اے ٹی سی راولپنڈی، علیمہ خان کا 1 بینک اکاؤنٹ ڈی فریز کرنے کے احکامات
اشاعت کی تاریخ: 4th, February 2026 GMT
فائل فوٹو، علیمہ خان
انسداد دہشت گردی عدالت (اے ٹی سی) راولپنڈی نے علیمہ خان کا 1 بینک اکاؤنٹ ڈی فریز کرنے کے احکامات جاری کردیے ہیں۔
اے ٹی سی راولپنڈی میں جج امجد علی شاہ نے علیمہ خان کے خلاف 26 نومبر احتجاج پر درج مقدمے کی سماعت کی۔
دوران سماعت علیمہ خان اپنے وکیل محمد فیصل ملک کے ہمراہ عدالت میں پیش ہوئیں، اس دوران وکیل صفائی نے استغاثہ کے مزید 3 گواہان پر جرح مکمل کرلی۔
گواہان میں سب انسپکٹر نعمان عزیز، اے ایس آئی آصف علی، کانسٹیبل آصف شامل ہیں، مقدمے میں مجموعی طور پر 13 گواہان پر وکیل صفائی کی جرح مکمل ہوچکی ہے۔
عدالت نے علیمہ خان کا ایک بینک اکاؤنٹ ڈی فریز کرنے کے احکامات جاری کر دیے جبکہ نادرا حکام سے شناختی کارڈ ڈی فریز کرنے کےلیے جواب طلب کیا ہے۔
اے ٹی سی راولپنڈی نے مقدمے کی سماعت 9 فروری تک ملتوی کردی، علیمہ خان نے آئندہ سماعت پر عدالت میں پیش ہونے کی یقین دہانی کرادی ہے۔
اسپیشل پراسیکیوٹر ظہیر شاہ لیگل ٹیم کے ہمراہ عدالت میں موجود تھے، گواہان پر جرح کے دوران علیمہ خان کمرہ عدالت میں موجود تھیں۔
عدالت پیش ہونے پر علیمہ خان کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری منسوخ کردیے گئے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: ڈی فریز کرنے کے علیمہ خان عدالت میں اے ٹی سی
پڑھیں:
ویپنگ کے نقصانات: نئی تحقیق میں صحت کے سنگین خطرات سے خبردار
اسلام آباد: ویپنگ کے نقصانات سے متعلق سامنے آنے والی نئی تحقیق نے ای سگریٹ استعمال کرنے والوں کے لیے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔ ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ ویپنگ کو عام سگریٹ کا محفوظ متبادل سمجھنا ایک غلط فہمی ہے، کیونکہ اس کے استعمال سے بھی انسانی صحت پر سنگین منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
تحقیقی رپورٹ کے مطابق ویپ استعمال کرنے والے افراد کے منہ اور پھیپھڑوں کے خلیوں میں ڈی این اے کو نقصان پہنچنے کے شواہد ملے ہیں۔ ماہرین کے مطابق ڈی این اے میں خرابی مختلف بیماریوں، خصوصاً کینسر کے خطرات میں اضافے کا باعث بن سکتی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ ویپ میں روایتی تمباکو موجود نہیں ہوتا، لیکن اس میں شامل مختلف کیمیکلز اور فلیورز انسانی خلیوں پر منفی اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔ تحقیق میں یہ بھی سامنے آیا ہے کہ پوڈ سسٹم پر مبنی ویپ استعمال کرنے والے افراد میں خلیاتی نقصان نسبتاً زیادہ دیکھا گیا۔
سائنس دانوں کے مطابق ویپنگ اور روایتی سگریٹ نوشی کا طریقہ کار مختلف ضرور ہے، تاہم دونوں صورتوں میں جسم کو نقصان پہنچنے کا خطرہ موجود رہتا ہے۔ بعض مطالعات میں ویپ استعمال کرنے والوں کے خلیوں میں ہونے والے ڈی این اے نقصان کی سطح سگریٹ نوش افراد کے قریب پائی گئی۔
ماہرین صحت نے خبردار کیا ہے کہ نوجوانوں میں ویپنگ کا بڑھتا ہوا رجحان مستقبل میں صحت عامہ کے لیے ایک بڑا چیلنج بن سکتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ای سگریٹ کو محفوظ متبادل سمجھ کر استعمال کرنے کے بجائے اس سے مکمل اجتناب اختیار کرنا زیادہ بہتر ہے۔
ماہرین نے عوام کو مشورہ دیا ہے کہ وہ ویپنگ کے نقصانات کو سنجیدگی سے لیں اور اپنی صحت کے تحفظ کے لیے ایسی تمام مصنوعات سے حتیٰ الامکان دور رہیں، کیونکہ نئی سائنسی تحقیقات کے نتائج اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ ویپنگ بھی انسانی جسم کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔