بھارت کے شہر غازی آباد میں ایک دلخراش واقعے میں تین کم عمر بہنوں نے والدین کی جانب سے آن لائن گیمنگ پر پابندی کے بعد اپنے اپارٹمنٹ کی نویں منزل سے چھلانگ لگا کر خودکشی کر لی۔

بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق پولیس اور مقامی ذرائع نے بتایا کہ یہ افسوسناک واقعہ گزشتہ شب تقریباً دو بجے پیش آیا، خودکشی کرنے والی بہنوں کی شناخت 12 سالہ پاکھی، 14 سالہ پراچی اور 16 سالہ وشیکا کے طور پر ہوئی ہے۔

غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق تینوں بہنوں عالمی وباء کووِڈ-19 کے دوران آن لائن گیمنگ کی لت میں مبتلا ہو گئی تھیں اور وہ ایک ٹاسک پر مبنی آن لائن گیم ’کوریَن لو گیم‘ میں مسلسل مشغول رہتی تھیں، لڑکیوں نے گیم کے شدید شوق کے باعث اپنے لیے کورین نام بھی اپنائے، جس پر والدین شدید پریشان تھے۔

والدین کا کہنا ہے کہ تینوں بہنیں دن بھر کے تمام کام ایک ساتھ کرتی تھیں اور اسکول کی تعلیم کو بھی نظر انداز کر رہی تھیں، تینوں بہنوں نے تقریباً دو سال قبل اسکول جانا بھی چھوڑ دیا تھا۔

پولیس نے بتایا کہ والدین کی جانب سے گیمنگ پر پابندی کے باوجود تینوں بہنیں آن لائن گیمز کھیلنے پر اصرار کرتی رہیں، جس کے بعد انہوں نے یہ جان لیوا اقدام کیا۔ پولیس موقع پر موجود ہے اور واقعے کی مزید تحقیقات جاری ہیں تاکہ اس افسوسناک اقدام کے اسباب کو تفصیلی طور پر سامنے لایا جا سکے۔

ماہرین نفسیات کے مطابق اس قسم کے واقعات نوجوانوں میں آن لائن گیمنگ کی لت، ذہنی دباؤ اور والدین کے سخت اقدامات کے ردعمل سے جڑے ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے والدین سے اپیل کی ہے کہ وہ بچوں کی آن لائن سرگرمیوں پر نظر رکھیں اور غیر معمولی رویوں کی صورت میں بروقت پیشہ ورانہ مدد حاصل کریں۔

یہ واقعہ بھارت میں نوجوان نسل میں بڑھتی ہوئی آن لائن گیمنگ کے اثرات اور والدین کے لیے اس سے نمٹنے کی پیچیدگیوں پر روشنی ڈالتا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Al Qamar Online

کلیدی لفظ: پاکستان کھیل آن لائن گیمنگ

پڑھیں:

گوگل کی مالک کمپنی الفابیٹ کا اے آئی پر 80 ارب ڈالر خرچ کرنے کا بڑا فیصلہ

اسلام آباد: مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی سے متعلق سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے دعوؤں کی حقیقت سامنے آگئی ہے۔ مختلف پلیٹ فارمز پر یہ خبریں وائرل ہو رہی تھیں کہ عیدالاضحیٰ سے قبل مری میں غیر شادی شدہ مردوں یا بیچلرز کے داخلے پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے، تاہم سرکاری وضاحت نے ان دعوؤں کو غلط قرار دے دیا ہے۔

سوشل میڈیا پوسٹس میں دعویٰ کیا جا رہا تھا کہ دفعہ 144 کے نفاذ کے بعد مری شہر میں صرف فیملیز کو داخلے کی اجازت ہوگی جبکہ بیچلرز کو مکمل طور پر روک دیا گیا ہے۔ تاہم ضلعی انتظامیہ کے مطابق ایسی کوئی پابندی پورے مری شہر پر نافذ نہیں کی گئی۔

انتظامیہ کا کہنا ہے کہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص حصے تک محدود تھی، جہاں سیاحوں کے رش اور نظم و ضبط کو برقرار رکھنے کے لیے اکیلے آنے والے مردوں اور بیچلرز گروپس کے داخلے پر عارضی پابندی لگائی گئی تھی۔ فیملیز کو معمول کے مطابق مال روڈ جانے کی اجازت دی گئی تھی۔

ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (جنرل) مری کامران صغیر کے مطابق دفعہ 144 کا اطلاق صرف مال روڈ تک محدود تھا اور 31 مئی تک نافذ رہی۔ ان کا کہنا تھا کہ مری شہر میں آنے والے تمام سیاحوں کے لیے راستے کھلے تھے اور بیچلرز کے شہر میں داخلے پر کوئی مکمل پابندی نہیں تھی۔

ضلعی انتظامیہ کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن میں بھی واضح کیا گیا تھا کہ یہ اقدام صرف سیاحتی سہولیات بہتر بنانے اور ہجوم کو منظم رکھنے کے لیے کیا گیا تھا۔

اس طرح مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی کے حوالے سے وائرل ہونے والا دعویٰ حقیقت کے برعکس ثابت ہوا۔ مری بدستور تمام سیاحوں کے لیے کھلا ہے جبکہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص علاقے تک محدود رہی۔

متعلقہ مضامین

  • کے فور منصوبہ مزید تاخیر کا شکار، 2029 تک مکمل ہونے کا امکان
  • والدین کے لیے بڑی راحت، اب بچے فیس بک، انسٹاگرام استعمال نہیں کر سکیں گے
  • بحرین میں ہَیْہَاتَ مِنَّا الذِّلَّة کا نعرہ لگانے پر پابندی عائد
  • پنجاب بھر میں دفعہ 144 کے نفاذ میں توسیع
  • گوگل کی مالک کمپنی الفابیٹ کا اے آئی پر 80 ارب ڈالر خرچ کرنے کا بڑا فیصلہ
  • مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی؟ حقیقت سامنے آگئی
  • میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت
  • بھارت: میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ حفاظتی خدشات کے باعث ہٹا دیا گیا
  • کراچی: نجی ایئر لائن کی حج پرواز جدہ سے 15 گھنٹے کی تاخیر سے پہنچ گئی
  • افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی