونے کی قیمت میں پھر بڑا اضافہ
  • سونے کی فی تولہ قیمت میں پھر سے ہزاروں روپے کا اضافہ
  • امریکا ایران غیر یقینی صورتحال: عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار
  • بھارت: میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ حفاظتی خدشات کے باعث ہٹا دیا گیا
  • سندھ کی جیلوں میں گنجائش سے زائد قیدی موجود
  • قدرت کا حیرت انگیز شاہکار، ہولونگ درخت کے ’ہیلی کاپٹر پھلوں‘ کی حسین اڑان