جماعت اسلامی کیخلاف مقدمے میں دہشتگردی کی دفعات ہونی چاہیے تھیں، وزیر داخلہ سندھ
اشاعت کی تاریخ: 4th, February 2026 GMT
سندھ اسمبلی کے باہر میڈیا سے گفتگو میں ضیاء الحسن لنجار نے کہا کہ حافظ نعیم کو پیغام پہنچایا ہے سندھ اسمبلی کی سڑک بند نہ کریں، حافظ نعیم اور جماعت اسلامی نے احتجاج کرنا ہے تو مرکزی سڑک پر نہیں، بلکہ سروس روڈ پر کریں، اگر احتجاج کرنا ہے تو پریس کلب کے باہر کریں۔ اسلام ٹائمز۔ وزیر داخلہ سندھ ضیاء الحسن لنجار نے کہا ہے کہ جماعت اسلامی کے خلاف مقدمے میں دہشت گردی کی دفعات شامل ہونی چاہیے تھیں۔ سندھ اسمبلی کے باہر میڈیا سے گفتگو میں ضیاء الحسن لنجار نے کہا کہ حافظ نعیم کو پیغام پہنچایا ہے سندھ اسمبلی کی سڑک بند نہ کریں۔ انہوں نے کہا کہ حافظ نعیم اور جماعت اسلامی نے احتجاج کرنا ہے تو مرکزی سڑک پر نہیں، بلکہ سروس روڈ پر کریں، اگر احتجاج کرنا ہے تو پریس کلب کے باہر کریں۔ وزیر داخلہ سندھ نے مزید کہا کہ پی ٹی آئی کو سڑکیں بند کرنے نہیں دیں گے، شاہراہ بند کرنے کی کسی کو اجازت نہیں۔ ان کا کہا کہ زبردستی دکانیں بند کرائیں تو قانون حرکت میں آئے گا، جماعت اسلامی نے شارع فیصل بند کرکے قانون کی خلاف ورزی کی ہے۔ ضیاء الحسن لنجار نے یہ بھی کہا کہ شارع فیصل بند کرنے کے مقدمے میں دہشت گردی کی دفعات شامل ہونے چاہیئے تھیں، ایسا ہو تو آئندہ کسی کو سڑک بند کرنے کی ہمت نہیں ہوگی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: ضیاء الحسن لنجار نے احتجاج کرنا ہے تو جماعت اسلامی سندھ اسمبلی حافظ نعیم کے باہر نے کہا کہا کہ
پڑھیں:
شدید گرمی میں سندھ میں 22 گھنٹے بجلی لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے، شرجیل میمن
کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سینئر صوبائی وزیر نے کہا کہ لوڈشیڈنگ کے علاوہ لائن لاسز پر بھی پورے علاقے کی بجلی بند کر دی جاتی ہے، جو بل نہیں بھرتا ہے صرف اس کی بجلی کاٹنی چاہیئے لیکن کے الیکٹرک، حیسکو اور سیپکو کی نا اہلی کی وجہ سے عوام کو پریشانی کا سامنا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ اس وقت سندھ بھر کے عوام بجلی کی طویل لوڈشیڈنگ سے پریشان ہیں۔ سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ سندھ بھر کے عوام بجلی کی لوڈشیڈنگ کی وجہ سے پریشان ہیں، اندرون سندھ جہاں زیادہ گرمی ہے، وہاں 22، 22 گھنٹے بجلی بند کی جاتی ہے۔ شرجیل میمن نے کہا کہ لوڈشیڈنگ کے علاوہ لائن لاسز پر بھی پورے علاقے کی بجلی بند کر دی جاتی ہے، جو بل نہیں بھرتا ہے صرف اس کی بجلی کاٹنی چاہیئے لیکن کے الیکٹرک، حیسکو اور سیپکو کی نا اہلی کی وجہ سے عوام کو پریشانی کا سامنا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پوری دنیا میں کہیں بھی کلیکٹو پنشمنٹ نہیں ہوتی، اس معاملے پر عدالت بھی گیا اور ہائیکورٹ میں کلیکٹو پنشمنٹ کو غیر آئینی اور غیر قانونی دلوانے کے لیے پٹیشن بھی داخل کی، جو زیر التوا ہے۔ سندھ کے سینئر وزیر نے مزید کہا کہ بجلی کمپنیوں نے انفرا اسٹرکچر پر خرچہ نہیں کیا، پورا ٹرانسفارمر ہی اتار لیتے ہیں، کمپنیاں فائدہ کما رہی ہیں تو اپنے انفرا اسٹرکچر پر بھی خرچ کریں۔