بنگلہ دیش میں انتخابات سے قبل سنگین الزامات، طارق رحمان کا جعلی بیلٹ پیپرز کی چھپائی کا دعویٰ
اشاعت کی تاریخ: 4th, February 2026 GMT
بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) کے چیئرمین طارق رحمان نے آئندہ عام انتخابات سے قبل انتخابی عمل میں سنگین بے ضابطگیوں کا الزام عائد کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ بعض عناصر خفیہ طور پر جعلی بیلٹ پیپرز اور انتخابی مہریں چھاپ رہے ہیں تاکہ انتخابات میں دھاندلی کی جا سکے۔
باریسال کے بیلز پارک میں ایک بڑے انتخابی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے طارق رحمان نے کہا کہ حالیہ دنوں میں موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق کچھ مخصوص گروہوں سے منسلک پرنٹنگ پریسز جعلی بیلٹ پیپرز تیار کر رہے ہیں جو پولنگ کے روز استعمال کیے جا سکتے ہیں۔
انہوں نے الزام لگایا کہ یہ عناصر منظم طریقے سے انتخابی عمل کو متاثر کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
بی این پی چیئرمین کے مطابق ان گروہوں کے کارکنان خاص طور پر خواتین سے قومی شناختی کارڈ نمبرز اور موبائل والٹ اکاؤنٹس کی تفصیلات حاصل کر رہے ہیں، جس سے ووٹروں کو دباؤ میں لانے اور مالی ترغیبات دینے کے خدشات جنم لے رہے ہیں۔
غیر اخلاقی آغاز، شفاف حکمرانی ممکن نہیںطارق رحمان نے کہا کہ جو لوگ انتخابات کا آغاز ہی غیر اخلاقی ہتھکنڈوں سے کریں، وہ کبھی دیانت دار اور شفاف حکمرانی فراہم نہیں کر سکتے۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ ایسے حالات میں صاف اور شفاف حکومت کے دعوے کیسے قابلِ اعتبار ہو سکتے ہیں۔
ہیکنگ کے دعوے مستردبی این پی سربراہ نے ان الزامات کو بھی مسترد کر دیا جن میں متعلقہ گروہوں نے اپنے سوشل میڈیا یا ڈیجیٹل اکاؤنٹس کے ہیک ہونے کا دعویٰ کیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ ماہرین نے ایسے کسی ہیکنگ کے شواہد نہیں پائے اور یہ وضاحتیں الزامات سامنے آنے کے بعد دی گئیں۔
طارق رحمان ہیلی کاپٹر کے ذریعے باریسال پہنچے۔ یہ ان کا تقریباً 20 سال بعد جنوبی شہر کا پہلا دورہ تھا۔ اس موقع پر باریسال ڈویژن کی اعلیٰ پارٹی قیادت نے ان کا استقبال کیا۔
جلسے کے موقع پر سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے۔ پولیس، بارڈر گارڈز اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار جلسہ گاہ اور اطراف کے علاقوں میں تعینات رہے۔
بی این پی رہنماؤں کے مطابق طارق رحمان کی بطور چیئرمین باریسال آمد سے جنوبی بنگلہ دیش میں پارٹی کو نئی سیاسی توانائی اور عوامی حمایت حاصل ہو رہی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
پڑھیں:
خیبر پختونخوا میں بلدیاتی انتخابات مرحلہ وار ہونے کا امکان
الیکشن کمیشن نے 23 اضلاع میں حلقہ بندیاں مکمل کرلیں جبکہ مزید اضلاع میں حلقہ بندیوں کا سلسلہ جاری ہے۔ الیکشن کمیشن جلد خیبر پختونخوا حکومت سے انتخابات کی حتمی تاریخ مانگے گا۔ اسلام ٹائمز۔ الیکشن کمیشن نے کے پی کے میں مرحلہ وار بلدیاتی انتخابات کروانے پر کام شروع کر دیا، صوبے میں بلدیاتی انتخابات 2 مراحل میں ہونے کا امکان ہے۔ الیکشن کمیشن نے 23 اضلاع میں حلقہ بندیاں مکمل کرلیں جبکہ مزید اضلاع میں حلقہ بندیوں کا سلسلہ جاری ہے۔ الیکشن کمیشن جلد خیبر پختونخوا حکومت سے انتخابات کی حتمی تاریخ مانگے گا۔ ذرائع کے مطابق الیکشن کمیشن رواں ماہ کے آخر میں مرحلہ وار بلدیاتی انتخابات کرانے کا حتمی فیصلہ کرے گا، بلدیاتی اداروں کی مدت مارچ اور جون 2026 میں مکمل ہو چکی ہے۔
الیکشن کمیشن نے 23 اضلاع میں الیکشنز کروانے کے لیے تیار ہے، اناضلاع میں بلدیاتی الیکشنز کی تاریخ سے متعلق سمری تاحال خیبر پختونخوا کابینہ میں زیر التوا ہے۔ کے پی کابینہ کے کل کے اجلاس میں سمری سے متعقل فیصلہ متوقع ہے، چیف سیکرٹری کے پی کے 28 جولائی تک الیکشن کمیشن کو آگاہ کریں گے۔