ہیومن رائٹس واچ (ایچ آر ڈبلیو) نے خبردار کیا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ امریکا کو ایک آمرانہ ریاست کی طرف دھکیل رہے ہیں، جبکہ دنیا بھر میں جمہوریت گزشتہ 4 دہائیوں کی کم ترین سطح پر پہنچ چکی ہے۔

نیو یارک میں قائم انسانی حقوق کی تنظیم نے اپنی سالانہ رپورٹ میں کہا کہ وائٹ ہاؤس میں ٹرمپ کی واپسی نے انسانی حقوق کی اس بگڑتی ہوئی صورتحال کو مزید شدید کر دیا ہے جو پہلے ہی روس اور چین کے بڑھتے اثر و رسوخ کے باعث دباؤ کا شکار تھی۔ رپورٹ کے مطابق ’قواعد پر مبنی عالمی نظام کو کچلا جا رہا ہے‘۔

یہ بھی پڑھیے: لاطینی امریکا میں ہیروز، آمریتیں اور مادورو سے پہلے کی سیاسی تاریخ

ایچ آر ڈبلیو نے کہا کہ امریکا میں صدر ٹرمپ نے انسانی حقوق کے لیے کھلی بے اعتنائی کا مظاہرہ کیا ہے، جن میں امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ (آئی سی ای) کے نقاب پوش اور مسلح اہلکاروں کے ذریعے ’سینکڑوں غیر ضروری طور پر پرتشدد اور توہین آمیز چھاپے‘ شامل ہیں۔

رپورٹ میں انتظامیہ پر الزام عائد کیا گیا کہ نسلی اور لسانی بنیادوں پر الزام تراشی، نیشنل گارڈ کی اندرونِ ملک تعیناتی، سیاسی مخالفین کے خلاف انتقامی کارروائیاں، اور ایگزیکٹو اختیارات میں اضافے کی کوششیں امریکا کو آمریت کی جانب لے جا رہی ہیں۔

تنظیم نے یہ بھی دہرایا کہ امریکا نے 252 وینزویلا کے تارکینِ وطن کو ایل سلواڈور کی ایک سخت سکیورٹی جیل میں منتقل کر کے ’جبری گمشدگی‘ جیسے بین الاقوامی جرم کا ارتکاب کیا۔ بعد ازاں ان افراد نے تشدد اور جنسی زیادتی کے الزامات بھی عائد کیے۔

یہ بھی پڑھیے: امریکا: تاریخ کا طویل ترین حکومتی شٹ ڈاؤن، ڈیموکریٹس کے مطالبات اور ٹرمپ کی ہٹ دھرمی برقرار

ہیومن رائٹس واچ کے مطابق جمہوریت کی عالمی صورتحال 1985 کی سطح پر آ چکی ہے، جب کہ روس، چین اور اب امریکا بھی پہلے کے مقابلے میں کم آزاد ہو چکے ہیں۔

رپورٹ میں اسرائیل پر بھی غزہ میں فلسطینیوں کے خلاف ’انسانیت کے خلاف جرائم‘ کے الزامات دہرائے گئے ہیں، جنہیں اسرائیل اور امریکا نے مسترد کر دیا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

آمریت امریکا ہیومن رائٹس واچ.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: آمریت امریکا ہیومن رائٹس واچ ہیومن رائٹس واچ

پڑھیں:

ٹرمپ کی خام خیالی تھی وہ ہمیں مذاکرات میں لگاکر حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے، ایرانی سفیر

 ایرانی سفیر رضا امیری مقدم(فائل فوٹو)۔ 

پاکستان میں متعین ایرانی سفیر رضا امیری مقدم نے کہا کہ ٹرمپ کی خام خیالی تھی کہ وہ ہمیں مذاکرات میں مشغول کرکے حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے۔ 

ایرانی سفیر نے کہا کہ میناب میں اسکول اور عام شہریوں کو نشانہ بنایا گیا، امریکا اور اسرائیل کو 40 روزہ جنگ کے بعد شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ 

اسلام آباد میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ایرانی سفیر رضا امیری مقدم نے مزید کہا کہ مذاکرات کے حوالے پاکستان ثالث کے طور پر ابھرا، ہم مذاکرات میں اس لیے آئے کہ ہماری نیت ہے، ٹرمپ کہتے ہیں کہ ہمارے پاس ایٹمی ہتھیار نہیں ہونے چاہئیں۔

ایرانی سفیر نے کہا ہمارے رہبر اعلیٰ نے فتویٰ دیا ہوا ہے کہ ہم ایٹمی ہتھیاروں کو حرام سمجھتے ہیں، مذاکرات کی میز پر امریکی کہتے ہیں آپ یورینیم بھی افزودہ نہیں کرسکتے۔  

رضا امیری مقدم نے کہا کہ ایٹمی ہتھیاروں اور پرامن مقاصد کیلئے یورینیم افزودہ کرنا الگ ہے، امریکا اور مغرب کے سامنے ایران کبھی نہیں جھکے گا۔ 

ایرانی سفیر نے کہا کہ ٹرمپ صبح سے شام تک دیوانوں کی طرح باتیں کرتے رہتے ہیں، ان کی خام خیالی تھی کہ وہ ہمیں مذاکرات میں مشغول کرکے حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے۔

متعلقہ مضامین

  • عالمی کشیدگی کے بیچ پاکستان کی کامیاب ثالثی
  • ٹرمپ کے بدلتے پینترے
  • ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
  • جسٹس ریٹائرڈ مقبول باقر سندھ انسانی حقوق کمیشن کے چیئرپرسن مقرر
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • ٹرمپ کی خام خیالی تھی وہ ہمیں مذاکرات میں لگاکر حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے، ایرانی سفیر
  • گلگت بلتستان کو بھی آئینی وبنیادی حقوق ملنے چاہئیں ، سعد رفیق
  • واشنگٹن میں لبنان اور اسرائیل کے درمیان مذاکرات شروع
  • بحرین میں شیعہ مخالف اقدامات کی نئی لہر
  • کراچی: واش روم میں بچے کی پیدائش، تحقیقاتی رپورٹ ڈائریکٹر جناح اسپتال کے حوالے