اسلام آباد (اپنے سٹاف رپورٹر سے) قومی احتساب بیورو (نیب) نے سال 2025ء کی اپنی سالانہ کارکردگی رپورٹ جاری کر دی جو بے مثال مالی کامیابی، ادارہ جاتی بحالی اور جدید تکنیکی ترقی کی عکاس ہے۔ ڈپٹی چئرمین نیب سہیل ناصر، پراسیکیوٹر جنرل احتشام قادر شاہ، ڈائریکٹر جنرل آپریشنز امجد مجید اولکھ نے نیب کی کارکرگی پہ ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ موجودہ چیئرمین لیفٹیننٹ جنرل(ریٹائرڈ) نذیر احمد کی قیادت میں نیب نے 6213 ارب روپے یعنی62  کھرب 13 ارب روپے کی ریکارڈ ریکوری کی ہے جو کہ 1999  میں بیورو کے قیام سے اب تک کی سب سے بڑی سالانہ رقم ہے۔ اس سنگ میل کے حصول کے ساتھ ہی گزشتہ تین سالوں میں نیب کی براہ راست اور بالواسطہ مجموعی ریکوری 11524 ارب  یعنی 115 کھرب 24 ارب روپے یعنی تقریباً 41 ارب امریکی ڈالر تک پہنچ گئی ہے یہ کارکردگی گزشتہ 23 سالوں کی مجموعی ریکوری سے تیرہ گنا زیادہ ہے۔ اس کامیابی میں سب سے اہم حصہ 29 لاکھ 80 ہزار ایکڑ غصب شدہ سرکاری اور جنگلاتی اراضی کی واپسی ہے جس کی مالیت تقریباً 59 کھرب 80 ارب (5980 ارب) روپے ہے۔ علاقائی سطح پر نیب سکھر نے سندھ میں 3730 ارب ( 37 کھرب 30 ارب) روپے مالیت کی 16 لاکھ 30 ھزار ایکڑ اراضی واگزار کرائی جبکہ نیب بلوچستان نے 13 کھرب 74 ارب ( 1374 ارب ) روپے مالیت کی 10 لاکھ ایکڑ اور نیب ملتان نے 653.

97 ارب روپے مالیت کی 3 لاکھ ایکڑ سے زائد زمین واگزار کرائی ہے، اس کے علاوہ وفاقی دارالحکومت میں 29.41 ارب روپے مالیت کی 51 کنال قیمتی سرکاری زمین گولڑہ لینڈ بھی بحال کی گئی  انویسٹمنٹ سکیموں میں دھوکہ دہی کا شکار ہونے والے 115,587 متاثرین کو 180 ارب روپے کی ادائیگی کر کے بڑا ریلیف دیا گیا ہینیب کی تاریخ میں پہلی بار نیشنل بینک آف پاکستان کے ساتھ ایک معاہدے کے تحت ڈیجیٹل نظام کے ذریعے 2.8 ارب روپے براہ راست 12,892 دھوکہ دہی کے متاثرین کے بینک کھاتوں میں منتقل کیے گئے  سال 2025 میں الباری گروپ کے 1,126 متاثرین کو 5.4 ارب روپے، ایڈن ہاسنگ کے 11,889 متاثرین کو 4.362 ارب روپے، اسٹیٹ لائف کوآپریٹو ہاسنگ سوسائٹی کے 6,750 متاثرین کو 72.23 ارب روپے مالیت کے پلاٹ، B4U گلوبل کے 17,500 متاثرین کو 3.157 ارب روپے اور AAA ایسوسی ایٹس کے 1,211 متاثرین کو 8.869 ارب روپے واپس کیے گئے۔ اس کے علاوہ نیب نے سال کے دوران خیبرپختونخوا کے کوہستان سکینڈل میں ملزموں سے 26۔44 بلین روپے کی ریکوری کی۔ گلبرگ گرین میں محل نما عمارت سمیت منقولہ و غیر منقولہ جائیدادیں بھی قبضے میں لی گئیں۔ کوہستان سکینڈل کے ملزموں نے دیواروں کے اندر، گاڑیوں، رنگ کے ڈبوں، آٹے کے کنستروں سمیت مختلف طریقوں سے رقوم چھپائی ہوئی تھیں۔ سال 2025 میں آپریشنز ڈویژن کو23,411 شکایات موصول ہوئی جن میں سے صرف 367 شکایات کارروائی کے قابل قرار پائیں، جبکہ گزشتہ سالوں کے مقابلے میں شکایات کی تعداد میں 24 فیصد کمی دیکھی گئی ہے  پبلک آفس ہولڈرز اور تاجروں کے خلاف شکایات میں 52 فیصد کمی آئی ہے جبکہ اطلا ع دہندہ گان وہسل بلوئرز(Whistleblowers) کی جانب سے شکایات میں 41 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ نیب نے اس سال 191 انکوائریاں اور 65 تحقیقات مکمل کیں جبکہ زیر التوا انکوائریوں میں 12.4 فیصد کمی واقع ہوئی۔ ڈپٹی چیئرمین نیب سہیل ناصر نے کہا کہ پاکستان اینٹی کرپشن اکیڈمی (PACA) کے ذریعے تحقیقات میں اب مصنوعی ذہانت (AI)، بلاک چین تجزیہ اور ڈیجیٹل فارنزک جیسی جدید تکنیکی سہولیات استعمال کی جا رہی ہیں۔  ڈپٹی چیئرمین نیب سہیل ناصر نے کہا کہ وفاقی حکومت کی کفایت شعاری کی پالیسی کے تحت نیب نے اپنے اخراجات میں کمی لانے کے لیے سخت اقدامات اٹھائے ہیں۔ اس سلسلے میں سب سے پہلے نیب نے اپنی 238 آسامیوں کو ختم کیا جس کی بدولت سالانہ 356 ملین روپے کی بچت ممکن ہوئی دوسرے مرحلے میں آپریشنل اخراجات کو کم کرنے کے لیے ایندھن کے استعمال میں 30 فیصد کمی لائی گئی سول سوسائٹی، پیشہ ورانہ تنظیموں اور نجی شعبے کے ساتھ مل کر کام کیا اور سیمینارز، آگاہی واکس اور روک تھام کمیٹیوں کے ذریعے عوام میں اشتراکیذمہ داری کو فروغ دیا۔عالمی سطح پر پاکستان کی نمائندگی کرتے ہوئے نیب نے ملائیشیا (MACC)، سعودی عرب (Nazaha) اور نائجیریا (EFCC) کے انسدادِ بدعنوانی کے اداروں کے ساتھ تین نئے معاہدوں پر دستخط کیے۔ نیب میں کوئی محب وطن پاکستانی کے نام سے درخواست نہیں دے سکتا ایسا کرنا قابل سزا ہے شکایت کنندہ اب اپنے نام، بیان حلفی کے ساتھ درخواست دیتا ہے نیب اب کسی کی پگڑیاں نہیں اچھالتا اوورسیز پاکستانیز ہائوسنگ کے شعبے میں سرمایہ کاری کرتے ہیں اب ہائوسنگ سوسائٹیاں عوام کو دھوکہ نہیں دے سکتیں نیب شہریوں کی محفوظ سرمایہ کاری میں رہنمائی کیلئے جلد میکانزم جاری کرے گا جس سے کسی بھی ہائوسنگ سوسائٹی میں سرمایہ کاری سے قبل مکمل معلومات دستیاب ہوں گی۔

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

کلیدی لفظ: روپے مالیت کی متاثرین کو ارب روپے فیصد کمی روپے کی کے ساتھ

پڑھیں:

اگر لداخ سیاسی اتحاد قائم کرسکتا ہے تو ہم بھی کرسکتے ہیں، محبوبہ مفتی

پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی صدر نے کہا کہ وقت آ گیا ہے کہ سب ملکر وزیر اعظم اور مرکزی وزیر داخلہ سے رابطہ کریں اور جموں و کشمیر کے عوام کیساتھ مسلسل بات چیت شروع کرنے پر زور دیں۔ اسلام ٹائمز۔ لداخ کی سیاسی جماعتوں کی جانب سے یکجا طور حکومتِ ہند کے ساتھ مذاکرات میں حاصل ہونے والی پیشرفت سے حوصلہ پا کر پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی صدر نے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ اور بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) سمیت مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کو خطوط لکھ کر جموں و کشمیر کے حقوق اور وقار کی بحالی کے لئے متحد ہونے کی اپیل کی ہے۔ اپنے خط میں سابق وزیراعلٰی محبوبہ مفتی نے عمر عبداللہ کو لکھا کہ "لیہہ ایپکس باڈی" اور "کرگل ڈیموکریٹک الائنس" کی جانب سے مرکز کے ساتھ مذاکرات میں حاصل ہونے والی حالیہ کامیابیاں ایک اہم سبق فراہم کرتی ہیں کہ بامعنی نتائج صرف بات چیت کے ذریعے ہی حاصل کئے جا سکتے ہیں۔

محبوبہ مفتی نے خط میں کہا کہ جموں و کشمیر ایک بار پھر اپنی تاریخ کے ایک اہم موڑ پر کھڑا ہے، جہاں مایوسی اور بددلی کا احساس عوام پر غالب ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس صورتحال سے نکلنے کے لئے سیاسی اور جماعتی اختلافات سے بالاتر ہو کر وسیع اتفاق رائے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر عوام کے وقار اور تحفظ کو بحال کرنا ہے تو حکومت ہند کے ساتھ تعمیری مذاکرات ناگزیر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وقت آ گیا ہے کہ سب مل کر وزیر اعظم اور مرکزی وزیر داخلہ سے رابطہ کریں اور جموں و کشمیر کے عوام کے ساتھ مسلسل بات چیت شروع کرنے پر زور دیں۔

جموں و کشمیر کے وزیراعلیٰ عمر عبداللہ کے علاوہ محبوبہ مفتی نے بی جے پی کے قائد حزب اختلاف سنیل شرما، جموں و کشمیر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر طارق حمید قرہ، سی پی آئی (ایم) رہنما ایم وائی تاریگامی، پیپلز کانفرنس کے چیئرمین سجاد غنی لون، رکن پارلیمان انجینئر رشید، عام آدمی پارٹی کے صدر معراج ملک، پی ڈی ایف کے چیئرمین حکیم محمد یاسین، جموں و کشمیر نیشنل پینتھرس پارٹی کے صدر ہرش دیو سنگھ، شیو سینا (جموں و کشمیر یونٹ) کے صدر منیش ساہنی، کشمیری پنڈت سنگھرش سمیتی کے صدر سنجے ٹکو اور گوردوارہ پربندھک کمیٹی کے چیئرمین جسپال سنگھ کو بھی خطوط ارسال کیے ہیں۔

انہوں نے تمام رہنماؤں سے اپیل کی کہ وہ وزیراعظم نریندر مودی اور مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ سے مشترکہ اور منظم انداز میں رابطہ قائم کرنے کے لئے ایک پلیٹ فارم پر جمع ہوں۔ محبوبہ مفتی نے کہا کہ ہمیں اپنے اختلافات اور متضاد خیالات کو ایک طرف رکھ کر عوامی مفاد اور اجتماعی فلاح کے لئے متحد ہونا ہوگا۔ یہ سیاسی کریڈٹ لینے یا ایک دوسرے پر سبقت حاصل کرنے کا معاملہ نہیں بننا چاہیئے بلکہ ان لوگوں کے وسیع تر مفاد میں اتحاد کا موقع ہونا چاہیئے جن کی نمائندگی کا ہم سب دعویٰ کرتے ہیں۔ علاقائی جماعتوں کے درمیان اختلافات اور کشیدگی نے ہمیشہ جموں و کشمیر کے اجتماعی مفادات کو نقصان پہنچایا ہے، اس لئے خاص طور پر 2019ء کے بعد ایک معقول اتفاق رائے ہی واحد راستہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر لداخ ایسا کر سکتا ہے تو ہم بھی کر سکتے ہیں۔ انہوں نے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ سے اپیل کی کہ وہ ایک کل جماعتی اجلاس طلب کریں تاکہ مرکز کے ساتھ رابطے کے عمل کا آغاز کیا جا سکے۔ محبوبہ مفتی نے کہا کہ اس سیاسی پلیٹ فارم کی کامیابی کے لئے عمر عبداللہ کی حمایت ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ غیر معمولی اور مشکل حالات میں حقیقی اتحاد ہی عوام کے ان حقوق اور وقار کی بحالی کی راہ ہموار کر سکتا ہے جن کی ضمانت بھارتی آئین دیتا ہے۔ محبوبہ مفتی کا یہ خط ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب چند دن قبل لیہہ ایپکس باڈی اور کرگل ڈیموکریٹک الائنس نے دعویٰ کیا تھا کہ حکومتِ ہند کے ساتھ ان کے مذاکرات میں اہم پیشرفت ہوئی ہے۔

یہ مذاکرات آرٹیکل 371 کے تحت چھٹے شیڈول کا درجہ اور قانون ساز اسمبلی کے مطالبات سے متعلق تھے۔ اگست 2019ء میں سابق ریاست جموں و کشمیر کی تقسیم کے بعد لداخ میں یہ سیاسی اتحاد سامنے آیا تھا۔ پی ڈی پی، نیشنل کانفرنس، پیپلز کانفرنس اور دیگر علاقائی جماعتوں نے 5 اگست 2019ء کو آرٹیکل 370 کی منسوخی سے دو روز قبل پیپلز الائنس فار گپکار ڈیکلریشن (PAGD) قائم کیا تھا۔ تاہم نومبر اور دسمبر 2020ء میں مرکز کی جانب سے ضلع ترقیاتی کونسل (DDC) انتخابات کے انعقاد کے بعد اس اتحاد میں اختلافات نمایاں ہونے لگے۔

متعلقہ مضامین

  • ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
  • رواں مالی سال کے دوران زرعی شعبے کی شرح نمو 2.9 فیصد، رقبہ کم ہونے کے باوجود پیداوار بہتر رہی
  • پاکستان میں پٹرولیم مصنوعات کی کھپت میں 23 فیصد کمی
  • اگر لداخ سیاسی اتحاد قائم کرسکتا ہے تو ہم بھی کرسکتے ہیں، محبوبہ مفتی
  • پاکستان میں ڈالر مستحکم، پاؤنڈ اور یورو سمیت بڑی کرنسیوں کے تازہ ریٹس جاری
  • مالی سال 26-2025 کے اختتام پر کلیمز جمع کرانے کی آخری تاریخ 12 جون مقرر
  • کوہستان کرپشن کیس، نیب نے 6 ارب کے ریکور اثاثے خیبر پختونخوا کے حوالے کردیے
  • واشنگٹن میں لبنان اور اسرائیل کے درمیان مذاکرات شروع
  • ثاقب چدھڑ کے اثاثوں کی تفصیلات کیلئے الیکشن کمیشن میں درخواست دائر
  • روینہ ٹنڈن کی والدہ کے گھر بڑی چوری، لاکھوں روپے مالیت کے زیورات غائب