Jang News:
2026-06-02@20:44:29 GMT

سپر ٹیکس کا معاملہ سینیٹ کی قائمہ کمیٹی خزانہ میں پہنچ گیا

اشاعت کی تاریخ: 4th, February 2026 GMT

سپر ٹیکس کا معاملہ سینیٹ کی قائمہ کمیٹی خزانہ میں پہنچ گیا

—فائل فوٹو

صنعت، کاروبار اور دیگر پر سپر ٹیکس کا معاملہ سینیٹ کی قائمہ کمیٹی خزانہ میں پہنچ گیا۔

پیپلز پارٹی کی سینیٹر شیری رحمٰن نے سپر ٹیکس سے متعلق معاملہ قائمہ کمیٹی میں اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ آئینی عدالت نے تو کہہ دیا کہ سپر ٹیکس پارلیمان کا اختیار ہے، اس سپر ٹیکس سے لوگوں پر دباؤ اور بوجھ بڑھا ہے۔

سینیٹر عبدالقادر نے بھی دوہرے سپر ٹیکس سے متعلق تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایف بی آر نے اب گرفتاریوں سے ڈرانے دھمکانے کا سلسلہ شروع کر دیا ہے۔

وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا کہ فروری چل رہا ہے دو ماہ بعد ہم دوبارہ آپ کے پاس آجائیں گے، بجٹ کا انتظار نہیں کریں آپ اوور آل صورتِ حال پر بریفنگ لیں، چیئرمین ایف بی آر سے اصلاحات پر مکمل پریزنٹیشن لی جائے۔

شیری رحمٰن نے کہا کہ ایک ہی کلاس سے بار بار ٹیکس ریونیو سے اضافہ کوئی ریونیو ماڈل نہیں۔ جس پر وزیرِ خزانہ نے کہا کہ اب بات نکل چکی ہے تو اب اس پر بات کرتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے یہاں تو لوگ انکم ٹیکس نہیں دیتے سپر ٹیکس کیسے دیں گے؟ سپریم کورٹ سپر ٹیکس کیا ہے؟

شیری رحمٰن نے کہا کہ آئی ایم ایف پروگرام سے متعلق دہرایا جارہا ہے کہ جلد ہم اس سے نکلیں گے، میکرو اکنامک استحکام کے بعد زمینی حقائق کو بھی دیکھا جائے، کور گروتھ کے ساتھ لوگوں کے لیے بہت کچھ ہونا ابھی باقی ہے، لوگ پبلک پرائیویٹ سیکٹرز سے بے روزگار ہو رہے ہیں۔

وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا کہ جو ادارے بند ہو رہے ہیں ان کو مکمل پیکجز کے ساتھ بند کیا جارہا ہے، کسی کے ساتھ کوئی زیادتی نہیں ہو رہی، جب بینکنگ سیکٹر پرائیویٹ ہوا تو 50 ہزار لوگ بے روزگار ہوئے۔

سینیٹر عبدالقادر نے کہا کہ سپر ٹیکس کا فیصلہ آگیا ہے، لوگ کیسے گزشتہ تین چار سال کا ٹیکس دیں گے، اگر کوئی بہتر کارکردگی دکھا رہا ہے تو کیا ضروری ہے اس کو تنگ کیا جائے۔

انہوں نے کہا کہ اس طرح تو آپ لوگوں کو ملک سے کک آؤٹ کر رہے ہیں، تمام بزنس کمیونٹی اور چیمبرز کے اس پر شدید تحفظات ہیں، ایف بی آر جس طرح ہراساں کر رہا ہے وہ بھی درست نہیں، فوری ٹیکس ادائیگی کے لیے دباؤ کے بجائے اس کی وصولی 2، 3 سال میں کی جائے۔

وفاقی وزیر خزانہ نے کہا کہ آئندہ مالی سال کے بجٹ پر کمیٹی سے اس معاملے پر مشاورت کریں گے، چیئرمین ایف بی آر اس معاملے پر کمیٹی کو تفصیلی بریفنگ دیں، اس دفعہ سیلاب زدگان کی امداد کے لیے عالمی امداد نہیں مانگی گئی، اس دفعہ ہمارے پاس اضافی وسائل دستیاب تھے، آپ کی تجاویز کو نوٹ کر لیا ہے۔

چیئرمین ایف بی آر نے کہا کہ کسی کاروبار کو بند نہیں کیا جائے گا، ضرورت پڑی تو کچھ کیسز میں اقساط بھی کردیں گے، سپر ٹیکس کی کل وصولی 217 ارب روپے بنتی ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jang News

کلیدی لفظ: ایف بی آر نے کہا کہ سپر ٹیکس

پڑھیں:

عید تعطیلات کے بعد کاروباری اوقات کار پھر تبدیل کردئیے گئے

حکومت نے بازار اور دکانیں بند کرنے کے اوقاف کار(business hours) تبدیل کر دئیے ۔دکانوں اور کاروباری مراکز کے بند ہونے کے اوقات میں توسیع کا فیصلہ ۔

اسحاق ڈار کی زیر صدارت کفایت شعاری اقدامات کی نگرانی اور عملدرآمد سے متعلق کمیٹی کا اجلاس کمیٹی نے جاری کفایت شعاری اقدامات کا جائزہ لیا نئے اوقات کے مطابق دکانیں، بازار، شاپنگ مالز اور عمومی ریٹیل کاروبار رات 9 بجے تک کھلے رہیں گے۔

ریسٹورنٹس اور کھانے پینے کے مراکز رات 11 بجے تک کھلے ہونگے ٹیک اوے اور ڈلیوری سروسز ان اوقات سے مستثنیٰ ہوں گیشادی ہالز اور تقریبات کے مقامات رات 10 بجے تک ہی کھلے ہونگے۔

مزید پڑھیں:اڈیالہ جیل، بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کی 40 منٹ طویل ملاقات

فارمیسی، اسپتال، پٹرول پمپس، آئی ٹی اور ٹیلی کام سے متعلق ادارے مستثنیٰ ہونگے صوبائی حکومتیں وفاق کے ساتھ رابطے میں رہتے ہوئے ان ہدایات پر مؤثر عملدرآمد کو یقینی بنائیں، کمیٹی کی ہدایت

متعلقہ مضامین

  • عید تعطیلات کے بعد کاروباری اوقات کار پھر تبدیل کردئیے گئے
  • ہمارا ایک مطالبہ ہے بانی کو شفا انٹرنیشنل منتقل کیا جائے، سہیل آفریدی
  • ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا، کپیسٹی چارجز کے سبب بجلی کی قیمتیں زیادہ ہیں، قائمہ کمیٹی تجارت
  • صومالی بحری قزاقوں کے ہاتھوں پاکستانیوں کے اغوا کا معاملہ، متاثرہ خاندان کا موقف سامنے آگیا
  • بانی سے ملاقات تک خیبرپختونخوا کا بجٹ پاس نہ کیا جائے، علیمہ خان کی سہیل آفریدی کو تنبیہ
  • بلوچستان کے نام پر علیحدگی پسند سیاست کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، جمال رئیسانی
  • متوسط اور تنخواہ دار طبقہ پس رہا ہے، حکومت بجٹ میں سہولیات دے، حافظ نعیم الرحمن
  • وفاقی بجٹ5جون کو پیش نہیں کیا جائے گا
  • ٹک ٹاکر حکیم بابر کیس میں ملزمان کا موقف بھی سامنے آگیا
  • بزنس فرینڈلی بجٹ لانے کیساتھ ٹیکس پیئر پر مزید بوجھ نہ ڈالا جائے، پاکستان بزنس فورم