پاکستان اور قازقستان کے درمیان 19 معاہدے، تجارت، توانائی اور ٹیکنالوجی میں تعاون پر اتفاق
اشاعت کی تاریخ: 4th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد: پاکستان اور قازقستان کے درمیان 19 معاہدوں اور مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط ہو گئے جب کہ دونوں ممالک میں تجارت، توانائی و ٹیکنالوجی سمیت دیگر شعبوں میں تعاون پر اتفاق کیا گیا۔
قازقستان کے صدر قاسم جومارت کا وزیراعظم ہاؤس پہنچن ےپر شاندار اور باوقار استقبال کیا گیا، جہاں وزیراعظم شہباز شریف نے مہمان صدر کا خیرمقدم کیا ۔ اس موقع پر صدر قازقستان کو گارڈ آف آنر پیش کیا گیا جبکہ دونوں ملکوں کے قومی ترانے بھی بجائے گئے ۔
استقبالیہ مرحلے کے دوران وزیراعظم شہباز شریف نے صدر قاسم جومارت سے وفاقی کابینہ کے اراکین کا تعارف کرایا جب کہ قازقستان کے صدر نے وزیراعظم کو اپنے اعلیٰ سطح کے وفد کے اراکین سے متعارف کروایا۔ اس کے بعد صدر قازقستان کے اعزاز میں خصوصی استقبالیہ تقریب منعقد کی گئی، جس میں دونوں ممالک کے اعلیٰ حکام، سفارتی نمائندے اور سرکاری وفود شریک ہوئے۔
استقبالیہ کے بعد وزیراعظم شہباز شریف اور صدر قازقستان کے درمیان تفصیلی ملاقات ہوئی، جس میں دوطرفہ تعلقات، خطے کی مجموعی صورتحال اور مختلف شعبوں میں تعاون کو فروغ دینے کے امکانات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
ملاقات کے دوران اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ پاکستان اور قازقستان اپنے تعلقات کو صرف سفارتی سطح تک محدود رکھنے کے بجائے اقتصادی، تجارتی اور تکنیکی شراکت داری میں تبدیل کریں گے تاکہ دونوں ممالک کو باہمی فائدہ حاصل ہو سکے۔
ملاقات کے بعد پاکستان اور قازقستان کے درمیان مفاہمتی یادداشتوں اور معاہدوں پر دستخط کی باضابطہ تقریب منعقد ہوئی، جسے دوطرفہ تعلقات میں ایک اہم سنگِ میل قرار دیا جا رہا ہے۔ اس موقع پر وزیراعظم شہباز شریف اور صدر قازقستان نے مشترکہ اعلامیے پر بھی دستخط کیے، جس میں باہمی تعاون کو مزید وسعت دینے کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔
تقریب کے دوران مجموعی طور پر 19 مفاہمتی یادداشتوں اور معاہدوں کی دستاویزات کا تبادلہ کیا گیا، جن کا تعلق مختلف شعبوں سے ہے۔ ان میں اقوام متحدہ کے امن مشنوں میں تعاون، کان کنی اور پیٹرولیم کے شعبے میں شراکت داری، قیدیوں کے تبادلے اور میری ٹائم سیکٹر میں تعاون جیسے اہم امور شامل ہیں۔ ان معاہدوں کو دونوں ممالک کے درمیان اعتماد اور عملی تعاون کا مظہر قرار دیا جا رہا ہے۔
اس کے علاوہ ٹرانزٹ ٹریڈ کے فروغ، کسٹمز کے شعبے میں تعاون اور محکمہ ریلوے میں شراکت داری سے متعلق معاہدوں پر بھی دستخط کیے گئے۔ حکام کے مطابق ان اقدامات سے پاکستان اور قازقستان کے درمیان تجارتی روابط مضبوط ہوں گے اور نقل و حمل کے نظام کو زیادہ مؤثر اور مربوط بنایا جا سکے گا۔
دونوں ممالک نے موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے، ورچوئل اثاثوں میں شراکت داری، پروٹیکشن اور ویٹرنری کے شعبوں میں تعاون پر بھی اتفاق کیا۔ اسی طرح مصنوعی ذہانت اور ڈیجیٹل ترقی کے میدان میں تعاون سے متعلق مفاہمتی یادداشت کا تبادلہ بھی کیا گیا، جسے مستقبل میں تکنیکی اشتراک اور ڈیجیٹل شراکت داری کے فروغ کے لیے اہم قرار دیا جا رہا ہے۔
مفاہمتی یادداشتوں اور معاہدوں پر دستخط کی اس تقریب میں وزیر دفاع خواجہ آصف، نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال سمیت دیگر اعلیٰ حکام بھی شریک تھے۔ حکومتی ذرائع کے مطابق یہ دورہ اور طے پانے والے معاہدے پاکستان اور قازقستان کے تعلقات کو ایک نئے دور میں داخل کرنے کا باعث بنیں گے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: پاکستان اور قازقستان کے درمیان وزیراعظم شہباز شریف مفاہمتی یادداشتوں صدر قازقستان دونوں ممالک شراکت داری میں تعاون دستخط کی کیا گیا
پڑھیں:
کارگو طیارہ حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ کو کمپنی مالکان سے عدم تعاون کی شکایت
نجی کارگو ایئرلائن کے ٹو ایئرویز کے حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ حادثے کی وجوہات جاننے کے منتظر ہیں۔ انہوں نے نجی کارگو کمپنی کے مالکان کی جانب سے عدم تعاون کی شکایت بھی کی ہے، متاثرین کیلئے اب تک کسی معاوضہ کا اعلان بھی نہیں ہوا۔
7 جولائی کو شارجہ سے کراچی آنے والا نجی کارگو کمپنی کے ٹو ایئرویز کا بوئنگ 737 طیارہ بلوچستان کے ساحل سے آگے گہرے سمندر میں گر کر تباہ ہو گیا تھا۔ حادثے کے مقام سے طیارے کا کچھ ملبہ ضرور ملا ہے لیکن سمندر کی تہہ میں پہنچ جانے والے طیارے کے بلیک باکس، کاکپٹ اور عملے کا تاحال کوئی سراغ نہیں مل سکا۔ متاثرین کا مطالبہ ہے کہ اس کام کیلئے غیر ملکی ماہر کمپنیوں سے مدد لی جائے۔
نجی کارگو طیارے کا ملبا تفتیشی ٹیم کے سپرد، بلیک باکس، عملے کے 5 ارکان کی تلاش جاریترجمان پاکستان ایئرپورٹ اتھارٹی (پی اے اے) کے مطابق کارگو طیارے کے مزید ملبے اور عملےکی تلاش گہرے سمندر میں جاری ہے حادثے کے شکار طیارے کے مزید پرزے اور ملبہ سمندر سے برآمد کر لیا گیا۔
شہید کپٹن رضوان کے اہل خانہ نے عملے اور طیارے کے ملبے کی تلاش کیلئے پاکستان نیوی اور دیگر اداروں پر اعتماد کا اظہار کیا لیکن کارگو کمپنی کی شدید بے حسی کی شکایت کی اور مطالبہ کیا کہ کے ٹو ایئرویز کے بیرون ملک موجود مالکان کو واپس لا کر تحقیقات میں شامل کیا جائے۔
متاثرین کے مطابق کے ٹو ایئرویز کی انتظامیہ کی بے حسی کا اندازہ اس سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ ملازمین کو 3 ماہ سے تنخواہیں نہیں ملی تھیں۔ یہ تنخواہ اس المناک حادثہ کے بعد ادا کی گئی۔
ایوی ایشن ماہرین کے مطابق بوئنگ 737 کارگو طیارے کا حادثہ کیوں اور کیسے پیش آیا، یہ اہل خانہ کو بتانا اور حادثہ متاثرین کو معاوضے کی ادائیگی یقینی بنانا حکومت اور ریاست کی ذمہ داری ہے۔