سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے مذہبی امور اور بین المذاہب ہم آہنگی کا اجلاس پارلیمنٹ لاجز اسلام آباد میں سینیٹر عطا الرحمان کی زیر صدارت منعقد ہوا جس میں سینیٹرز دنیش کمار، حافظ عبد الکریم، حسنہ بانو، بشریٰ انجم بٹ، ثمینہ ممتاز زہری، سرمد علی اور عطا الحق درویش نے شرکت کی۔

 وفاقی وزیر برائے مذہبی امور و بین المذاہب ہم آہنگی سردار محمد یوسف بھی اجلاس کی کارروائی میں شریک ہوئے۔

کمیٹی نے سرکاری حج اسکیم برائے حج 2026 کے تحت کوٹہ الاٹمنٹ، ٹینڈر دینے کے عمل اور اشیاء و خدمات کی خریداری سے متعلق تفصیلی بریفنگ اور غور و خوض کیا۔

وزارت نے تمام متعلقہ ریکارڈ کمیٹی کے سامنے پیش کیا اور اراکین کو خریداری کے مکمل فریم ورک سے آگاہ کیا جو شفافیت اور انصاف کو یقینی بنانے کے لیے اپنایا گیا خصوصاً ایسے عمل میں جو مقدس فریضہ حج سے براہِ راست وابستہ ہے۔

قائمہ کمیٹی کو بتایا گیا کہ وزارتِ مذہبی امور و بین المذاہب ہم آہنگی نے حج 2026 کے لیے خریداری کے عمل کی نگرانی کے لیے 7 رکنی ہائرنگ اینڈ پروکیورمنٹ کمیٹی تشکیل دی جس میں وزارت، اوپی اے پی اور قونصل جنرل آف پاکستان سے تعلق رکھنے والے سینیئر افسران شامل تھے جن میں ایک بی ایس-21، 2 بی ایس-20، ایک بی ایس-19 اور 3 بی ایس-18 کے افسران شامل ہیں۔ پی پی آر اے قواعد کے مطابق کمیٹی نے ریکویسٹ فار پروپوزل جاری کی جس میں تکنیکی جانچ کے معیار، مارکنگ اور انتخاب کے طریقہ کار کی وضاحت کی گئی تاکہ تمام بولی دہندگان کے ساتھ یکساں سلوک یقینی بنایا جا سکے۔

تکنیکی جانچ اور مالی بولیوں کے کھلنے کے بعد سب سے زیادہ فائدہ مند بولی دہندگان کو ایوارڈ دینے کی سفارش کی گئی۔

تمام فیصلے متفقہ طور پر کیے گئے جو دہائیوں پر مشتمل سرکاری خدمات اور سابقہ حج آپریشنز کے اجتماعی تجربے کی روشنی میں تھے۔

توافعہ خدمات کے حوالے سے کمیٹی کو آگاہ کیا گیا کہ سعودی عرب کی وزارتِ حج و عمرہ کی پالیسی کے تحت ہر ملک کم از کم ایک اور زیادہ سے زیادہ 2 سروس فراہم کرنے والی کمپنیوں سے خدمات حاصل کر سکتا ہے۔

جامع جانچ کے بعد 80 فیصد سروس کوٹہ الراجحی اور 20 فیصد رواف منیا کو فی حاجی 2,635 سعودی ریال کی شرح پر دیا گیا۔ الراجحی کو بڑا حصہ دینے کی وجہ اس کا مضبوط سابقہ ریکارڈ اور سب سے بلند تکنیکی و مالی درجہ بندی قرار دی گئی۔

چیئرمین کمیٹی سینیٹر عطا الرحمان نے کہا کہ حج اپنی حقیقی روحانی حیثیت میں محض تجارتی سرگرمی نہیں بننا چاہیے۔ وزارت نے وضاحت کی کہ شفاف طریقہ کار اپنایا گیا، شکایات کے ازالے کا مؤثر نظام موجود ہے اور ایک کمپنی کی جانب سے اٹھائے گئےاعتراضات کا باقاعدہ جائزہ لیا گیا۔

قائمہ کمیٹی کو مزید بتایا گیا کہ بالآخر الراجحی نے زیادہ مسابقتی اور کفایتی نرخ پیش کیے۔

سینیٹر دنیش کمار نے سروس فراہم کرنے والی کمپنیوں کی شارٹ لسٹنگ پر تحفظات کا اظہار کیا اور نشاندہی کی کہ اگرچہ سعودی حکام کی جانب سے 34 کمپنیاں منظور شدہ تھیں تاہم صرف 6 کو شارٹ لسٹ کیا گیا۔ وزارت نے وضاحت کی کہ پاکستان کی آبادی سے منسلک ضروریات کے مطابق 19 کمپنیوں نے درخواست دی جن میں سے 6 معیار پر پوری اتریں اور الراجحی میرٹ پر منتخب ہوئی۔

سوالات کے جواب میں بتایا گیا کہ الراجحی 80 ہزار حجاج کو سہولیات فراہم کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے اور سعودی حکام کے ساتھ باقاعدہ طور پر منظور شدہ ہے۔ تاہم کمپنی کے دیگر ممالک میں خدمات کے حوالے سے وزارت جواب نہ دے سکی۔ اراکین کمیٹی نے کہا کہ حج 2026 کے دوران کارکردگی ہی انتخاب کے میرٹ کی حتمی توثیق کرے گی۔

قائمہ کمیٹی کو حج 2026 کے لیے خدام الحجاج اور ناظمین کے انتخاب پر بھی جامع بریفنگ دی گئی۔ بی ایس-20 افسر کی سربراہی میں ایک دستاویز جانچ کمیٹی تشکیل دی گئی ہے جو درخواستوں کو اشتہار میں دیے گئے معیار کے مطابق سختی سے جانچ رہی ہے۔

جانچ پڑتال آخری مراحل میں ہے اور کسی بھی تضاد کی صورت میں امیدوار کی نامزدگی منسوخ کر دی جائے گی اور میرٹ کے مطابق اگلے امیدوار کو منتخب کیا جائے گا۔

ناظم اسکیم کے تحت ہر 188 حجاج کے گروپ کے لیے ایک ناظم تعینات کیا جائے گا جو قبل از حج مرحلے، مشاعر کے ایام اور بعد از حج مدت کے دوران رہنمائی فراہم کرے گا۔ مجموعی طور پر 635 فلاحی عملہ ناظمین کی حیثیت سے تعینات کیا جائے گا جبکہ دیگر اہلکار جدہ اور مدینہ منورہ کے حج ٹرمینلز، ٹرانسپورٹ، رہائش، خوراک کی خدمات، شکایتی مراکز، گمشدہ اشیاء کے یونٹس اور حرم رہنمائی جیسے اہم شعبوں میں خدمات انجام دیں گے۔

قائمہ کمیٹی کو بتایا گیا کہ مارچ 2026 میں دو ہفتوں پر مشتمل ایک جامع تربیتی پروگرام بھی منعقد کیا جائے گا جس میں آپریشنل فرائض، حجاج کی سہولت اور صحت کی معاونت پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔ وزارت نے مہمانانِ خدا کی خدمت میں شفافیت، میرٹ اور جوابدہی کے عزم کا اعادہ کیا۔

ایچ او اے پی نے کمیٹی کو نجی حج شعبے پر بریفنگ دیتے ہوئے آگاہ کیا کہ 2025 وہ واحد سال تھا جب غیر متوقع رکاوٹ کے باعث نجی شعبے کے حجاج سفر نہ کر سکے۔ اس صورتحال کو پیشہ ورانہ مہارت اور دیانتداری سے سنبھالا گیا اور تمام متاثرہ حجاج کو 2026 میں ایڈجسٹ کیا گیا یا بغیر کسی کٹوتی کے مکمل رقم واپس کی گئی۔ نمایاں مالی نقصانات کے باوجود کوئی بڑا تنازع سامنے نہیں آیا۔ اس وقت نجی شعبہ ملک بھر میں 904 رجسٹرڈ ایچ جی او دفاتر پر مشتمل ہے جو دہائیوں کے تجربے اور مضبوط آپریشنل نیٹ ورک کے ساتھ اصلاحات کے نفاذ اور حجاج کو بہتر سہولیات فراہم کرنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔

قائمہ کمیٹی کو معاہدوں سے متعلق شماریاتی تفصیلات بھی پیش کی گئیں جن میں معاہدوں کے تحت شامل حجاج کی تعداد، کل کوٹہ 60,000 میں سے بقیہ حجاج برائے معاہدہ 16,193 تک، 24 مکمل اور ایک جزوی معاہدہ ٹور آپریٹرز کے ساتھ شامل تھا۔

اسی طرح مدینہ منورہ میں رہائشی معاہدوں سے متعلق پیش رفت بھی پیش کی گئی جو کل کوٹہ 60,000 کے مقابلے میں پیش رفت کی عکاسی کرتی ہے۔

قائمہ کمیٹی کو پاکستانی حجاج کے نظم و ضبط اور تنظیم کے حوالے سے دیگر ممالک سے موازنہ پر سوالات کے جواب میں وزارت نے بتایا کہ سعودی وژن 2030 کے تحت اصلاحات مرحلہ وار متعارف کرائی جا رہی ہیں، جن میں ملک مخصوص انتظامات اور حتیٰ کہ پاکستان کے لیے صوبائی نمائندگی کی عکاسی کرنے والا ایک تھیم کلر بھی شامل ہے۔

قائمہ کمیٹی نے قانون سازی سے متعلق امور بھی زیر غور لائے۔ سینیٹر سید علی ظفر کی جانب سے پیش کیے گئے نجی رکن کے بل بعنوان مسلم فیملی لاز (ترمیمی) بل، 2024 کو محرک کی عدم موجودگی کے باعث نمٹا دیا گیا۔

اسی طرح سینیٹر ثمینہ ممتاز زہری کی جانب سے پیش کردہ نجی رکن کے بل پر مزید بحث مؤخر کر دی گئی جبکہ سینیٹر سرمد علی کی جانب سے پیش کردہ مسلم فیملی لاز (ترمیمی) بل، 2026 کو اسلامی نظریاتی کونسل کی آرا موصول ہونے تک مؤخر کر دیا گیا۔

اجلاس کے اختتام پر اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ حج کی حرمت کا تحفظ کیا جائے گا اور شفافیت کو یقینی بنایا جائے گا اور ہر قدم خدمت، امانت اور مہمانا خدا کی مقدس ذمہ داری کے احترام کے اصولوں کے مطابق اٹھایا جائے گا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

حج 2025 حج 2026 عازمین حج کو رقوم کی واپسی عازمین حج کی ایڈجسٹمنٹ متاثرہ حجاج.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: عازمین حج کو رقوم کی واپسی عازمین حج کی ایڈجسٹمنٹ متاثرہ حجاج قائمہ کمیٹی کو بتایا گیا کہ کیا جائے گا فراہم کرنے کی جانب سے کمیٹی نے کے مطابق حج 2026 کے کے ساتھ کیا گیا کے لیے بی ایس کی گئی پیش کی کے تحت

پڑھیں:

پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر

پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر WhatsAppFacebookX 0 23 July, 2026 سب نیوز

راولپنڈی (آئی پی ایس )فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے کہا ہے کہ پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا۔راولپنڈی میں جنرل ہیڈ کوارٹرز میں 20ویں قومی ورکشاپ کے دوران بلوچستان سے تعلق رکھنے والے شرکا سے گفتگو کرتے ہوئے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے کہا کہ سیکیورٹی فورسز کی کوششیں اور عوامی حمایت بلوچستان میں دیرپا امن کے قیام کا باعث بنیں گی، جبکہ امن و استحکام کے لیے فورسز اور عوام کا تعاون ناگزیر ہے۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے مطابق فیلڈ مارشل نے کہا کہ فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی، انہوں نے دہشتگردی کے بنیادی ڈھانچے کے خاتمے اور پاکستان کے خلاف سرگرم عناصر کے مکمل سدباب کے عزم کا اعادہ کیا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ غیر ملکی سرپرستی میں سرگرم پراکسیز بلوچستان کے امن کو خراب کرنے کی کوشش کر رہی ہیں، تاہم مسلح افواج عوامی حمایت کے ساتھ دشمن کے تمام مذموم عزائم ناکام بنائیں گی۔ فیلڈ مارشل نے دہشتگردی کے خلاف جاری اقدامات اور قومی سلامتی کے لیے اجتماعی کوششوں کی اہمیت پر زور دیا۔ اس موقع پر ورکشاپ کے شرکا نے پاکستان کے استحکام، ترقی اور خودمختاری کے لیے اپنے مشترکہ عزم کا اعادہ کیا۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookX پچھلی خبرصدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ اگلی خبرپاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا آزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکی جدہ قونصل خانے میں اہم انتظامی تبدیلی، فرینہ ارشد نے ڈپٹی قونصل جنرل کا عہدہ سنبھال لیا TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2026, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہماری ٹیم

متعلقہ مضامین

  • نرس نے نومولود بچی کے ہاتھ کا انگوٹھا کاٹ دیا، والد نے پولیس میں درخواست دے دی
  • کراچی: زیادتی کی شکار غیرملکی خاتون نے ملزم کو معاف کردیا
  • ایران نے فوجی اڈوں کے استعمال پر برطانیہ کو سخت وارننگ دے دی
  • فیصل آباد:حکومت سے مذاکرات ناکام ہونے پر پیٹرول پمپ مالکان کا پمپس بند رکھنے کا اعلان
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر
  • مستونگ میں نامعلوم افراد کی فائرنگ سے سیشن جج عبد الحکیم کاکڑ جاں بحق
  • ایک ملک نے پاکستانیوں کیلیے ویزہ فیس ختم کردی
  • پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف