جی ڈی اے8 فروری کو ملک گیر یوم سیاہ منائے گا،پیر پگارا
اشاعت کی تاریخ: 4th, February 2026 GMT
ریاست مخالف پروپیگنڈا برداشت نہیں کیا جائے گا، ملکی سلامتی پرسمجھوتا ناقابل قبول ہے
حکمرانوں کے پاس ملک چلانے کی اہلیت و قابلیت نہیں، علماء مشائخ کے وفد سے ملاقات
مسلم لیگ فنکشنل اور جی ڈی اے کے سربراہ پیر پگارا نے علماء مشائخ فیڈریشن آف پاکستان کے وفد سے ملاقات کے دوران کہا کہ ریاست مخالف پروپیگنڈا برداشت نہیں کیا جائے گا اور ملکی سلامتی پر کسی بھی قسم کا سمجھوتا ناقابل قبول ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ حکمرانوں کے پاس ملک چلانے کی اہلیت و قابلیت نہیں اور ملکی اداروں کی مسلسل تباہ حالی اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ موجودہ حکمران عوامی توقعات پر پورا نہیں اتر رہے۔ پیر پگارا نے کہا کہ ملک میں کرپشن، نااہلی اور غلط پالیسیوں نے مضبوط اداروں کو کمزور کر دیا ہے جس کے باعث عام شہری مہنگائی، بے روزگاری اور معاشی بدحالی کا شکار ہیں جبکہ روزمرہ استعمال کی اشیاء عوام کی پہنچ سے دور ہو گئی ہیں اور تعلیم یافتہ نوجوان ڈگریاں ہاتھ میں لیے روزگار کے لیے در در کی ٹھوکریں کھا رہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ لا قانونیت اور بڑھتی ہوئی بے امنی حکومت کی رٹ ختم ہونے کا ثبوت ہیں اور قانون نافذ کرنے والے ادارے سیاسی دباؤ کے باعث آزادانہ طور پر اپنا کردار ادا کرنے سے قاصر ہیں۔پیر پگارا نے اعلان کیا کہ جی ڈی اے 8 فروری کو ملک بھر میں یوم سیاہ منائے گا جس کا مقصد فارم 47 کے ذریعے مسلط اسمبلیوں اور حکومتوں کو یکسر مسترد کرنا اور عوام کے حقوق کے لیے آواز بلند کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک کو بحرانوں سے نکالنے کا واحد راستہ آزاد، خودمختار اور غیر جانبدار الیکشن کمیشن کے تحت شفاف، منصفانہ اور آزاد انتخابات ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
پڑھیں:
کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن)سینیٹر سرمد علی کی قائم مقام صدارت میں پی ٹی وی ہیڈ کوارٹر اسلام آباد میں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس منعقد ہوا جس میں این سی سی آئی اے کی جانب سے سوشل میڈیا کے اعداد و شمار اور میٹا کی جانب سے قابلِ اعتراض مواد ہٹانے کے حوالے سے بریفنگ دی گئی۔ این سی سی آئی اے نے واضح کیا کہ اس سے قبل کمیٹی کو جو اعداد و شمار فراہم کیے گئے تھے، وہ میٹا کے عوامی سطح پر دستیاب ڈیٹا پر مبنی تھے۔ کمیٹی نے اس وضاحت کو قبول کیا اور تصدیق شدہ حقائق کی بنیاد پر ذمہ دارانہ رپورٹنگ کی ضرورت پر زور دیا۔
کمیٹی نے بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ متنازعہ ریمارکس پر ایک اخبار کے کالم نگار کو نوٹس جاری کرنے کے معاملے کا بھی جائزہ لیا۔ این سی سی آئی اے نے کمیٹی کو بتایا کہ یہ نوٹس پاس (PAS) افسران ایسوسی ایشن کے صدر کی طرف سے درج کرائی گئی شکایات کے بعد صرف کالم نگار کا مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا۔ مزید آگاہ کیا گیا کہ پیکا کے تحت کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، کالم نگار نے تاحال نوٹس کا جواب نہیں دیا، اور یہ مضمون اخبار کے ای پیپر سے ہٹا دیا گیا ہے، اگرچہ یہ کالم نگار کے فیس بک پیج پر اب بھی دستیاب ہے۔
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس،فلم "بلھا" پر پابندی یا نام تبدیلی کی سفارش، صحافیوں کے ہاؤسنگ کوٹے اور پیکا کیسز پر اہم فیصلے
بحث کے دوران اراکین نے پارلیمنٹ میں دی گئی حکومت کی اس یقین دہانی کو دہرایا کہ پیکا کا استعمال اخبارات اور ٹیلی ویژن کی ویب سائٹس یا ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے خلاف نہیں کیا جائے گا کیونکہ ان کے منظم کردہ مواد کو بالترتیب پریس کونسل اور پیمرا کنٹرول کرتے ہیں۔ سینیٹر پرویز رشید نے اس بات پر زور دیا کہ حقائق واضح کرنے کے لیے کالم نگار کو نوٹس کا جواب دینے کا کہا جائے۔ کمیٹی نے متفقہ طور پر مشاہدہ کیا کہ ہر فرد کی عزت اور تقدس کا احترام کیا جانا چاہیے۔ مشاورت کے بعد، قائم مقام چیئرمین نے این سی سی آئی اے کو ہدایت کی کہ وہ شکایت اور شکایات کنندہ دونوں کو پریس کونسل آف پاکستان کے پاس بھیجیں، جو کہ شائع شدہ کالم کا جائزہ لینے اور اس معاملے پر فیصلہ کرنے والا مناسب فورم ہے۔
کمیٹی نے صوبائی حکام سے پیکا کے مقدمات کی این سی سی آئی اے کو منتقلی کا بھی جائزہ لیا۔ سینیٹر وقار مہدی کے سوال پر این سی سی آئی اے کے حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ سندھ سے اب تک صرف نو مقدمات منتقل کیے گئے ہیں، جبکہ دیگر صوبوں میں مقدمات کی منتقلی کا عمل ابھی باقی ہے۔ تفصیلی غوروخوض کے بعد، سینیٹر سرمد علی نے ہدایت کی کہ تمام متعلقہ صوبائی حکام کو خطوط بھیجے جائیں تاکہ عمل درآمد کے لیے سینیٹ کی ذیلی کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کی سفارشات اور رپورٹ کے ساتھ زیر التوا مقدمات کی منتقلی کو تیز کیا جا سکے۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
مزید :