این آئی سی وی ڈی ،عوامی فنڈز کا غلط استعمال، ہائی لیول انکوائری کا مطالبہ
اشاعت کی تاریخ: 4th, February 2026 GMT
کراچی کے لیے دس ارب کا بجٹ مختص ہونے کے باوجود ساڑھے چار ارب کا مزید مطالبہ
تین سالہ آڈٹ میں اربوں کی مالی بے ضابطگیاں، اختیارات کا ناجائز استعمال اور کرپشن
نیشنل انسٹیٹیوٹ آف کارڈیو ویسکولر ڈیزیز (NICVD)کراچی میں عوامی فنڈز کے مبینہ غلط استعمال پر سنگین سوالات جنم لے رہے ہیں، جن کا تعلق ادارے کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر سے جوڑا جا رہا ہے ۔این آئی سی وی ڈی کراچی کے لیے سالانہ تقریباً دس ارب روپے کا بجٹ مختص ہے ، جو صرف کراچی کے لیے مخصوص ہے ۔ اس کے باوجود پروفیسر طاہر صغیر کی جانب سے حکومت سندھ سے چار اعشاریہ پانچ ارب روپے اضافی بجٹ کی ڈیمانڈ کی گئی ہے ۔گزشتہ تین سالہ آڈٹ جس کی مدت مکمل ہو چکی ہے میں اربوں روپے کی مالی بے ضابطگیاں، اختیارات کا ناجائز استعمال، کرپشن اور غیر شفاف پریکٹسز سامنے آئی ہیں، جن کی توثیق ڈی جی آڈٹ کی جانب سے بھی کی جا چکی ہے ۔ایسے حالات میں یہ ایک اہم سوال ہے کہ صرف کراچی کے لیے مختص بجٹ میں اضافے کی منظوری، ہائی لیول انکوائری کے بغیر کیوں دی جا رہی ہے ؟ اضافی فنڈز کی منظوری سے قبل یہ جاننا ناگزیر ہے کہ گزشتہ تین برسوں میں بجٹ کس طرح خرچ کیا گیا، کن مدات میں رقوم استعمال ہوئیں، اور اضافی بجٹ کن بنیادوں پر مانگا جا رہا ہے ۔لہٰذا عوامی مفاد اور قومی خزانے کے تحفظ کے لیے فوری طور پر ایک آزاد، شفاف اور اعلیٰ سطحی انکوائری کا انعقاد ناگزیر ہے تاکہ حقائق عوام کے سامنے آ سکیں اور ذمہ داروں کا تعین ہو سکے ۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
کلیدی لفظ: کراچی کے لیے
پڑھیں:
ایران نے فوجی اڈوں کے استعمال پر برطانیہ کو سخت وارننگ دے دی
ایرانی وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ برطانوی حکومت جارحیت کی مذمت کرنے کے بجائے حملہ آوروں کا ساتھ دے رہی ہے، جبکہ حملوں میں کسی بھی قسم کی معاونت جارحیت اور جنگی جرائم میں شراکت داری کے مترادف ہے۔ اسلام ٹائمز۔ ایران کی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ ایران پر حملوں کے لیے برطانوی فوجی اڈوں کا استعمال بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ ایرانی وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ برطانوی حکومت جارحیت کی مذمت کرنے کے بجائے حملہ آوروں کا ساتھ دے رہی ہے، جبکہ حملوں میں کسی بھی قسم کی معاونت جارحیت اور جنگی جرائم میں شراکت داری کے مترادف ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ ایسے اقدامات ایران کے خلاف براہِ راست جارحیت میں شرکت تصور کیے جا سکتے ہیں، جس کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔ ایرانی وزارت خارجہ نے واضح کیا کہ ایران اپنی خودمختاری، سلامتی اور علاقائی سالمیت کے دفاع کا حق محفوظ رکھتا ہے۔ وزارت خارجہ نے خبردار کیا کہ جو بھی ملک ایران پر حملوں میں مدد فراہم کرے گا، اسے اپنے اقدامات کے نتائج بھگتنا ہوں گے۔