اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)وفاقی آئینی عدالت نے بلوچستان اسمبلی کے حلقہ پی بی اکیس میں انتخابی عذرداری کا فیصلہ سناتے ہوئے محمد صالح بھوتانی کو دوبارہ منتخب قرار دے دیا۔

نجی ٹی وی سما نیوز کے مطابق اسلام آباد میں وفاقی آئینی عدالت نے بلوچستان اسمبلی کے حلقہ پی بی 21 حب میں انتخابی عذرداری کا فیصلہ سنایا اور بلوچستان عوامی پارٹی کے محمد صالح بھوتانی کو دوبارہ منتخب ایم پی اے قرار دے دیا۔

چیف جسٹس امین الدین کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے 29 جنوری کو فیصلہ محفوظ کیا تھا۔ پیپلز پارٹی کے امیدوار علی حسن زہری کی درخواست پر الیکشن کمیشن نے انتالیس پولنگ سٹیشنز پر دوبارہ گنتی کا حکم دیا تھا،جس کے خلاف محمد صالح بھوتانی نے سپریم کورٹ سے رجوع کیا۔ سپریم کورٹ نے بیس نومبر دوہزارچوبیس کو ری کاؤنٹنگ کی تمام کارروائیاں کالعدم قرار دی تھیں، لیکن الیکشن کمیشن نے اسے بحال کر کے علی حسن زہری کو کامیاب قرار دیا۔

پنجاب اسمبلی: ستھرا پنجاب اتھارٹی اور کنٹرول اجزائے منشیات پنجاب کے مسودہ قوانین منظور

محمد صالح بھوتانی نےاس فیصلے کو بلوچستان ہائی کورٹ میں چیلنج کیا، تاہم ہائی کورٹ نے درخواست ناقابل سماعت قرار دیتے ہوئےخارج کر دی۔ بعد ازاں وفاقی آئینی عدالت نے الیکشن کمیشن کے ری کاؤنٹنگ کے حکم کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے سپریم کورٹ کے حکم کی خلاف ورزی تسلیم کی۔

بلوچستان ہائیکورٹ کافیصلہ کالعدم قرار دیا اور علی حسن زہری کو پی بی اکیس حب کے ایم پی اے کے عہدے سے ڈی نوٹیفائی کرنے کا حکم دیا،عدالت نے نو فروری 2024 کی اصل انتخابی پوزیشن بحال کرتے ہوئے محمد صالح بھوتانی کو دوبارہ منتخب ایم پی اے قرار دیا۔

پی آئی اے کا پیرس سے آنے والے مسافروں کیلئے کرایوں میں رعایت کا اعلان

مزید :.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Pakistan

کلیدی لفظ: وفاقی آئینی عدالت نے محمد صالح بھوتانی

پڑھیں:

گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست

فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔

انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔

گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔

متعلقہ مضامین

  • چیف جسٹس سپریم کورٹ کا ضلع و سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت پر اظہار افسوس
  • ’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
  • کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
  • خیبر پختونخوا میں بلدیاتی انتخابات مرحلہ وار ہونے کا امکان
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
  • محسن نقوی کی مستونگ کے قریب  سیشن جج اور جوڈیشل مجسٹریٹ پر فائرنگ کی پرزور مذمت
  • لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی
  • بلاول کے پنجاب کے شہروں کی صورتحال پر سوالات، مریم اورنگزیب نے ویڈیو جاری کرکے جواب دیدیا
  • خیبرپختونخوا؛ کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم