2020 میں چین سے لڑائی نے بھارت کی اسٹریٹجک کمزوریوں کو بے نقاب کردیا
اشاعت کی تاریخ: 4th, February 2026 GMT
بھارتی پارلیمنٹ میں ہونے والی حالیہ گرما گرم بحث نے 2020 میں لائن آف ایکچوئل کنٹرول (LAC) پر چین کے ساتھ پیش آنے والے فوجی تصادم کے دوران نئی دہلی کی اسٹریٹجک ناکامیوں اور دفاعی کمزوریوں کو ایک بار پھر نمایاں کر دیا ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق دفاعی ماہرین اور اپوزیشن رہنماؤں کا کہنا ہے کہ بھارت مشرقی لداخ میں اپریل اور مئی 2020 کے دوران چین کی تیز رفتار اور منظم فوجی پیش قدمی کا بروقت اندازہ لگانے میں ناکام رہا، جس کے نتیجے میں پیپلز لبریشن آرمی (PLA) کو واضح تزویراتی برتری حاصل ہوئی۔
یہ معاملہ اس وقت دوبارہ منظرِ عام پر آیا جب سابق بھارتی آرمی چیف جنرل (ر) ایم ایم نرواَنے کی غیر شائع شدہ کتاب “Four Stars of Destiny” کے اقتباسات ایک بھارتی جریدے میں رپورٹ ہوئے۔
کتاب کے مسودے کے مطابق چین نے تبت میں جاری فوجی مشقوں سے دستے اچانک ایل اے سی کے اگلے مورچوں پر منتقل کیے، جس نے بھارتی افواج کو ششدر کر دیا۔
جنرل نرواَنے، جو دسمبر 2019 سے اپریل 2022 تک بھارتی فوج کے سربراہ رہے، اعتراف کرتے ہیں کہ بھارت چین کی فوجی نقل و حرکت کی رفتار اور پیمانے کا درست اندازہ لگانے میں ناکام رہا۔ اگرچہ بعد ازاں بھارتی فوج نے پوزیشنز مستحکم کر لیں، تاہم ابتدائی انٹیلی جنس خلا بھاری ثابت ہوا۔
یہ کشیدگی اپریل اور مئی 2020 میں جھڑپوں کی صورت میں بڑھی اور 15 جون 2020 کو گلوان وادی میں خونریز ہاتھا پائی پر منتج ہوئی، جس میں 45 برس بعد پہلی مرتبہ بھارت چین سرحد پر ہلاکتیں ہوئیں۔
منگل کے روز پارلیمنٹ میں بحث کے دوران وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے اپوزیشن کی جانب سے کتاب کے حوالے مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ تاحال شائع نہیں ہوئی۔ تاہم قائد حزب اختلاف راہول گاندھی نے مسودے پر مبنی رپورٹس کا حوالہ دیتے ہوئے الزام لگایا کہ حکومت بحران سے متعلق حقائق کو دبانے کی کوشش کر رہی ہے۔
سیکیورٹی تجزیہ کاروں کے مطابق چین نے بالآخر ایل اے سی کے ساتھ 40 سے 50 ہزار فوجی تعینات کر دیے، جس کے جواب میں بھارت کو ہنگامی بنیادوں پر اضافی فوج، توپ خانہ، میزائل اور راکٹ سسٹمز تعینات کرنا پڑے۔
ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ ردعمل پر مبنی حکمتِ عملی بھارت کی اسٹریٹجک دور اندیشی کی کمی کو ظاہر کرتی ہے، خاص طور پر ایک عسکری اور لاجسٹک طور پر برتر چین کے مقابلے میں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
پڑھیں:
امتحانی تنازعات پر کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی نے بڑا اعلان کردیا
کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابھیجیت دپکے نے بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں 6 جون کو احتجاجی تحریک شروع کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق ابھیجیت دپکے نے کہا ہے کہ وہ 6 جون کو بھارت واپس آ کر دہلی کے جنتر منتر پر پرامن احتجاج کا آغاز کریں گے۔ ان کا مؤقف ہے کہ ملک میں مختلف امتحانی تنازعات کے باعث طلبہ کا مستقبل متاثر ہو رہا ہے، جس پر فوری طور پر ذمے داری طے کی جانی چاہیے۔
دپکے نے مطالبہ کیا ہے کہ نیٹ یو جی پیپر لیک، سی بی ایس ای، سی یو ای ٹی اور ایس ایس سی جی ڈی سمیت مختلف امتحانی بے ضابطگیوں کی ذمے داری قبول کرتے ہوئے مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان اپنے عہدے سے استعفیٰ دیں۔
ان کا دعویٰ ہے کہ امتحانی نظام میں ہونے والی مبینہ بے ضابطگیوں سے ایک کروڑ سے زائد طلبا متاثر ہوئے ہیں۔ انہوں نے ایک ویڈیو پیغام میں طلبا، نوجوانوں اور اپنے حامیوں سے اپیل کی ہے کہ وہ 6 جون کو دہلی میں ان کے احتجاج میں شریک ہوں۔
دپکے کے مطابق پیپر لیک اور دیگر تنازعات کے باعث طلبا شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہوئے، کئی نوجوانوں کی محنت ضائع ہوئی اور بعض افسوسناک واقعات میں خودکشی جیسے سنگین نتائج بھی سامنے آئے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے حالات میں ذمے داروں کا تعین ناگزیر ہو چکا ہے۔
انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ وزیر تعلیم کے استعفے کے مطالبے پر اب تک 8 لاکھ سے زائد افراد دستخط کر چکے ہیں جبکہ لکھنؤ، جے پور، دہلی اور مہاراشٹر سمیت مختلف شہروں میں پہلے ہی احتجاجی مظاہرے کیے جا چکے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ مسلسل ناکامیوں کے باوجود اگر احتساب نہ کیا گیا تو عوامی اعتماد مزید متاثر ہوگا اور طلبا بار بار نقصان اٹھاتے رہیں گے، جبکہ متعلقہ ادارے کسی مؤثر کارروائی سے گریز کر رہے ہیں۔
انہوں نے اعلان کیا کہ وہ دہلی پہنچ کر جنتر منتر پر احتجاج کی اجازت کے لیے حکام سے رابطہ کریں گے اور یہ احتجاج مکمل طور پر پرامن اور آئینی دائرے میں ہوگا۔
دپکے نے یہ بھی کہا کہ انہیں امریکا میں ملازمت کی پیشکش ہوئی تھی، تاہم انہوں نے بیرون ملک جانے کے بجائے بھارت واپس آ کر احتجاج کا فیصلہ کیا ہے۔