شاہ رخ خان کے بیٹے آریان خان مشکل میں، ہتکِ عزت کا مقدمہ ممبئی منتقل
اشاعت کی تاریخ: 4th, February 2026 GMT
دہلی ہائی کورٹ نے آئی آر ایس افسر سمیر وانکھیڑے کو بالی ووڈ خان شاہ رخ خان کے بیٹے آریان خان کی ویب سیریز دی بیڈز آف بالی ووڈ کے خلاف دائر ہتکِ عزت کا مقدمہ ممبئی کی عدالت میں لے جانے کی اجازت دے دی۔
بھارتی عدالت نے قرار دیا کہ دہلی ہائی کورٹ کو اس معاملے کی سماعت کا علاقائی اختیار (Territorial Jurisdiction) حاصل نہیں، جس کے بعد وانکھیڑے کو ممبئی کی متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی آزادی دے دی گئی ہے۔
سماعت کے دوران جسٹس وکاس مہاجن نے حکم دیا کہ دونوں فریقین 12 فروری کو ممبئی کی عدالت میں پیش ہوں۔
سمیر وانکھیڑے نے ابتدائی طور پر دہلی ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی تھی، جس میں مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ شاہ رخ خان کے بیٹے آریان خان کی ہدایت کاری میں بننے والی نیٹ فلکس سیریز کی پہلی قسط میں دکھایا گیا کہ ایک کردار مجھ سے مماثلت رکھتا ہے اور یہ کردار میری ساکھ کو نقصان پہنچانے والا اور ہتک آمیز ہے۔
وانکھیڑے کے مطابق سیریز میں دکھائے گئے کردار کی شکل و صورت، انداز، رویہ اور باڈی لینگویج مجھ سے واضح مشابہت رکھتی ہے، جبکہ میڈیا رپورٹس میں بھی اس کردار کو مجھ سے جوڑا گیا ہے، خاص طور پر خان منشیات کیس میں ان کے کردار کے تناظر میں۔
انہوں نے عدالت سے متنازع مناظر ہٹانے یا ان پر پابندی عائد کرنے کی استدعا کی تھی اور مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس کردار کشی سے میری عزت، وقار اور پیشہ ورانہ ساکھ متاثر ہوئی ہے۔
عدالت کے مطابق مقدمہ ممبئی منتقل کرنے کی وجہ یہ ہے کہ سمیر وانکھیڑے ممبئی میں مقیم ہیں جبکہ ریڈ چِلّیز انٹرٹینمنٹ جو اس سیریز کی پروڈیوسر ہے، اس کا رجسٹرڈ دفتر بھی ممبئی میں واقع ہے۔
واضح رہے کہ مذکورہ ویب سیریز کو شاہ رخ خان کی پروڈکشن کمپنی ریڈ چِلّیز انٹرٹینمنٹ نے پروڈیوس کیا ہے، جبکہ اس تنازع نے سیریز کی ریلیز کے بعد قانونی اور عوامی سطح پر خاصی توجہ حاصل کر لی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: شاہ رخ خان
پڑھیں:
کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
پشاور کی احتساب عدالت کے جج محمد ظفر نے اپرکوہستان مالیاتی اسکینڈل میں کروڑوں روپے کی ضبطگی سے متعلق درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔ اسلام ٹائمز۔ پشاور کی احتساب عدالت نے اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل سے 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم جاری کردیا۔ پشاور کی احتساب عدالت کے جج محمد ظفر نے اپرکوہستان مالیاتی اسکینڈل میں کروڑوں روپے کی ضبطگی سے متعلق درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔ احتساب عدالت نے ملزم دوراج خان کی جانب سے دائر پلی بارگین درخواست کے تناظر میں 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کے احکامات جاری کردیے ہیں۔ فیصلے کے مطابق نیب خیبر پختونخوا اپر کوہستان میں جعلی بلوں اور بوگس دعوؤں کے ذریعے سرکاری فنڈز میں کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے، ملزم کے قریبی رشتہ داروں کے نام پر کھولے گئے بینک اکاؤنٹس میں موجود 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے ضبط کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
عدالت نے فیصلے میں کہا ہے کہ ملزم دوراج خان اس مقدمے میں گرفتار ہے اور جوڈیشل ریمانڈ پر جیل میں ہے اور دوران تفتیش انکشاف ہوا کہ ملزم نے مبینہ کرپشن کی رقم چھپانے کےلیے بیشام کے نجی بینک میں قریبی رشتہ داروں کے نام پر اکاؤنٹس کھلوائے۔ فیصلے میں کہا گیا کہ ملزم کے رشتہ داروں محمد اقبال، محمد ایاز، محمد عمر، کریم داد اور سربلند نے عدالت میں رضاکارانہ بیانات قلم بند کرائے اورمؤقف اختیار کیا کہ انہیں اپنے نام پر موجود اکاؤنٹس میں جرائم سے حاصل شدہ رقم کا علم نہیں تھا۔ احتساب عدالت نے کہا ہے کہ ملزم کے رشتہ داروں نے تمام رقوم بحق سرکار ضبط کرنے پر رضامندی ظاہر کی اور رقم پر کسی قسم کا دعویٰ نہ کرنے کا بیان دیا۔