پاکستان کے اوپننگ کرکٹر صائم ایوب نے حالیہ شاندار کارکردگی کے باعث آئی سی سی مینز ٹی20 انٹرنیشنل آل راؤنڈر رینکنگ میں ایک بار پھر پہلی پوزیشن حاصل کر لی ہے۔

23 سالہ صائم ایوب نے یہ اعزاز آسٹریلیا کے خلاف ہوم گراؤنڈ پر کھیلی گئی 3 ٹی20 میچز کی سیریز میں پاکستان کی 0-3 سے کلین سوئپ جیت کے بعد دوبارہ اپنے نام کیا۔

اس دوران انہوں نے زمبابوے کے تجربہ کار آل راؤنڈر سکندر رضا کو پیچھے چھوڑ دیا۔

یہ بھی پڑھیں: ٹی20 ورلڈ کپ: پاکستان بھارت میچ نہ ہونے سے بھارتی براڈکاسٹرز کو اربوں روپے کا مالی نقصان متوقع

یہ کامیابی پاکستان اور صائم ایوب دونوں کے لیے خوش آئند ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب آئی سی سی مینز ٹی20 ورلڈ کپ کے آغاز میں چند ہی دن باقی ہیں۔

پاکستان کی ٹیم اس ٹورنامنٹ میں اپنا دوسرا ٹائٹل جیتنے کی خواہاں ہے، جبکہ اس سے قبل پاکستان نے 2009 میں ہونے والے دوسرے ایڈیشن میں کامیابی حاصل کی تھی۔

Major confidence boost for Pakistan all-rounder with the #T20WorldCup just around the corner ????

More on the latest ICC Men's Player Rankings ⬇️https://t.

co/xpZdhkdT5H

— T20 World Cup (@T20WorldCup) February 4, 2026

آسٹریلیا کے خلاف سیریز میں صائم ایوب نے مجموعی طور پر 119 رنز اسکور کیے اور 3 وکٹیں بھی حاصل کیں، تاہم وہ واحد پاکستانی کھلاڑی نہیں تھے جنہوں نے عمدہ کارکردگی دکھا کر تازہ رینکنگ میں بہتری حاصل کی۔

پاکستان کے اسپنر ابرار احمد نے ٹی20 بولرز کی رینکنگ میں 2 درجے ترقی پا کر دوسری پوزیشن حاصل کر لی ہے, وہ اس وقت بھارت کے ورون چکرورتی سے محض 28 ریٹنگ پوائنٹس پیچھے ہیں۔ ابرار احمد نے آسٹریلیا کے خلاف 3 میچز میں 6 وکٹیں حاصل کیں۔

اسی طرح محمد نواز نے بھی بولرز کی رینکنگ میں 8 درجے بہتری کے ساتھ  7ویں پوزیشن حاصل کر لی، جبکہ سیریز کے آخری میچ میں انہوں نے 5 وکٹیں حاصل کیں۔

محمد نواز ٹی20 آل راؤنڈرز کی فہرست میں بھی ایک درجہ ترقی پا کر چوتھے نمبر پر پہنچ گئے۔

ٹی20 بیٹرز کی رینکنگ میں صائم ایوب 8 درجے ترقی کے ساتھ 27ویں جبکہ قومی ٹیم کے کپتان سلمان علی آغا 12 درجے بہتری کے بعد 29ویں نمبر پر آ گئے ہیں۔

ٹی20 بیٹرز کی ٹاپ 10 فہرست میں بھی رد و بدل دیکھنے میں آیا ہے، جہاں ابھیشیک شرما بدستور پہلی پوزیشن پر موجود ہیں۔

مزید پڑھیں: ٹی20 ورلڈ کپ: قومی ٹیم سری لنکا پہنچ گئی، بھارت کے خلاف میچ کے بائیکاٹ پر آئی سی سی کے ردعمل کا انتظار

جبکہ انگلینڈ کے جوز بٹلر تیسری، سری لنکا کے پتھم نسانکا پانچویں، بھارت کے سوریا کمار یادیو چھٹی اور نیوزی لینڈ کے ٹم سیفرٹ 9ویں نمبر پر ایک ایک درجہ ترقی حاصل کرنے میں کامیاب رہے۔

بیٹنگ رینکنگ میں مجموعی طور پر 7 مختلف ممالک کے کھلاڑی ٹاپ 11 میں شامل ہیں، اور ٹی 20 ورلڈ کپ کے دوران مزید تبدیلیوں کا امکان ہے۔

دیگر نمایاں کھلاڑیوں میں آسٹریلیا کے کیمرون گرین 16 درجے ترقی کے ساتھ 14ویں جبکہ جنوبی افریقہ کے کوئنٹن ڈی کوک 15 درجے بہتری کے ساتھ 22ویں پوزیشن پر ہیں۔

مزید پڑھیں: ٹی20 ورلڈ کپ 2026: گروپ مرحلے کے لیے میچ آفیشلز کا اعلان

 بھارت کے ایشان کشن 32 درجے ترقی کے ساتھ 32ویں اور جنوبی افریقہ کے ریان رِکلٹن 42 درجے چھلانگ لگا کر 40ویں نمبر پر شامل ہیں۔

بولرز کی فہرست میں انگلینڈ کے عادل رشید کی چوتھی اور نیوزی لینڈ کے مچل سینٹنر 8 درجے ترقی کے ساتھ 23ویں نمبر پر نمایاں بہتری حاصل کی۔ ٹی20 ورلڈ کپ میں یہ دونوں اپنی ٹیموں کے لیے کلیدی کردار ادا کر سکتے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

آسٹریلیا آل راؤنڈر رینکنگ ابرار احمد اوپننگ کرکٹر ٹی20 جنوبی افریقہ صائم ایوب کلین سوئپ ورلڈ کپ ورون چکرورتی

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: آسٹریلیا اوپننگ کرکٹر ٹی20 جنوبی افریقہ صائم ایوب کلین سوئپ ورلڈ کپ ورون چکرورتی درجے ترقی کے ساتھ کی رینکنگ میں آسٹریلیا کے ٹی20 ورلڈ کپ صائم ایوب بھارت کے حاصل کی کے خلاف کے لیے

پڑھیں:

کلچر کب تہذیب بنتا ہے

سماجی و کلچرل ارتقا ایک جامع اصطلاح ہے جو کلچرل ارتقاCultural Evolutionاور سماجی ارتقاSocial evolution کے مختلف نظریات پر مشتمل ہے۔یہ نظریات اس بات کی وضاحت کرتے ہیں کہ کلچرز اور معاشرے وقت کے ساتھ کس طرح بدلتے اور ترقی کرتے ہیں۔سماجی و کلچرل ارتقا کو ایک ایسے عمل کے طور پر بیان کیا جا سکتا ہے جس میں وقت گزرنے کے ساتھ معاشرے کی ساخت اور تنظیم میں تبدیلی آتی ہے اور معاشرہ ایک ایسی شکل اختیار کر لیتا ہے جو اپنی ابتدائی شکل سے معیار،خصوصیات اور ساخت کے لحاظ سے نمایاں طور پر مختلف ہوتا ہے۔

ماہرینِ بشریات یعنی اینتھروپالوجسٹ اور ماہرینِ عمرانیات عام طور پر یہ سمجھتے ہیں کہ انسان فطری طور پر سماجی رجحانات رکھتا ہے اور اس کے بہت سے سماجی رویوں کی وجوہات جینیاتی یعنی وراثتی نہیں ہوتیں بلکہ ان کے پیچھے سماجی عوامل اور مختلف حالات کارفرما ہوتے ہیں۔معاشرے ایک پیچیدہ سماجی ماحول میں وجود پذیر ہوتے ہیں اور خود کو اس ماحول کے مطابق ڈھالتے رہتے ہیں۔اسی لیے یہ ایک لازمی حقیقت ہے کہ تمام معاشرے وقت کے ساتھ تبدیلی سے گزرتے رہتے ہیں۔

سماجی و کلچرل ارتقا کے نظریات پیش کرنے والوں میںAuguste Comte،ہربرٹ  سر اور لیوس مورگن نمایاں تھے۔ان کا خیال تھا کہ معاشرے ابتدا میں ایک ابتدائی حالت میں ہوتے ہیں اور وقت گزرنے کے ساتھ آہستہ آہستہ زیادہ مہذب اورترقی یافتہ بنتے جاتے ہیں۔ان نظریات سے بھی بہت پہلے چودھویں صدی عیسوی کے عظیم مسلمان تاریخ دان اور مفکر ابنِ خلدون نے یہ نتیجہ اخذکیا تھا کہ معاشرے زندہ جانداروںLiving organizms کی مانند ہوتے ہیں۔وہ قدرتی اور آفاقی اسباب کے تحت ایک چکرCycleسے گزرتے ہیں یعنی ان کی پیدائش،نشوونما،بلوغت اور آخرکار ان کے لیے موت ناگزیر ہو جاتی ہے۔جرمن فلسفی ہیگلHegel کا خیال تھا کہ معاشرے ابتدا میں ایک قدیم ابتدائی حالت میں ہوتے ہیں۔

شاید اس وقت وہ حالتِ فطرت میں ہوتے ہیں اور پھر ترقی کرتے ہوئے صنعتی یورپ جیسے معاشرے کی شکل اختیار کر لیتے ہیں۔اسی طرح ایڈم فرگوسن،جان ملر اور ایڈم اسمتھ کا موقف تھا کہ تمام معاشرے ترقی کے چار بنیادی مراحل سے گزرتے ہیں پہلا مرحلہ شکار اور خوراک جمع کرنے کا دور،دوسرا مویشی پالنے اور خانہ بدوشی کا دور،تیسرا مرحلہ زرعی دور اور چوتھا تجارت اور صنعت کا دور۔اگر بغور جائزہ لیا جائے تو یہ تمام ماہرین ابنِ خلدون کے خوشہ چین نظر آتے ہیں۔

تہذیب ،سویلائزیشن کی اصطلاح بنیادی طور پر انسانی کلچر کے اس مادی اور عملی پہلو کے لیے استعمال ہوتی ہے جو ٹیکنالوجی،سائنس اور محنت کی تقسیم یعنیDivision of Labourکے لحاظ سے بہت ترقی یافتہ اور پیچیدہ ہو۔قدیم زمانے میں مہذب لوگوں کی اصطلاح اس لیے استعمال کی جاتی تھی تاکہ انھیں وحشی اور ابتدائی Primitiveسے الگ ظاہر کیا جا سکے۔آج کے دور میں مہذب معاشروں کا تقابل اکثر مقامی یا قبائلی معاشروں سے کیا جاتا ہے۔یہ امر بھی بہت افسوس ناک ہے کہ بظاہر تہذیب یافتہ اقوام نے وسائل پر قبضے کے لیے بظاہر وحشیوں پر بہت مظالم ڈھائے۔تاہم آج کل اس اصطلاح کو پہلے کی نسبت زیادہ وسیع معنی میں استعمال کیا جاتا ہے جہاں تہذیب اور کلچر کو تقریباً ایک ہی مفہوم میں لیا جاتا ہے۔اس وسیع مفہوم کے مطابق تہذیب سے مراد کوئی بھی اہم نمایاں اور واضح طور پر منظم انسانی معاشرہ ہو سکتا ہے۔

ایک اینتھروپالوجسٹ کے مطابق کلچر اس وقت تہذیب میں ڈھل جاتا ہے جب خاندان،گروہ یا سوسائٹی جسمانی،ذہنی یا مالی طور پر معذور فرد کی نگہداشت شروع کر دیتی اور اس کے لیے اسپتال اور ادارے وجود میں آجاتے ہیں۔انھیں معذور ہونے کی بنا پر مرنے کے لیے نہیں چھوڑ دیا جاتا۔اس نے کہا کہ کھدائیوں کے دوران اگر کسی ڈھانچے کی ٹوٹی ہوئی ہڈی جڑی ہوئی ملے تو سمجھ جانا چاہیے کہ اس معاشرے نے معذور افراد کی دیکھ بھال کے نظام کو عملی طور پر اپنا رکھا تھا ورنہ وہ فرد خود کسی قابل نہ ہونے کی وجہ سے ایڑیاں رگڑ رگڑ کر بھوک اور پیاس سے مر جاتا۔

 تہذیب انسانی معاشرے کی ترقی کی وہ بظاہر اعلیٰ ترین منزل ہے جہاں لوگ صرف اپنی بنیادی ضروریات پوری کرنے تک محدود نہیں رہتے بلکہ self actualizationکی طرف قدم بڑھاتے،منظم سیاسی،معاشی،سماجی،علمی،مذہبی اور کلچرل ادارے تشکیل دیتے ہیں۔تہذیب دراصل انسانی زندگی کے اس منظم اور ترقی یافتہ نظام کا نام ہے جس میں علم،فن، قانون، ریاست، عدالت، تجارت، شہروں کا بسایا جانا،نمایندہ عمارتوں کی تعمیر،روزافزوں ترقی کرتی ٹیکنالوجی اور اعلیٰ اخلاقی اقدار سب ایک دوسرے سے مل کر ایک مستحکم معاشرہ وجود میں لاتے ہیں۔لفظ سویلائزیشن لاطینی لفظ Civisیعنی شہری سے نکلا ہے۔اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ تہذیب کا شہری زندگی،منظم حکومت اور اجتماعی اداروں سے گہرا تعلق ہے۔تہذیب کلچر کا منظم،ترقی یافتہ اور ادارہ جاتی Institutionalizedروپ ہے جس میں حکومت،قانون،عدالت،شہروں کی منصوبہ بندی،تجارت،سائنس اور ٹیکنالوجی شامل ہو جاتے ہیں۔

آرنلڈ ٹائن بی کے مطابق Civilization rise where societies successfully respond to challenges..ماہرین کا کہنا ہے کہ ہر کلچر تہذیب میں نہیں ڈھلتا لیکن جب اس کے اندر یہ عناصر جیسے خانہ بدوشی کے بجائے مستقل آبادیاں قائم ہو جائیں،زراعت فوڈ سیکیورٹی کی ضامن بن جائے،منظم حکومت ،معاشی نظام ہو،سماجی ادارے بن جائیں،سائنس اور ٹیکنالوجی،فنونِ لطیفہ،مذہب، فلسفہ اور محنت کی تقسیم ہو تو کلچر، تہذیب کہلا سکتا ہے۔

تہذیبوں کے زوال کے عمومی اسباب کا جائزہ لیں تو یہ سامنے آتا ہے کہ یہ عظیم تہذیبیں جب اخلاقی انحطاط کا شکار ہوئیں،سیاسی بدعنوانی حد کو چھونے لگی،معاشی بحران نے جنم لے لیا،بیرونی حملے روکے نہ جا سکے،باہم اختلافات بہت بری صورت اختیار کر گئے،علمی و فکری جمود طاری ہوا اورماحولیاتی تبدیلیوں کے نتیجے میں پیدا ہونے والے چیلنجز سے نبرد آزما ہونے کے قابل نہ رہیں تو یہ تہذیبیں زوال آشنا ہو کر مٹ گئیں۔

متعلقہ مضامین

  • کلچر کب تہذیب بنتا ہے
  • موبائل کمپنیوں کو 4 برسوں میں 3 ارب 41 کروڑ جرمانہ، سروس اور کوریج کی بہتری کیلئے مہلت
  • امریکا کی 250 ویں سالگرہ 5 روزہ نمائش، آزادی کے تصور پر پاکستانی آرٹسٹس کے فن پارے توجہ کا مرکز
  • فیفا نے ورلڈ کپ 2026 کی ٹیم آف دی ٹورنامنٹ کا اعلان کر دیا
  • حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
  • سونے کی قیمت میں نمایاں کمی
  • پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
  • پاکستانی پرچم بردار جہازوں کیخلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی کو قومی سلامتی کا خطرہ تصور کیا جائیگا: دفتر خارجہ
  • دریائے چناب میں ہیڈ مرالہ اور خانکی کے بعد ہیڈ قادرآباد پر بھی اونچے درجے کا سیلا ب
  • پاکستان کے دفاع، سیکیورٹی کے شعبے میں ٹیکنالوجی کا استعمال قابل فخر ہے، وزیراعظم