5 ہزار روپے کے کرنسی نوٹ ختم کرنے سے متعلق گورنر اسٹیٹ بینک کا اہم بیان سامنے آگیا
اشاعت کی تاریخ: 4th, February 2026 GMT
گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد نے پارلیمانی کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اسٹیٹ بینک نے نئے ڈیزائن کے کرنسی نوٹس کے اجرا کی تجویز کابینہ کو بھجوا دی ہے، جس میں جدید سیکیورٹی فیچرز شامل کیے گئے ہیں۔ اسٹیٹ بینک کے بورڈ نے تمام نئے کرنسی نوٹس کے ڈیزائن فائنل کر کے وفاقی حکومت کو منظوری کے لیے ارسال کر دیے ہیں۔
گورنر اسٹیٹ بینک کے مطابق اب نئے کرنسی نوٹس کے اجرا کی حتمی منظوری وفاقی حکومت نے دینا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ تمام مالیت کے کرنسی نوٹس کے ڈیزائن تبدیل کیے جا رہے ہیں اور نئے نوٹس کے ڈیزائن اور اجرا میں جدید ٹیکنالوجی متعارف کروائی جا رہی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ پلاسٹک کرنسی نوٹس کو بھی تجرباتی بنیادوں پر متعارف کروانے پر غور کیا جا رہا ہے۔
گورنر اسٹیٹ بینک نے واضح کیا کہ پانچ ہزار روپے کے کرنسی نوٹ کو ختم کرنے کی کوئی تجویز زیر غور نہیں۔
اس موقع پر چیئرمین ایف بی آر راشد محمود لنگڑیال نے کہا کہ پانچ ہزار روپے کے نوٹ کے معاملے کو چھیڑنے سے معیشت میں اتار چڑھاؤ آ سکتا ہے، جس پر چیئرمین کمیٹی سلیم مانڈوی والا نے کہا کہ جب گورنر اسٹیٹ بینک واضح کر چکے ہیں کہ پانچ ہزار کا نوٹ ختم نہیں ہو رہا تو اس معاملے پر بات بھی ختم ہو گئی۔
اجلاس میں بینکوں کی جانب سے اے ٹی ایم کے ذریعے رقوم نکلوانے اور جمع کروانے پر ایس ایم ایس چارجز کا معاملہ بھی زیر بحث آیا۔
چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ صارفین سے ایس ایم ایس الرٹس پر چارجز وصول کیے جا رہے ہیں، جس پر گورنر اسٹیٹ بینک نے وضاحت کی کہ جو ایس ایم ایس لازمی نوعیت کے ہوتے ہیں ان پر کوئی چارجز وصول نہیں کیے جاتے، جبکہ اضافی سروسز سے متعلق پیغامات پر چارجز صارفین سے لیے جاتے ہیں۔
گورنر اسٹیٹ بینک نے بتایا کہ یہ چارجز براہِ راست ٹیلی کام کمپنیوں کو ادا کیے جاتے ہیں اور اسٹیٹ بینک اس مد میں کوئی رقم وصول نہیں کرتا۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ گزشتہ دو برسوں میں ٹیلی کام کمپنیوں کے ایس ایم ایس چارجز 0.
چیئرمین ایف بی آر راشد محمود لنگڑیال نے کہا کہ ٹیکنالوجی کے فروغ سے صارفین کو نقصان نہیں ہونا چاہیے۔ اجلاس میں ایک رکن نے بینک اکاؤنٹ کھولنے کے دوران کثیر تعداد میں فارمز پر دستخط لینے کا معاملہ بھی اٹھایا۔
مزید برآں کمیٹی کے ایک رکن نے چین، روس اور دیگر ممالک کے ساتھ ڈالر کے علاوہ دیگر کرنسیوں میں تجارت سے متعلق سوال کیا، جس پر گورنر اسٹیٹ بینک نے بتایا کہ چین کے ساتھ چینی کرنسی میں تجارت پہلے سے ہو رہی ہے، تاہم یو اے ای کے ساتھ کرنسی رول اوور سے متعلق سوال کو انہوں نے فارن آفس کا معاملہ قرار دیتے ہوئے جواب دینے سے گریز کیا۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: گورنر اسٹیٹ بینک نے کرنسی نوٹس کے کے کرنسی نوٹ ایس ایم ایس نے کہا کہ کے ساتھ کیے جا
پڑھیں:
سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں اور کالمز پر کارروائی کے اختیار کا معاملہ زیر بحث آیا، جہاں سینئر صحافی طارق محمود سمیر نے اپنا مؤقف پیش کرتے ہوئے اہم قانونی نکات اٹھائے۔
اجلاس کے دوران طارق محمود سمیر نے کہا کہ لاہور سے شائع ہونے والے روزنامہ نئی بات میں بیوروکریسی سے متعلق شائع ہونے والے ایک کالم کی بنیاد پر کالم نگار توفیق بٹ اور اخبار کے ایڈیٹر کو نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی) کی جانب سے جاری کیا گیا نوٹس واپس لیا جانا چاہیے۔انہوں نے قائمہ کمیٹی کو تجویز دی کہ اس معاملے کو متعلقہ فورم یعنی پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے، کیونکہ قانون کے مطابق پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور تنازعات کا جائزہ لینے کا اختیار صرف پریس کونسل کے پاس ہے۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے سینئر صحافی طارق محمود سمیر کی اس تجویز سے متفقہ طور پر اتفاق کرتے ہوئے ہدایت جاری کی کہ مذکورہ معاملہ پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے تاکہ قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔
کمیٹی نے اس موقع پر واضح کیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق کسی بھی قسم کے معاملات یا شکایات نہ تو پیمرا کے دائرہ اختیار میں آتی ہیں اور نہ ہی این سی سی آئی ایسے معاملات میں براہ راست نوٹس لینے کا مجاز ہے۔ کمیٹی کے مطابق اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں، مضامین اور کالمز سے متعلق شکایات صرف پریس کونسل آف پاکستان کے سامنے ہی پیش کی جا سکتی ہیں۔اجلاس میں یہ بھی یاد دلایا گیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق قانون سازی کے دوران وفاقی حکومت نے قومی اسمبلی میں واضح یقین دہانی کرائی تھی کہ اخبارات اور پرنٹ میڈیا کے معاملات کا واحد مجاز ادارہ پریس کونسل آف پاکستان ہوگا، اور اسی فورم پر شکایات درج کرائی جا سکیں گی۔
قائمہ کمیٹی نے اس مؤقف کو دہراتے ہوئے متعلقہ اداروں پر زور دیا کہ آئندہ بھی پرنٹ میڈیا سے متعلق تمام معاملات قانون کے مطابق صرف پریس کونسل آف پاکستان کے ذریعے ہی نمٹائے جائیں تاکہ آئینی اور قانونی دائرہ اختیار برقرار رہے۔