ایران مڈنائٹ ہیمر جیسا آپریشن دوبارہ نہیں چاہے گا، اُمید ہے مذاکرات کامیاب ہوں گے: ٹرمپ
اشاعت کی تاریخ: 4th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں اور انہیں امید ہے کہ یہ بات چیت کامیاب ثابت ہوگی۔ وائٹ ہاؤس میں میڈیا سے گفتگو کے دوران ایران سے متعلق سوال کے جواب میں صدر ٹرمپ نے تصدیق کی کہ دونوں ممالک کے درمیان رابطے میں ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ایران پیش رفت کا خواہاں دکھائی دیتا ہے، تاہم یہ دیکھنا ہوگا کہ آیا ان مذاکرات سے کوئی ٹھوس نتیجہ نکلتا ہے یا نہیں۔ صدر ٹرمپ کے مطابق ایران کے ساتھ بات چیت ہو رہی ہے لیکن اگلی ملاقات کے مقام سے متعلق انہیں فی الحال کوئی اطلاع نہیں۔
صدر ٹرمپ نے کہا کہ ماضی میں بھی ایران کو مذاکرات کا موقع دیا گیا تھا مگر وہ نتیجہ خیز ثابت نہیں ہوئے، جس کے بعد ایران کے خلاف ’آپریشن مڈنائٹ ہیمر‘ کیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ نہیں سمجھتے کہ ایران ایسی کارروائی کا دوبارہ سامنا کرنا چاہے گا۔
انہوں نے یاد دلایا کہ گزشتہ روز بھی وائٹ ہاؤس میں گفتگو کے دوران انہوں نے بتایا تھا کہ وینزویلا کی جانب روانہ کیے گئے بیڑے سے بھی بڑا بحری بیڑہ ایران کی طرف بڑھ رہا ہے۔ صدر ٹرمپ نے کہا کہ اگر ایران کے ساتھ کوئی معاملہ طے پا گیا تو یہ بہتر ہوگا، تاہم خبردار کیا کہ بصورتِ دیگر سنگین نتائج سامنے آ سکتے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی
امریکی ایوانِ نمائندگان نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی وار پاورز قرارداد دوبارہ منظور کرلی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ قرارداد اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کی رکنِ کانگریس پرامیلا جے پال کی جانب سے پیش کی گئی جس کے حق میں 214 جب کہ مخالفت میں 208 ووٹ پڑے۔
رائے شماری میں اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کے تمام اراکین نے قرارداد کی حمایت کی جب کہ حکمراں جماعت ریپبلکن کے 5 ارکان نے بھی پارٹی پالیسی کے برعکس ووٹ دیتے ہوئے قرارداد کے حق میں رائے دی۔
خیال رہے کہ یہ دوسری بار ہے کہ ایوانِ نمائندگان نے اسی نوعیت کی قرارداد منظور کی ہے۔ گزشتہ ماہ بھی ایوان نے ایسی ہی ایک قرارداد منظور کی تھی جسے بعد میں سینیٹ نے بھی منظور کر لیا تھا۔
اگرچہ قرارداد کی منظوری سیاسی لحاظ سے اہم سمجھی جا رہی ہے تاہم اس کی قانونی حیثیت محدود ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ اس قسم کی وار پاورز قراردادیں آئین سے مطابقت نہیں رکھتیں اور صدر بطور کمانڈر اِن چیف قومی سلامتی کے معاملات میں فوجی فیصلے کرنے کا اختیار رکھتے ہیں۔
ووٹنگ سے قبل ہونے والی بحث میں ایوانِ خارجہ امور کمیٹی کے سرکردہ ڈیموکریٹ رکن گریگ میکس نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے کانگریس کی پیشگی منظوری کے بغیر ایران کے خلاف فوجی کارروائی کر کے امریکی قانون اور آئینی تقاضوں کی خلاف ورزی کی ہے۔
یہ قرارداد ایسے وقت منظور ہوئی جب یمن کے حوثیوں کے بحیرہ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حملوں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہیں۔