یورپی یونین کی وارننگ، پاکستان پر کاربن اخراج کم کرنے کا دباؤ
اشاعت کی تاریخ: 4th, February 2026 GMT
حکومت نے آئندہ مالی سال 27-2026 کے بجٹ کی تیاری کے لیے تمام وفاقی وزارتوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ ماحولیاتی تبدیلی سے نمٹنے سے متعلق منصوبوں پر مبنی اپنی تجاویز جمع کرائیں۔
یہ اقدام ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب یورپی یونین، جو پاکستان کی بڑی برآمدی منڈی ہے، نے کاربن اخراج کی حد پوری نہ کرنے کی صورت میں پاکستانی مصنوعات پر پابندی کی وارننگ دی ہے۔
کراچی میں آئی بی اے کے سٹی کیمپس میں منعقدہ ایک مباحثے سے خطاب کرتے ہوئے آئی بی اے سینٹر فار بزنس اینڈ اکنامک ریسرچ کی ڈائریکٹر پروفیسر لبنیٰ ناز نے کہا کہ یورپی یونین نے جنوری 2026 میں پالیسی بیان جاری کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان ٹیکسٹائل کونسل کا پائیدار برآمدی ترقی اور زرمبادلہ بڑھانے کا عزم، حکومتی پالیسیوں کو سراہا
جس کے تحت اسٹیل، سیمنٹ، کھاد، ایلومینیم، بجلی اور ہائیڈروجن سمیت پاکستان کی برآمدی صنعتوں کو سالانہ 50 ٹن فی درآمد کنندہ کاربن اخراج کی حد میں لانا ہوگا۔
انہوں نے خبردار کیا کہ اگر یہی شرط آئندہ برسوں میں ٹیکسٹائل سیکٹر پر بھی لاگو ہوئی تو پاکستان کی برآمدات کو شدید نقصان پہنچ سکتا ہے۔
وزیر خزانہ کے مشیر خرم شہزاد نے بتایا کہ ملکی تاریخ میں پہلی بار وزارتِ خزانہ نے تمام وزارتوں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ بجٹ میں گرین اور ڈیزاسٹر نیوٹرل منصوبوں کی تفصیلات پیش کریں، جن میں اخراجات، آمدن اور فائنانسنگ کے ذرائع شامل ہوں۔
مزید پڑھیں: پاکستان کو جی 20 میں شامل کرنا ہدف، سیاسی عدم استحکام نے معاشی ترقی کو نقصان پہنچایا، اسحاق ڈار
انہوں نے کہا کہ پاکستان عالمی سطح پر گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں محض 0.
خرم شہزاد کے مطابق 2022 کے تباہ کن سیلاب، جن سے ایک تہائی آبادی متاثر اور 30 ارب ڈالر کا معاشی نقصان ہوا، نے حکومت کو ماحولیاتی ہنگامی صورتحال کی سنگینی کا احساس دلایا۔
مشیر خزانہ نے بتایا کہ عالمی بینک نے پاکستان کے لیے 10 سال میں 20 ارب ڈالر کی کلائمیٹ فائنانسنگ کا وعدہ کیا ہے، جبکہ آئی ایم ایف نے ریزیلینس اینڈ سسٹین ایبلٹی فیسلٹی کے تحت 200 ملین ڈالر کی پہلی قسط جاری کر دی ہے۔
مزید پڑھیں: برآمدات میں کمی پر پاکستان ٹیکسٹائل کونسل کا اظہار تشویش
اس کے علاوہ حکومت نے 300 ارب روپے کا بلا ضمانت زرعی فائنانسنگ پروگرام ’زرخیز‘ شروع کیا ہے، جس سے ساڑھے 7 لاکھ کسانوں کو فائدہ پہنچے گا۔
انہوں نے کہا کہ وزارتِ موسمیاتی تبدیلی نے جدید ڈیٹا کے لیے ایم آئی ایس سسٹم قائم کیا ہے، جبکہ سپارکو کا نظام گلیشیئر پگھلاؤ، بارشوں اور سیلاب سے متعلق ڈیٹا فراہم کر رہا ہے، جس کی بنیاد پر سرمایہ کاری کے فیصلے کیے جائیں گے۔
مباحثے میں ماہرین نے اس بات پر زور دیا کہ وفاقی، صوبائی اور مقامی حکومتوں کے درمیان ہم آہنگی کا فقدان ہے، جبکہ مقامی حکومتوں اور کمیونٹیز کا کردار موسمیاتی منصوبوں میں تقریباً غائب ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
آئی ایم ایف بجٹ پاکستان توانائی ٹرانسپورٹ ٹیکسٹائل سیکٹر زراعت زرخیز سپارکو سیلاب صنعت فائنانسنگ کلائمیٹ فائنانسنگ گرین ہاؤس گلیشیئر ماحولیاتی تبدیلی وزارت موسمیاتی تبدیلی
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ا ئی ایم ایف پاکستان توانائی ٹرانسپورٹ ٹیکسٹائل سیکٹر سپارکو سیلاب فائنانسنگ کلائمیٹ فائنانسنگ گرین ہاؤس گلیشیئر ماحولیاتی تبدیلی وزارت موسمیاتی تبدیلی کے لیے کیا ہے
پڑھیں:
خیبر پختونخوا میں بارشوں اور فلش فلڈز کے حادثات میں 22 افراد جاں بحق
صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطاق 19 جولائی سے اب تک خیبرپختونخوا کے مختلف علاقوں میں بارشوں اور فلش فلڈز سے مجموعی طور پر 9 مرد، 10 بچے اور تین خواتین جاں بحق ہوئیں۔ اسلام ٹائمز۔ خیبر پختونخوا میں ہونے والی بارشوں اور فلش فلڈز کے حادثات میں 5 روز کے دوران 22 شہری جاں بحق جبکہ 23 زخمی ہوگئے۔ صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطاق 19 جولائی سے اب تک خیبرپختونخوا کے مختلف علاقوں میں بارشوں اور فلش فلڈز سے مجموعی طور پر 9 مرد، 10 بچے اور تین خواتین جاں بحق ہوئیں۔ اعلامیے کے مطابق زخمیں میں 11 مرد، 5 خواتین 7 بچے شامل ہیں جبکہ تیز بارشوں اور فلش فلڈ کے باعث مجموعی طور پر 37 گھروں کو نقصان پہنچا جس میں 29 گھروں کو جزوی جبکہ 8 گھر مکمل منہدم ہوگئے۔ پی ڈی ایم اے کے مطابق حادثات پشاور، نوشہرہ، خیبر، مردان , بونیر، باجوڑ، شانگلہ، صوابی، چترال لوئر، دیر لوئر اور اپر، ایبٹ آباد، مانسہرہ،ہری پور، ٹانک، تور غر اور کرم اور شمالی و جنوبی وزیرستان میں پیش آئے۔
اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ پی ڈی ایم اے، ریسکیو 1122، ضلعی انتظامیہ اور متعلقہ اداراے آپس میں رابطے میں اور امدادی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہیں جبکہ متاثرہ اضلاع کی انتظامیہ کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ متاثرین میں جلد امدادی سامان تقسیم کردے۔ ڈی جی پی ڈی ایم اے نے ضلعی انتظامیہ کو امدادی سرگرمیاں تیز کرنے اور متاثرین کو فوری معاونت فراہم کرنے کی ہدایت کی اور بتایا کہ صوبہ کے تمام دریاؤں اور ندی نالوں میں پانی کی سطح اور بہاو معمول کے مطابق ہے۔ پی ڈی ایم اے کے مطابق تیز بارشوں کا یہ سلسلہ آج تک وقفے وقفے سے جاری رہنے کا امکان ہے۔ پی ڈی ایم اے نے عوام سے اپیل کی کہ وہ غیر ضروری سفر سے گریز کریں اور حساس سیاحتی مقامات کا رخ نہ کریں جبکہ حکومتی اداروں کی جانب سے الرٹس/ اور ایڈوائزری پر عمل کریں۔
ڈی جی پی ڈی ایم اے کے مطابق ایمرجنسی آپریشن سینٹر مکمل طور پر فعال ہے، عوام کسی بھی نا خوشگوار واقعے کی اطلاع ، موسمی صورتحال سے آگائی اور معلومات کے لیے فری ہیلپ لائن 1700 پر رابطہ کریں۔