وفاقی آئینی عدالت نے ارشد شریف قتل کیس نمٹا دیا، تفصیلی فیصلہ جاری
اشاعت کی تاریخ: 4th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260204-01-4
اسلام آباد(مانیٹر نگ ڈ یسک ) وفاقی آئینی عدالت نے ارشد شریف قتل کیس نمٹاتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان اور کینیا کی حکومتیں مناسب اقدامات کر رہی ہیں لہٰذا عدالتی مداخلت کی ضرورت نہیں ہے۔ وفاقی آئینی عدالت نے ارشد شریف قتل کیس کے فیصلے میں کہا ہے کہ پاکستان اور کینیا کے درمیان ایم ایل اے پر دستخط ہوچکا، اس وقت عدالتی مداخلت کی ضرورت نہیں لہٰذا ازخود نوٹس کیس اور تمام متعلقہ درخواستیں نمٹائی جاتی ہیں۔فیصلے میں کہا گیا ہے کہ ارشد شریف کے قتل پر صحافتی برادری اور پاکستانیوں کا دکھ سمجھتے ہیں، ورثا کسی بھی معاملے پر متعلقہ عدالتوں سے رجوع کر سکتے ہیں، پاکستان اور کینیا کے درمیان ایم ایل اے پر دستخط ہو چکا ہے، اس وقت عدالتی مداخلت کی ضرورت نہیں ہے۔وفاقی آئینی عدالت نے کہا کہ تحقیقات کی نگرانی یا اسے مستقل زیر التوا رکھنا ملزم کے حقوق اور شفافیت کے منافی ہے۔وفاقی آئینی عدالت نے بین الاقوامی فورمز پر جانے کا معاملہ حکومت کی صوابدید اور خارجہ پالیسی پر چھوڑ دیا اور کہا کہ خصوصی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کی اب تک کی کارروائی پر کسی فریق نے اعتراض نہیں کیا۔فیصلے میں کہا گیا کہ ملزمان کی گرفتاری اور پاکستان میں ٹرائل کے لیے بلیک وارنٹس جاری کیے جا چکے ہیں، تحقیقات کی رفتار کینیا کے ساتھ سفارتی ہم آہنگی اور خود مختار ریاستوں کے قوانین کے تابع ہے، ایم ایل اے کے ذریعے فوجداری مقدمے کے حل کے لیے شواہد اکٹھے کرتے ہیں۔وفاقی آئینی عدالت نے کہا کہ ارشد شریف کے قتل کے معاملے کو عالمی فورمز پر اٹھانے کی بات کی گئی، آئین یا آرٹیکل 40 کہتا ہے کہ ریاست اقوام کے ساتھ دوستانہ تعلقات استوار کرے گی، وفاقی آئینی عدالت کا وفاقی حکومت کو معاملہ عالمی فورم پر اٹھانے کی ہدایت کرنا تفتیش میں مداخلت اور خارجہ پالیسی میں مداخلت کے مترادف ہوگا۔وفاقی آئینی عدالت نے کہا کہ بلاشبہ بین الاقوامی تعلقات بہتر انداز میں وزارت خارجہ اور وفاقی حکومت چلا سکتی ہے لہٰذا ہم یہ معاملہ وفاقی حکومت کے سپرد کرتے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: وفاقی ا ئینی عدالت نے ارشد شریف کہا کہ
پڑھیں:
سپریم کورٹ: 5 سالہ بچی سے زیادتی و قتل کے مجرم کی سزائے موت برقرار، فیصلہ سنا دیا گیا
فائل فوٹو
سپریم کورٹ نے 5 سالہ بچی سے زیادتی اور قتل کے مجرم کی اپیل مسترد کرتے ہوئے فیصلے میں کہا کہ رضا کارانہ نشہ جرم کا دفاع نہیں بن سکتا۔
سپریم کورٹ کے جسٹس ہاشم خان کاکڑ نے فیصلہ تحریر کیا اور اپیل خارج کر دی گئی، تین رکنی بینچ میں جسٹس صلاح الدین پنہور اور جسٹس اشتیاق ابراہیم شامل تھے۔
عدالتی فیصلے میں کہا گیا کہ رضاکارانہ طور پر نشہ کرنے والا شخص جرم سے استثنیٰ کا دعویٰ نہیں کر سکتا، اپنی مرضی سے شراب یا نشہ آور چیز استعمال کرنے والا مجرمانہ ذمہ داری سے بچنے کا حق نہیں رکھتا، جرم سے استثنیٰ صرف اس صورت میں ممکن ہے جب کسی شخص کو اس کی مرضی کے خلاف یا لاعلمی میں نشہ دیا گیا ہو۔
سپریم کورٹ نے ٹرائل کورٹ اور ہائیکورٹ کی جانب سے دی گئی سزائے موت برقرار رکھی، مجرم کے وکیل نے نشے کی حالت کو بنیاد بنا کر سزائے موت عمر قید میں تبدیل کرنے کی استدعا کی، مجرم نے خود تسلیم کیا کہ اس نے اپنی مرضی سے شراب پی تھی۔
فیصلے میں کہا گیا کہ رضاکارانہ نشہ مجرمانہ عمل کے دفاع کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا، مجرم نے بے دردی سے کمسن بچی کو زیادتی کے بعد قتل کیا، جرم انتہائی سنگین نوعیت کا ہے۔