ایران میں خواتین کے حقوق کی جانب بڑی پیشرفت، موٹر سائیکل چلانے کی باضابطہ اجازت
اشاعت کی تاریخ: 4th, February 2026 GMT
ایران میں خواتین کو موٹر سائیکل چلانے کے حوالے سے باضابطہ اجازت دے دی گئی ہے، جس کے بعد اب خواتین شہری موٹر سائیکل چلانے کے لیے ڈرائیونگ لائسنس حاصل کرسکیں گی۔ اس فیصلے کو خواتین کی نقل و حرکت اور شہری حقوق کے حوالے سے ایک اہم پیش رفت قرار دیا جارہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ایران: بے حجاب خواتین کی شرکت کا الزام، میراتھن ایونٹ کے 2 منتظمین گرفتار
اس اقدام سے ایران میں موٹر سائیکل چلانے سے متعلق برسوں سے موجود قانونی ابہام ختم ہوگیا ہے۔ اس سے قبل قوانین میں خواتین کے موٹر سائیکل یا اسکوٹر چلانے پر کوئی صریح پابندی موجود نہیں تھی، تاہم عملی طور پر حکام خواتین کو لائسنس جاری کرنے سے گریز کرتے رہے تھے۔
رپورٹس کے مطابق اسی قانونی خلا کے باعث ٹریفک حادثات کی صورت میں خواتین کو اکثر قانونی پیچیدگیوں اور ذمہ داریوں کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔
ایران کے نائب صدر محمد رضا عارف نے گزشتہ روز ایک نئے ضابطے پر دستخط کیے، جس کا مقصد ٹریفک قوانین کو واضح اور جامع بنانا ہے، یہ ضابطہ گزشتہ ماہ کے آخر میں ایرانی کابینہ سے منظور کیا گیا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: ایران: کرد خاتون مھسا امینی کی ہلاکت کی خبر دینے کے ’جرم‘ میں گرفتار 2خواتین صحافیوں کو رہا کردیا گیا
نئے فیصلے کے تحت ٹریفک پولیس کو پابند کیا گیا ہے کہ وہ خواتین درخواست گزاروں کو موٹر سائیکل چلانے کی عملی تربیت فراہم کرے، پولیس کی نگرانی میں ڈرائیونگ ٹیسٹ لے اور کامیاب امیدواروں کو باضابطہ ڈرائیونگ لائسنس جاری کرے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news ایران خواتین ڈرائیونگ لائسنس شہری حقوق موٹرسائیکل.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ایران خواتین ڈرائیونگ لائسنس موٹرسائیکل موٹر سائیکل چلانے میں خواتین
پڑھیں:
بلوچستان کے نام پر علیحدگی پسند سیاست کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، جمال رئیسانی
پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے رکن قومی اسمبلی نوابزادہ جمال رئیسانی نے کہا ہے کہ پاکستان کے خلاف ایک خاموش جنگ لڑی جا رہی ہے جو بارود سے زیادہ نوجوانوں کے ذہنوں کو نشانہ بنا رہی ہے۔ بلوچستان کے نام پر علیحدگی پسند سیاست کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
صوبائی وزرا علی مدد جتک اور عاصم کرد گیلو کے ہمراہ کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے نوابزادہ جمال رئیسانی نے کہاکہ دشمن پاکستان اور بلوچستان کو توڑنے کی کوشش کر رہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ 2018 میں بشیر زیب نے جب ایک کالعدم تنظیم کی کمان سنبھالی تو حالات مزید خراب ہوئے، جبکہ جنید بشیر زیب کا رائٹ ہینڈ ہے۔
انہوں نے کہاکہ آج کی جنگ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر لڑی جا رہی ہے اور کالعدم تنظیموں کے کارندے زنگی ایپ کے ذریعے ایک دوسرے سے رابطے میں رہتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ کالعدم تنظیمیں سنگل ایپ کے ذریعے آپریشنل منصوبہ بندی جبکہ ڈیلٹا چیٹ کے ذریعے خفیہ بھرتیاں کرتی ہیں۔
نوابزادہ جمال رئیسانی نے کہاکہ آج دشمن صرف گولی کا استعمال نہیں کر رہا بلکہ سوشل میڈیا پر ٹرینڈز چلا کر بھی اپنا ایجنڈا آگے بڑھا رہا ہے۔ ہم نہیں چاہتے کہ نوجوان پہاڑوں کا رخ کریں۔
انہوں نے دعویٰ کیاکہ کالعدم تنظیموں نے اپنی سرگرمیوں میں خواتین کا استعمال بھی شروع کر دیا ہے۔ شہناز بلوچ بلوچ یکجہتی کمیٹی کے جلسوں میں شرکت کرتی تھیں اور ان کا باہوٹ کے ذریعے کالعدم تنظیم سے رابطہ ہوا۔
نوابزادہ جمال رئیسانی نے مزید کہاکہ بلوچ یکجہتی کمیٹی بلوچستان کی قیادت ڈاکٹر صبیحہ کر رہی ہیں اور ان کا بھائی ایک کالعدم تنظیم کا حصہ ہے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ بلوچ یکجہتی کمیٹی کے کراچی سیل کی قیادت فوزیہ شاہوانی کررہی ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews بلوچستان سیاست خاموش جنگ نوابزادہ جمال رئیسانی وی نیوز