اے آئی کے بڑھتے اثرات، خواتین کی ملازمتیں اگلے 10 سال میں ختم ہو جائیں گی؟
اشاعت کی تاریخ: 4th, February 2026 GMT
مصنوعی ذہانت اے آئی اور خودکار نظام کی وجہ سے ٹیکنالوجی اور مالیاتی شعبوں میں کام کرنے والی خواتین ملازمتیں شدید خطرے میں ہیں۔
سٹی آف لندن کارپوریشن کی ایک حالیہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ کم از کم پانچ سال کے تجربے والی مڈ-کیریئر خواتین کو ٹیک اور مالیاتی شعبوں میں ڈیجیٹل رولز کے لیے نظرانداز کیا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ خواتین کے CVs کی سخت اور بعض اوقات خودکار اسکریننگ میں کیریئر میں وقفے، جو بچوں یا رشتہ داروں کی دیکھ بھال کی وجہ سے ہوئے ان کو مدنظر نہیں رکھا جاتا۔
یہ بھی پڑھیں: اے آئی سے شادی کے وعدے کیوں لکھوائے؟ عدالت نے شادی غیر قانونی قرار دے دی
کارپوریشن نے آجروں پر زور دیا ہے کہ وہ غیر تکنیکی رولز میں کام کرنے والی خواتین کو نئے ہنر (reskilling) سکھانے پر خصوصی توجہ دیں۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ کلریکل پوزیشنز، جو بنیادی طور پر خواتین کے ذریعے انجام دی جاتی ہیں سب سے زیادہ خطرے میں ہیں۔
تخمینوں کے مطابق اگلے دس سالوں میں تقریباً 1,19,000 کلریکل ملازمتیں automation کی وجہ سے ختم ہو سکتی ہیں۔ متاثرہ افراد کو تربیت فراہم کرنے سے کمپنیوں کو £757 ملین کے اخراجات سے بچایا جا سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: کیا اے آئی سیکھنے کی صلاحیت متاثر کر رہی ہے؟ نئی تحقیق میں حیرت انگیز انکشاف
سٹی آف لندن کی میئر ڈیم سوسن لینگلے نے کہا کہ لوگوں میں سرمایہ کاری اور ورک فورس میں ڈیجیٹل مہارت کی ترقی کے ذریعے آجروں کو اپنی ٹیم کی صلاحیت بڑھانے اور مضبوط بنانے کا موقع ملتا ہے۔
بین الاقوامی ریکروٹمنٹ کمپنی رینڈسٹاڈ کے پول کے مطابق، برطانیہ کے ایک چوتھائی کارکن آئندہ پانچ سال میں اے آئی کے باعث اپنی ملازمت ختم ہونے کے بارے میں فکر مند ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: شادی کرلو ورنہ میری طرح پچھتاؤگے، چینی نوجوانوں کو ’اے آئی خواتین‘ کی دل دہلادینے والی نصیحتیں
کمپنیوں نے کام کی کمی کو پورا کرنے کے لیے اوسط قومی اجرت سے زیادہ تنخواہیں بڑھائی ہیں، تاہم رپورٹ کے مطابق زیادہ تنخواہ مسئلہ حل نہیں کرے گی۔ اس صورتحال سے 2035 تک جاری رہنے والے ڈیجیٹل ٹیلنٹ گیپ میں اضافہ ہو گا اور برطانیہ 10 ارب پاونڈ سے زائد اقتصادی ترقی سے محروم رہ سکتا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اے آئی اے آئی خواتین اے آئی ملازمتیں.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اے ا ئی اے ا ئی خواتین اے ا ئی ملازمتیں اے ا ئی یہ بھی
پڑھیں:
ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
امریکی سینیٹ نے ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع میں امریکا کی شمولیت ختم کرنے کے لیے پیش کی گئی جنگی اختیارات کی قرارداد مسترد کر دی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی سینیٹ نے جمعرات کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی قرارداد منظور کرنے سے انکار کر دیا۔
میری لینڈ سے تعلق رکھنے والے ڈیموکریٹ سینیٹر کرس وین ہولن کی پیش کردہ وار پاورز ریزولوشن پر ووٹنگ ہوئی تاہم قرارداد 47 کے مقابلے میں 49 ووٹوں سے مسترد ہوگئی اور مطلوبہ حمایت حاصل نہ کرسکی۔
ریپبلکن سینیٹر سوسن کولنز نے اپنی جماعت کی پالیسی کے برعکس قرارداد کے حق میں ووٹ دیا جبکہ ڈیموکریٹ سینیٹر جان فیٹرمین نے اپنی پارٹی سے اختلاف کرتے ہوئے قرارداد کی مخالفت کی۔
تین سینیٹرز نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا جن میں سینیٹر کیٹی برٹ، مچ میک کونل، لیزا مرکووسکی اور رینڈ پال شامل ہیں۔
اس قرارداد میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ اگر کانگریس باقاعدہ جنگ کا اعلان نہ کرے یا صدر کو خصوصی اجازت نہ دے، تو صدر ٹرمپ ایران کے اندر یا ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج کو واپس بلائیں۔
ڈیموکریٹ ارکان اور بعض ریپبلکن قانون سازوں کا مؤقف ہے کہ ایران کے خلاف موجودہ فوجی کارروائیوں میں صدر ٹرمپ نے کانگریس کے اس آئینی اختیار کو نظر انداز کیا ہے جس کے تحت صرف کانگریس کو جنگ کا اعلان کرنے کا اختیار حاصل ہے۔
اس سے چند گھنٹے قبل امریکی ایوانِ نمائندگان نے ایران جنگ محدود کرنے کی اپنی وار پاورز قرارداد منظور کی تھی تاہم اسے گزشتہ ماہ کے مقابلے میں ایک ووٹ کم ملا جس سے کانگریس میں بھی اس معاملے پر اختلافات نمایاں ہیں۔
گزشتہ ماہ بھی سینیٹ نے اسی نوعیت کی ایک قرارداد 50 کے مقابلے میں 48 ووٹوں سے منظور کی تھی۔ اس وقت چند ریپبلکن ارکان نے بھی ڈیموکریٹس کا ساتھ دیا تھا لیکن اس وقت ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی نافذ تھی اور مزید امریکی جانی نقصان نہیں ہوا تھا۔
آئینی ماہرین کے مطابق 1973 کے وار پاورز ایکٹ کا مقصد صدر کے فوجی اختیارات پر کانگریس کی نگرانی کو یقینی بنانا تھا لیکن اب تک کسی بھی امریکی صدر نے اسے مکمل طور پر پابند قانون کے طور پر تسلیم نہیں کیا۔
مزید یہ کہ اس قانون کی آئینی حیثیت پر کبھی امریکی عدالتوں نے حتمی فیصلہ نہیں دیا اسی لیے اگر قرارداد منظور بھی ہو جاتی تو اس کے نتیجے میں صدر کو فوری طور پر فوج واپس بلانے کا قانونی پابند بنانا مشکل ہوتا۔