پاکستان اور قازقستان کے درمیان تجارتی و اقتصادی تعاون کو فروغ دینے کے لیے منعقدہ پاکستان، قازقستان بزنس فورم کے اختتامی اجلاس سے قازقستان کے صدر قاسم جومارت توقایف نے خطاب کیا۔ اس موقع پر وزیرِ اعظم پاکستان شہباز شریف اور وفاقی وزیرِ تجارت جام کمال بھی موجود تھے۔

یہ بھی پڑھیں:37 معاہدوں پر دستخط: پاکستان قازقستان کا اسٹریٹجک پارٹنر، وزیراعظم شہباز شریف کی قازق صدر کے ہمراہ گفتگو

قازقستان کے صدر قاسم جومارت توقایف نے پاکستان، قازقستان بزنس فورم کے اختتامی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج کے اس اہم فورم کے باضابطہ اختتام پر شرکت کرنا میرے لیے باعثِ مسرت ہے۔ انہوں نے وزیرِ اعظم پاکستان شہباز شریف کی قیادت اور اس اہم تقریب کے انعقاد پر ان کی کوششوں کو سراہتے ہوئے دلی شکریہ ادا کیا۔

صدر توقایف نے کہا کہ وہ پاکستان کے اپنے پہلے سرکاری دورے کو دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تعاون میں ایک اہم سنگِ میل قرار دیتے ہیں۔ ان کے مطابق اس دورے کے دوران ایک مشترکہ اعلامیے پر دستخط کیے گئے ہیں، جس کے ذریعے پاکستان اور قازقستان کے تعلقات کو اسٹریٹجک شراکت داری کی سطح تک لے جایا گیا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ پاکستان، قازقستان بزنس فورم کے نتیجے میں 30 سے زائد تجارتی معاہدے طے پائے ہیں، جن کی مجموعی مالیت تقریباً 20 کروڑ ڈالر ہے۔ قازقستان کے صدر نے امید ظاہر کی کہ مستقبل میں دونوں ممالک کے درمیان تجارتی حجم اربوں ڈالر تک پہنچے گا۔

صدر قاسم جومارت توقایف نے کہا کہ قازقستان پاکستانی کمپنیوں کے لیے سازگار کاروباری ماحول فراہم کرنے کے لیے پُرعزم ہے۔ اس حوالے سے انہوں نے اپنی حکومت کو ہدایت دی ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان بزنس ٹو بزنس روابط کو مزید مضبوط بنایا جائے، جس میں قازقستان، پاکستان بین الحکومتی کمیشن کا مؤثر کردار بھی شامل ہوگا۔

یہ بھی پڑھیں:اسحاق ڈار کا قازقستان کے صدر سے ملاقات میں دوطرفہ تعاون بڑھانے پر زور

انہوں نے کہا کہ قازقستان وسطی ایشیا کی سب سے بڑی معیشت ہے اور خطے میں معاشی ترقی اور مواقع پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ صدر توقایف کے مطابق گزشتہ سال قازقستان کی معیشت میں 6.

5 فیصد ترقی ہوئی، جس کے بعد ملکی مجموعی پیداوار 300 ارب ڈالر سے تجاوز کر گئی، جبکہ فی کس آمدن 15 ہزار ڈالر سے زیادہ ہو گئی ہے۔

قازقستان کے صدر نے کہا کہ یہ اعداد و شمار ان کی معیشت کی مضبوطی، مارکیٹ کی استحکام اور بہتر اقتصادی کارکردگی کا ثبوت ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ قازقستان اس ترقی کو برقرار رکھنے کے لیے ادارہ جاتی اصلاحات کو مزید بہتر بنا رہا ہے اور اس کی اقتصادی حکمتِ عملی پائیدار ترقی، سرمایہ کاری کے فروغ اور علاقائی تعاون پر مرکوز ہے۔

تقریب میں وزیرِ اعظم شہباز شریف اور وفاقی وزیرِ تجارت جام کمال کی موجودگی نے فورم کی اہمیت کو مزید اجاگر کیا، جبکہ دونوں ممالک کے کاروباری رہنماؤں نے طے پانے والے معاہدوں کو عملی شکل دینے کے عزم کا اظہار کیا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

پاکستان تجارت شہبازشریف قازق صدر قازقستان

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: پاکستان شہبازشریف قازقستان قازقستان کے صدر دونوں ممالک کے شہباز شریف توقایف نے بزنس فورم کے درمیان نے کہا کہ انہوں نے فورم کے کے لیے

پڑھیں:

پی ایس ڈی پی میں ارکان پارلیمنٹ اور ترقیاتی منصوبوں کیلئے اربوں روپے مختص کرنے کی تجویز

اسلام آباد: پی ایس ڈی پی 2026-27 کے تحت وفاقی حکومت نے ارکان پارلیمنٹ کے ترقیاتی منصوبوں سمیت مختلف شعبوں کے لیے اربوں روپے مختص کرنے کی تجویز پیش کر دی ہے۔ بجٹ دستاویزات کے مطابق آئندہ مالی سال میں ترقیاتی منصوبوں کے ذریعے گورننس، ٹیکنالوجی، توانائی اور خواتین کی فلاح و بہبود کو خصوصی ترجیح دی جائے گی۔

دستاویزات کے مطابق پائیدار ترقیاتی اہداف (SDGs) اچیومنٹ پروگرام کے تحت ارکان پارلیمنٹ کے ترقیاتی منصوبوں کے لیے 70 ارب روپے مختص کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ کابینہ ڈویژن کے مختلف ترقیاتی منصوبوں کے لیے 2 ارب روپے جبکہ اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کے منصوبوں کے لیے ایک ارب 70 کروڑ روپے رکھنے کی تجویز دی گئی ہے۔

پی ایس ڈی پی 2026-27 میں پارلیمنٹ لاجز کی اپ گریڈیشن کے لیے 5 کروڑ 60 لاکھ روپے مختص کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ اسی طرح نیشنل آرکائیوز آف پاکستان کی بحالی اور جدید خطوط پر استوار کرنے کے منصوبے کے لیے 5 ارب 50 کروڑ روپے تجویز کیے گئے ہیں۔

توانائی کے شعبے میں سرکاری عمارتوں میں شمسی توانائی کے نظام کی بہتری اور توانائی بچت اقدامات کے لیے 19 کروڑ 40 لاکھ روپے رکھنے کی سفارش کی گئی ہے۔

وفاقی دارالحکومت میں جدید ٹیکنالوجی حب کے قیام کے لیے اسلام آباد ٹیکنوپولس منصوبے پر ایک ارب 58 کروڑ روپے سے زائد خرچ کیے جانے کا امکان ہے، جبکہ فیڈرل پبلک سروس کمیشن (FPSC) کے امتحانی نظام کو ڈیجیٹل بنانے کے لیے 70 کروڑ روپے سے زائد فنڈز مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

خواتین کی فلاح و بہبود کے منصوبوں کے تحت اسلام آباد میں ورکنگ ویمن ہاسٹل کے قیام کے لیے 16 کروڑ 70 لاکھ روپے جبکہ خواتین افسران کے لیے رہائشی سہولیات کی فراہمی کے منصوبے پر 82 کروڑ روپے سے زائد خرچ کیے جانے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔

بجٹ دستاویزات کے مطابق آئندہ مالی سال میں ڈیجیٹل گورننس، سرکاری اداروں کی استعداد کار بڑھانے، توانائی بچت اور جدید ٹیکنالوجی کے فروغ پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔

متعلقہ مضامین

  • اٹلی میں 10500 پاکستانیوں کو لیبر موبیلیٹی معاہدے کے تحت روزگار مواقع ملیں گے, اطالوی سفیر
  • سینٹ پیٹرزبرگ انٹرنیشنل اکنامک فورم، پاکستانی اعلیٰ سطحی وفد شرکت کریگا
  • پاکستان میں ڈالر مستحکم، پاؤنڈ اور یورو سمیت بڑی کرنسیوں کے تازہ ریٹس جاری
  • آزاد کشمیر کے ترقیاتی منصوبوں کیلئے 54 ارب روپے سے زائد فنڈز تجویز
  • 27 مئی تا یکم جون عید تعطیلات، ریلوے کی آمدن میں خاطرہ خواہ اضافہ
  • پی ایس ڈی پی میں ارکان پارلیمنٹ اور ترقیاتی منصوبوں کیلئے اربوں روپے مختص کرنے کی تجویز
  • پاکستان اور اٹلی کے درمیان سفارتی پاسپورٹ پر ویزے کی شرط ختم
  • پاکستان میں سونے کی قیمت میں پھر بڑا اضافہ
  • صدر زرداری کی اٹلی کے صدر ور عوام کو یومِ جمہوریہ پر مبارکباد
  • بزنس فرینڈلی بجٹ لانے کیساتھ ٹیکس پیئر پر مزید بوجھ نہ ڈالا جائے، پاکستان بزنس فورم