شبِ برات پر گورنر سندھ اور ڈاکٹر فاروق ستار کا قبرستانوں کا دورہ، مرحومین کے لیے دعائیں
اشاعت کی تاریخ: 4th, February 2026 GMT
کراچی:
شب برات کے موقع پر رات گئے گورنر سندھ کامران خان ٹیسوری اور ایم کیو ایم پاکستان کے سینئر رہنما ڈاکٹر فاروق ستار نے کراچی کے مختلف قبرستانوں کا دورہ کیا اور وہاں کیے گئے انتظامات کا تفصیلی جائزہ لیا۔
گورنر سندھ نے قبرستانوں میں صفائی، روشنی، سیکیورٹی اور دیگر سہولیات کا معائنہ کیا اور متعلقہ اداروں کو ہدایت دی کہ زائرین کو ہر ممکن سہولت فراہم کی جائے۔ اس موقع پر انہوں نے انتظامات پر اطمینان کا اظہار کیا۔
کامران خان ٹیسوری نے شبِ برات کے موقع پر مرحومین کے ایصالِ ثواب کے لیے خصوصی دعا کی اور ملک پاکستان کی سلامتی، استحکام اور خوشحالی کے لیے بھی دعا مانگی۔
مزید پڑھیںشب برات آج مذہبی عقیدت و احترام کے ساتھ منائی جائے گی
ڈاکٹر فاروق ستار نے کہا کہ شبِ برات کا پیغام بخشش، دعا اور اصلاح کا ہے اور اس رات کو اتحاد و یگانگت کے ساتھ منانا چاہیے۔
دورے کے دوران شہریوں کی بڑی تعداد بھی قبرستانوں میں موجود تھی جبکہ انتظامیہ کی جانب سے سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
کے ڈی اے کو مرحوم افسر کے واجبات لواحقین کو ادا کرنے کا حکم
— فائل فوٹوسندھ ہائی کورٹ نے کے ڈی اے کو مرحوم افسر کے لواحقین کے واجبات کی ادائیگی کا حکم دے دیا۔
عدالت کے آئینی بینچ نے کے ڈی اے کے مرحوم افسر کے واجبات کی لواحقین کو عدم ادائیگی کے کیس کی سماعت کی۔
درخواست گزار کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ کے ڈی اے نے واجبات تسلیم کرنے کے باوجود ادائیگی نہیں کی۔
عدالت کے استفسار پر کے ڈی اے کے وکیل نے بتایا کہ کے ڈی اے اب تک 3 لاکھ 50 ہزار روپے ادا کرچکا ہے، ادائیگی میں تاخیر مالی مشکلات کے باعث ہوئی۔
کے ڈی اے کے وکیل نے بتایا کہ سندھ حکومت سے 5 ارب روپے کی گرانٹ طلب کی گئی ہے۔
کراچی سندھ ہائی کورٹ نے ایکسائز افسر کے خلاف 4 من سے...
جس پر عدالت نے اپنے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ریکارڈ کے مطابق مرحوم افسر کے واجبات ان کی زندگی میں ادا نہیں کیے گئے، درخواست گزار قانونی وارث ہونے کے باعث واجبات کی حق دار ہیں، پینشن اور ریٹائرمنٹ فوائد کسی ادارے کی صوابدید نہیں بلکہ قانونی حق ہے۔
عدالت نے اپنے حکم میں کہا کہ واجبات کی بر وقت ادائیگی ریاستی اداروں کی آئینی ذمے داری ہے، ادارے کی مالی مشکلات ملازمین کو تسلیم شدہ حقوق سے محروم رکھنے کا جواز نہیں بن سکتیں، سرکاری ادارے مالی اور انتظامی امور بہتر انداز میں چلانے کے پابند ہیں، کے ڈی اے درخواست گزار کو واجبات کی مد میں 1 کروڑ 10 لاکھ روپے ادا کرے اور عمل درآمد رپورٹ رجسٹرار سندھ ہائی کورٹ کو پیش کی جائے۔