بھارت: آن لائن گیمنگ کی لت میں مبتلا تین کم عمر بہنوں نے والدین کی پابندی کے بعد خودکشی کر لی
اشاعت کی تاریخ: 4th, February 2026 GMT
بھارت کے شہر غازی آباد میں ایک دلخراش واقعے میں تین کم عمر بہنوں نے والدین کی جانب سے آن لائن گیمنگ پر پابندی کے بعد اپنے اپارٹمنٹ کی نویں منزل سے چھلانگ لگا کر خودکشی کر لی۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق پولیس اور مقامی ذرائع نے بتایا کہ یہ افسوسناک واقعہ گزشتہ شب تقریباً دو بجے پیش آیا، خودکشی کرنے والی بہنوں کی شناخت 12 سالہ پاکھی، 14 سالہ پراچی اور 16 سالہ وشیکا کے طور پر ہوئی ہے۔
غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق تینوں بہنوں عالمی وباء کووِڈ-19 کے دوران آن لائن گیمنگ کی لت میں مبتلا ہو گئی تھیں اور وہ ایک ٹاسک پر مبنی آن لائن گیم ’کوریَن لو گیم‘ میں مسلسل مشغول رہتی تھیں، لڑکیوں نے گیم کے شدید شوق کے باعث اپنے لیے کورین نام بھی اپنائے، جس پر والدین شدید پریشان تھے۔
والدین کا کہنا ہے کہ تینوں بہنیں دن بھر کے تمام کام ایک ساتھ کرتی تھیں اور اسکول کی تعلیم کو بھی نظر انداز کر رہی تھیں، تینوں بہنوں نے تقریباً دو سال قبل اسکول جانا بھی چھوڑ دیا تھا۔
پولیس نے بتایا کہ والدین کی جانب سے گیمنگ پر پابندی کے باوجود تینوں بہنیں آن لائن گیمز کھیلنے پر اصرار کرتی رہیں، جس کے بعد انہوں نے یہ جان لیوا اقدام کیا۔ پولیس موقع پر موجود ہے اور واقعے کی مزید تحقیقات جاری ہیں تاکہ اس افسوسناک اقدام کے اسباب کو تفصیلی طور پر سامنے لایا جا سکے۔
ماہرین نفسیات کے مطابق اس قسم کے واقعات نوجوانوں میں آن لائن گیمنگ کی لت، ذہنی دباؤ اور والدین کے سخت اقدامات کے ردعمل سے جڑے ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے والدین سے اپیل کی ہے کہ وہ بچوں کی آن لائن سرگرمیوں پر نظر رکھیں اور غیر معمولی رویوں کی صورت میں بروقت پیشہ ورانہ مدد حاصل کریں۔
یہ واقعہ بھارت میں نوجوان نسل میں بڑھتی ہوئی آن لائن گیمنگ کے اثرات اور والدین کے لیے اس سے نمٹنے کی پیچیدگیوں پر روشنی ڈالتا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان کھیل آن لائن گیمنگ
پڑھیں:
گوگل کی مالک کمپنی الفابیٹ کا اے آئی پر 80 ارب ڈالر خرچ کرنے کا بڑا فیصلہ
اسلام آباد: مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی سے متعلق سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے دعوؤں کی حقیقت سامنے آگئی ہے۔ مختلف پلیٹ فارمز پر یہ خبریں وائرل ہو رہی تھیں کہ عیدالاضحیٰ سے قبل مری میں غیر شادی شدہ مردوں یا بیچلرز کے داخلے پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے، تاہم سرکاری وضاحت نے ان دعوؤں کو غلط قرار دے دیا ہے۔
سوشل میڈیا پوسٹس میں دعویٰ کیا جا رہا تھا کہ دفعہ 144 کے نفاذ کے بعد مری شہر میں صرف فیملیز کو داخلے کی اجازت ہوگی جبکہ بیچلرز کو مکمل طور پر روک دیا گیا ہے۔ تاہم ضلعی انتظامیہ کے مطابق ایسی کوئی پابندی پورے مری شہر پر نافذ نہیں کی گئی۔
انتظامیہ کا کہنا ہے کہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص حصے تک محدود تھی، جہاں سیاحوں کے رش اور نظم و ضبط کو برقرار رکھنے کے لیے اکیلے آنے والے مردوں اور بیچلرز گروپس کے داخلے پر عارضی پابندی لگائی گئی تھی۔ فیملیز کو معمول کے مطابق مال روڈ جانے کی اجازت دی گئی تھی۔
ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (جنرل) مری کامران صغیر کے مطابق دفعہ 144 کا اطلاق صرف مال روڈ تک محدود تھا اور 31 مئی تک نافذ رہی۔ ان کا کہنا تھا کہ مری شہر میں آنے والے تمام سیاحوں کے لیے راستے کھلے تھے اور بیچلرز کے شہر میں داخلے پر کوئی مکمل پابندی نہیں تھی۔
ضلعی انتظامیہ کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن میں بھی واضح کیا گیا تھا کہ یہ اقدام صرف سیاحتی سہولیات بہتر بنانے اور ہجوم کو منظم رکھنے کے لیے کیا گیا تھا۔
اس طرح مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی کے حوالے سے وائرل ہونے والا دعویٰ حقیقت کے برعکس ثابت ہوا۔ مری بدستور تمام سیاحوں کے لیے کھلا ہے جبکہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص علاقے تک محدود رہی۔