بلوچستان اسمبلی حلقہ PB-21 کی انتخابی عذرداری کا تحریری فیصلہ جاری
اشاعت کی تاریخ: 4th, February 2026 GMT
وفاقی آئینی عدالت نے بلوچستان اسمبلی کے حلقہ PB-21 حب سے متعلق انتخابی عذرداری کیس میں باپ پارٹی کے امیدوار محمد صالح بھوتانی کی درخواست منظور کرتے ہوئے اپنا تفصیلی تحریری فیصلہ جاری کر دیا ہے۔
وفاقی آئینی عدالت نے اپنے فیصلے میں بلوچستان ہائیکورٹ کا 20 دسمبر 2024 اور الیکشن کمیشن آف پاکستان کا 16 دسمبر 2024 کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا ہے۔ عدالت کے مطابق الیکشن کمیشن کا اقدام سپریم کورٹ کے 20 نومبر 2024 کے حکم کی صریح خلاف ورزی تھا۔
39 پولنگ اسٹیشنز پر دوبارہ گنتی کی درخواستوں پر نیا فیصلہ کرنے کی ہدایتعدالت نے الیکشن کمیشن آف پاکستان کو ہدایت کی ہے کہ وہ 39 پولنگ اسٹیشنز پر دوبارہ گنتی سے متعلق درخواستوں پر سپریم کورٹ کے احکامات کی روشنی میں نئے سرے سے فیصلہ کرے۔
وفاقی آئینی عدالت نے واضح کیا کہ الیکشن کمیشن ان درخواستوں پر قانون کے مطابق 2 ماہ کے اندر فیصلہ مکمل کرے۔
عدالت کے فیصلے کے مطابق دوبارہ گنتی کی درخواستوں پر نئے فیصلے تک محمد صالح بھوتانی کی پوزیشن بحال رہے گی، جبکہ علی حسن زہری کی بطور رکن صوبائی اسمبلی کامیابی کا نوٹیفکیشن ختم کر دیا گیا ہے۔
الیکشن کمیشن پرانی گنتی پر انحصار نہیں کر سکتا تھا: عدالتوفاقی آئینی عدالت نے قرار دیا کہ سپریم کورٹ نے فریقین کی رضامندی سے تمام سابقہ کارروائی منسوخ کر دی تھی، اس کے باوجود الیکشن کمیشن پرانی گنتی کے نتائج پر دوبارہ انحصار نہیں کر سکتا تھا۔
عدالت نے واضح کیا کہ دوبارہ گنتی کا حکم صرف ٹھوس شواہد اور انتخابی بے ضابطگیوں کے واضح ثبوت پر ہی دیا جا سکتا ہے۔
اس کیس کی سماعت چیف جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں جسٹس علی باقر نجفی اور جسٹس ارشد حسین شاہ پر مشتمل تین رکنی بینچ نے کی۔
واضح رہے کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان نے اس سے قبل علی حسن زہری کو کامیاب قرار دیا تھا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: وفاقی آئینی عدالت نے الیکشن کمیشن درخواستوں پر دوبارہ گنتی
پڑھیں:
شازیہ مری کا گلگت بلتستان الیکشن میں وفاقی حکومت پر سرکاری وسائل کے استعمال کا الزام
پاکستان پیپلز پارٹی کی سینئر رہنما شازیہ مری نے گلگت بلتستان کے الیکشن میں وفاقی حکومت پر اثر و رسوخ اور سرکاری وسائل کے استعمال کا الزام لگادیا۔
کراچی سے جاری بیان میں شازیہ مری نے کہا کہ گلگت بلتستان میں وفاقی وزراء کی انتخابی مہم میں موجودگی اور سرکاری مشینری کا استعمال تشویشناک ہے۔
چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی ( پی پی پی) بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ دعا گو ہوں کہ جنگ کے خاتمے کےلیے فیلڈ مارشل کی کوششیں کامیاب ہوں۔
انہوں نے کہا کہ انتخابی عمل میں مداخلت شفافیت اور منصفانہ انتخابات پر سوالیہ نشان ہے، الیکشن کےلیے لیول پلینگ فیلڈ ناگزیز ہے۔
پی پی پی رہنما نے مزید کہا کہ بلاول بھٹو کے فارم 45 اور فارم 47 سے متعلق بیان کو سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کیا جا رہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ بلاول بھٹونے عوام کو یاد دلایا کہ گزشتہ انتخابات میں پیپلز پارٹی کی 9 نشستیں چھینی گئی تھیں، پی پی چیئرمین نے عوام سے کہا تھا کہ اپنے ووٹ اور فارم 45 کی حفاظت کریں۔
شازیہ مری نے یہ بھی کہا کہ درست فارم 45 کی موجودگی میں کسی کو عوامی مینڈیٹ چرانے کا موقع نہیں مل سکتا، فارم 45 انتخابی نتائج کی بنیاد ہے، اسی کے بعد فارم 47 جاری کیا جاتا ہے۔