آئی ایس ایم مارٹ گروپ اسکینڈل: عوامی مفاد کے تحفظ میں نیب کی ایک اور فیصلہ کن کامیابی
اشاعت کی تاریخ: 4th, February 2026 GMT
اسلام آباد(نیوز ڈیسک) قومی احتساب بیورو (نیب) نے پاکستان کی تاریخ کے بڑے مالیاتی فراڈ “آئی ایس ایم مارٹ گروپ اسکینڈل” کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کرتے ہوئے ریاست پر عوامی اعتماد کی بحالی کی جانب ایک اور اہم کامیابی حاصل کر لی ہے۔ نیب اسلام آباد/راولپنڈی کی پیشہ ورانہ مہارت اور انتھک محنت کے نتیجے میں اب تک ایک ارب روپے کی ریکوری مکمل کی جا چکی ہے، جس کے پہلے مرحلے میں آج 600 ملین روپے 3400 متاثرین میں تقسیم کر دیے گئے ہیں۔
آج نیب ہیڈکوارٹر میں منعقدہ تقریب کے دوران متاثرین میں چیک تقسیم کیے گئے۔تقریب کی صدارت چئرمین نیب لیفٹنٹ جنرل (ریٹائرڈ) نذیر احمد نے کی۔
جبکہ تقریب میں ڈپٹی چئرمین سہیل ناصر، پراسیکیوٹر جنرل احتشام قادر شاہ، ڈی جی نیب وقار احمد چوھان، نیب کے سینیئر افسران اور بڑی تعداد میں متاثرین نے شرکت کی۔
اس کیس کے مرکزی ملزم نے ای-کامرس، ریسٹورنٹس اور ریئل اسٹیٹ جیسے جعلی کاروباروں کی آڑ میں عوام کو غیر حقیقی منافع کا جھانسہ دے کر اربوں روپے ہتھیائے۔ نیب ذرائع کے مطابق تقریباً 3,400 متاثرین نے بیورو سے رجوع کیا جن سے مجموعی طور پر 3.
نیب کی تحقیقاتی ٹیم نے اس کیس میں ایک بڑی کامیابی حاصل کرتے ہوئے ان رقوم کا سراغ لگا لیا ہے جو ہنڈی، حوالہ اور کرپٹو کرنسی کے ذریعے متحدہ عرب امارات (UAE) منتقل کی گئی تھیں۔ بیرونِ ملک سے رقوم کی مکمل واپسی کے لیے یو اے ای حکام کے ساتھ تعاون کا عمل بھی جاری ہے۔
اس موقع پر چیئرمین نیب نے نیب اسلاماباد/راولپنڈی کی تفتیشی ٹیم کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ “نیب پر عوام کا اعتماد ہی ہماری اصل طاقت ہے”۔ انہوں نے اعلان کیا کہ مستقبل میں ایسے فراڈ سے بچنے کے لیے جلد ہی ملک گیر عوامی آگاہی مہم شروع کی جائے گی۔
ڈی جی نیب اسلام آباد/راولپنڈی نے اس موقع پہ اس کامیابی کو سال 2026 کا “دوسرا تحفہ” قرار دیتے ہوئے کہا کہ جنوری میں بینکر سٹی اور اب آئی ایس ایم مارٹ کے متاثرین کو ریلیف فراہم کرنا انصاف کی فراہمی کی علامت ہے۔ عوام کی سہولت کے لیے نیب نے انقلابی قدم اٹھاتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ آئندہ مراحل میں متاثرین کو رقوم کی ادائیگی آن لائن بینک ٹرانسفر کے ذریعے کی جائے گی تاکہ انہیں دفاتر کے چکر کاٹنے سے بچایا جا سکے۔
نیب کی یہ کارروائی اس بات کا ثبوت ہے کہ بیورو نہ صرف کرپشن کے خلاف نبرد آزما ہے بلکہ متاثرین کو ان کی عمر بھر کی جمع پونجی واپس دلانے کے لیے بھی پرعزم ہے۔
اس تقریب میں چئرمین نیب نے نیب اسلاماباد/راولپنڈی کی تفیتیشی ٹیم میں شیلڈس تقسیم کئے اور ٹیم کے لئے عمرہ پیکیج کا بھی اعلان کیا۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں اور کالمز پر کارروائی کے اختیار کا معاملہ زیر بحث آیا، جہاں سینئر صحافی طارق محمود سمیر نے اپنا مؤقف پیش کرتے ہوئے اہم قانونی نکات اٹھائے۔
اجلاس کے دوران طارق محمود سمیر نے کہا کہ لاہور سے شائع ہونے والے روزنامہ نئی بات میں بیوروکریسی سے متعلق شائع ہونے والے ایک کالم کی بنیاد پر کالم نگار توفیق بٹ اور اخبار کے ایڈیٹر کو نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی) کی جانب سے جاری کیا گیا نوٹس واپس لیا جانا چاہیے۔انہوں نے قائمہ کمیٹی کو تجویز دی کہ اس معاملے کو متعلقہ فورم یعنی پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے، کیونکہ قانون کے مطابق پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور تنازعات کا جائزہ لینے کا اختیار صرف پریس کونسل کے پاس ہے۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے سینئر صحافی طارق محمود سمیر کی اس تجویز سے متفقہ طور پر اتفاق کرتے ہوئے ہدایت جاری کی کہ مذکورہ معاملہ پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے تاکہ قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔
کمیٹی نے اس موقع پر واضح کیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق کسی بھی قسم کے معاملات یا شکایات نہ تو پیمرا کے دائرہ اختیار میں آتی ہیں اور نہ ہی این سی سی آئی ایسے معاملات میں براہ راست نوٹس لینے کا مجاز ہے۔ کمیٹی کے مطابق اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں، مضامین اور کالمز سے متعلق شکایات صرف پریس کونسل آف پاکستان کے سامنے ہی پیش کی جا سکتی ہیں۔اجلاس میں یہ بھی یاد دلایا گیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق قانون سازی کے دوران وفاقی حکومت نے قومی اسمبلی میں واضح یقین دہانی کرائی تھی کہ اخبارات اور پرنٹ میڈیا کے معاملات کا واحد مجاز ادارہ پریس کونسل آف پاکستان ہوگا، اور اسی فورم پر شکایات درج کرائی جا سکیں گی۔
قائمہ کمیٹی نے اس مؤقف کو دہراتے ہوئے متعلقہ اداروں پر زور دیا کہ آئندہ بھی پرنٹ میڈیا سے متعلق تمام معاملات قانون کے مطابق صرف پریس کونسل آف پاکستان کے ذریعے ہی نمٹائے جائیں تاکہ آئینی اور قانونی دائرہ اختیار برقرار رہے۔