ریکارڈ قائم، نیب نے 2025 میں 63 کھرب، 13 ارب روپے ریکور کئے، سالانہ رپورٹ جاری
اشاعت کی تاریخ: 4th, February 2026 GMT
اسلام آباد (اپنے سٹاف رپورٹر سے) قومی احتساب بیورو (نیب) نے سال 2025ء کی اپنی سالانہ کارکردگی رپورٹ جاری کر دی جو بے مثال مالی کامیابی، ادارہ جاتی بحالی اور جدید تکنیکی ترقی کی عکاس ہے۔ ڈپٹی چئرمین نیب سہیل ناصر، پراسیکیوٹر جنرل احتشام قادر شاہ، ڈائریکٹر جنرل آپریشنز امجد مجید اولکھ نے نیب کی کارکرگی پہ ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ موجودہ چیئرمین لیفٹیننٹ جنرل(ریٹائرڈ) نذیر احمد کی قیادت میں نیب نے 6213 ارب روپے یعنی62 کھرب 13 ارب روپے کی ریکارڈ ریکوری کی ہے جو کہ 1999 میں بیورو کے قیام سے اب تک کی سب سے بڑی سالانہ رقم ہے۔ اس سنگ میل کے حصول کے ساتھ ہی گزشتہ تین سالوں میں نیب کی براہ راست اور بالواسطہ مجموعی ریکوری 11524 ارب یعنی 115 کھرب 24 ارب روپے یعنی تقریباً 41 ارب امریکی ڈالر تک پہنچ گئی ہے یہ کارکردگی گزشتہ 23 سالوں کی مجموعی ریکوری سے تیرہ گنا زیادہ ہے۔ اس کامیابی میں سب سے اہم حصہ 29 لاکھ 80 ہزار ایکڑ غصب شدہ سرکاری اور جنگلاتی اراضی کی واپسی ہے جس کی مالیت تقریباً 59 کھرب 80 ارب (5980 ارب) روپے ہے۔ علاقائی سطح پر نیب سکھر نے سندھ میں 3730 ارب ( 37 کھرب 30 ارب) روپے مالیت کی 16 لاکھ 30 ھزار ایکڑ اراضی واگزار کرائی جبکہ نیب بلوچستان نے 13 کھرب 74 ارب ( 1374 ارب ) روپے مالیت کی 10 لاکھ ایکڑ اور نیب ملتان نے 653.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: روپے مالیت کی متاثرین کو ارب روپے فیصد کمی روپے کی کے ساتھ
پڑھیں:
کارگو طیارہ حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ کو کمپنی مالکان سے عدم تعاون کی شکایت
نجی کارگو ایئرلائن کے ٹو ایئرویز کے حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ حادثے کی وجوہات جاننے کے منتظر ہیں۔ انہوں نے نجی کارگو کمپنی کے مالکان کی جانب سے عدم تعاون کی شکایت بھی کی ہے، متاثرین کیلئے اب تک کسی معاوضہ کا اعلان بھی نہیں ہوا۔
7 جولائی کو شارجہ سے کراچی آنے والا نجی کارگو کمپنی کے ٹو ایئرویز کا بوئنگ 737 طیارہ بلوچستان کے ساحل سے آگے گہرے سمندر میں گر کر تباہ ہو گیا تھا۔ حادثے کے مقام سے طیارے کا کچھ ملبہ ضرور ملا ہے لیکن سمندر کی تہہ میں پہنچ جانے والے طیارے کے بلیک باکس، کاکپٹ اور عملے کا تاحال کوئی سراغ نہیں مل سکا۔ متاثرین کا مطالبہ ہے کہ اس کام کیلئے غیر ملکی ماہر کمپنیوں سے مدد لی جائے۔
نجی کارگو طیارے کا ملبا تفتیشی ٹیم کے سپرد، بلیک باکس، عملے کے 5 ارکان کی تلاش جاریترجمان پاکستان ایئرپورٹ اتھارٹی (پی اے اے) کے مطابق کارگو طیارے کے مزید ملبے اور عملےکی تلاش گہرے سمندر میں جاری ہے حادثے کے شکار طیارے کے مزید پرزے اور ملبہ سمندر سے برآمد کر لیا گیا۔
شہید کپٹن رضوان کے اہل خانہ نے عملے اور طیارے کے ملبے کی تلاش کیلئے پاکستان نیوی اور دیگر اداروں پر اعتماد کا اظہار کیا لیکن کارگو کمپنی کی شدید بے حسی کی شکایت کی اور مطالبہ کیا کہ کے ٹو ایئرویز کے بیرون ملک موجود مالکان کو واپس لا کر تحقیقات میں شامل کیا جائے۔
متاثرین کے مطابق کے ٹو ایئرویز کی انتظامیہ کی بے حسی کا اندازہ اس سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ ملازمین کو 3 ماہ سے تنخواہیں نہیں ملی تھیں۔ یہ تنخواہ اس المناک حادثہ کے بعد ادا کی گئی۔
ایوی ایشن ماہرین کے مطابق بوئنگ 737 کارگو طیارے کا حادثہ کیوں اور کیسے پیش آیا، یہ اہل خانہ کو بتانا اور حادثہ متاثرین کو معاوضے کی ادائیگی یقینی بنانا حکومت اور ریاست کی ذمہ داری ہے۔