انجن خراب ہونے کے باعث دھابیجی اسٹیشن پر کھڑی ٹرین میں بچی کی پیدائش
اشاعت کی تاریخ: 4th, February 2026 GMT
رحمان بابا ایکسپریس میں سفر کے دوران ایک خاتون نے بچی کو جنم دیا، ماں اور نومولود کی حالت تسلی بخش بتائی جا رہی ہے۔ واقعہ اس وقت پیش آیا جب ٹرین انجن خراب ہونے کے باعث دھابیجی اسٹیشن پر کھڑی تھی۔
ریلوے حکام کے مطابق بوگی نمبر 08 میں اچانک ڈیلیوری کا معاملہ پیش آیا، جس پر ریلوے پولیس کے ہیڈ کانسٹیبل شعیب رضا نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے فوری طور پر ڈاکٹرز کو طلب کیا۔ خوش قسمتی سے ٹرین میں موجود ڈاکٹرز نے ماں اور بچی کو ابتدائی طبی امداد فراہم کی، جس سے کسی بھی ہنگامی صورتحال سے بچاؤ ممکن ہوا۔
ڈیلیوری کے بعد خاتون مزید سفر کے قابل نہ رہی، جس پر ریلوے پولیس کی درخواست پر ریسکیو 1122 کی ایمبولینس موقع پر پہنچ گئی۔ اہلِ خانہ کی رضامندی سے خاتون اور نومولود کو مزید طبی نگہداشت کے لیے کورنگی اسپتال منتقل کر دیا گیا۔
واقعے کے دوران ریلوے پولیس نے مکمل تعاون فراہم کیا، جس پر خاتون مسافروں اور اہلِ خانہ نے ریلوے پولیس کا شکریہ ادا کیا۔ حکام کے مطابق ماں اور بچی دونوں خیریت سے ہیں اور اسپتال میں زیرِ علاج ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ریلوے پولیس
پڑھیں:
سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
بھارت کے معروف سماجی کارکن سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ طویل مذاکرات اور ملک میں ممکنہ تشدد کے خدشات کے پیش نظر یہ فیصلہ کیا گیا۔
عرب میڈیا کے مطابق سونم وانگچک نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں بتایا کہ مختلف شرائط پر ہونے والے طویل مذاکرات کے بعد اور ملک میں کشیدگی کے امکانات کو دیکھتے ہوئے انہوں نے اپنا احتجاج ختم کر دیا ہے۔
Just now in the presence of Union Ministers Sh. JP Nadda, Dr. Jitendra Singh and the senior leaders of Apex Body of Leh Ladakh I finally broke my fast after 26 days. Earlier 65 members of parliament from different political parties had visited or signed letters urging me to break… pic.twitter.com/RFCet7Oksy
— Sonam Wangchuk (@Wangchuk66) July 23, 202659 سالہ سونم وانگچک نے 28 جون کو بھوک ہڑتال کا آغاز کیا تھا۔ ان کی یہ ہڑتال بھارت میں نوجوانوں کی قیادت میں چلنے والی کاکروچ موومنٹ سے اظہارِ یکجہتی کے لیے تھی۔
اس تحریک کے شرکاء میڈیکل کالجوں کے داخلہ امتحانات کے پرچوں کے مبینہ لیک ہونے کے معاملے پر بھارتی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان سے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
مظاہرین کا مؤقف ہے کہ امتحانی نظام میں شفافیت کو یقینی بنانے اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کے لیے وزیرِ تعلیم کو اپنے عہدے سے الگ ہونا چاہیے۔
سونم وانگچک کے بھوک ہڑتال ختم کرنے کے اعلان کے باوجود بھارت میں امتحانی نظام اور حکومتی پالیسیوں کے خلاف احتجاجی تحریک بدستور جاری ہے۔