ایس آئی آر تنازع میں ممتا بنرجی کی عرضی پر سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن کو نوٹس جاری کیا
اشاعت کی تاریخ: 4th, February 2026 GMT
ممتا بنرجی خود سپریم کورٹ میں پیش ہوئیں اور بنچ کے سامنے کھڑے ہو کر کہا "میں ایک عام خاندان سے ہوں، میں کوئی خاص نہیں ہوں، مگر میں سب کے لئے لڑ رہی ہوں"۔ اسلام ٹائمز۔ بھارتی ریاست مغربی بنگال میں ووٹر لسٹ کے خصوصی گہرے نظرثانی (اسپیشل انٹینسو ریویژن – SIR) کے خلاف وزیراعلٰی ممتا بنرجی کی جانب سے دائر عرضی پر بدھ کے روز سماعت کرتے ہوئے سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن آف انڈیا کو نوٹس جاری کر دیا ہے۔ عدالت نے اس معاملے میں پیر کو اگلی سماعت مقرر کی ہے۔ چیف جسٹس آف انڈیا سوریہ کانت کی قیادت میں جسٹس جوئی مالیا باگچی اور جسٹس وی ایم پنچولی پر مشتمل بنچ نے کہا کہ عدالت اس مسئلے کا عملی اور قابلِ عمل حل تلاش کرنے کی کوشش کرے گی۔ چیف جسٹس نے واضح کیا کہ جو حقیقی ووٹر ہیں، ان کے حقوق کوئی نہیں چھین سکتا۔ عدالت اپنی ذمہ داری سے پیچھے نہیں ہٹے گی۔
عدالت نے الیکشن کمیشن کو ہدایت دی کہ ووٹر لسٹ میں مبینہ گڑبڑی کی بنیاد پر نوٹس جاری کرتے وقت انتہائی احتیاط برتی جائے۔ ممتا بنرجی کی جانب سے پیش ہونے والے سینئر ایڈووکیٹ شیام دیوان نے عدالت کے اس حکم پر سوال اٹھایا، جس میں الیکشن کمیشن کو ناموں میں منطقی گڑبڑی کی بنیاد پر فہرست تیار کرنے کی اجازت دی گئی تھی۔ انہوں نے کہا کہ ووٹر لسٹ کے حتمی اشاعت میں صرف 11 دن باقی ہیں جبکہ سماعت مکمل کرنے کے لئے محض 4 دن بچے ہیں۔ وکیل نے الزام لگایا کہ 8,300 مائیکرو آبزرور تعینات کئے گئے ہیں، جن کا آئین میں کوئی ذکر نہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ کئی جائز دستاویزات مسترد کر دی گئی ہیں، جن میں ڈومیسائل سرٹیفکیٹ، آدھار کارڈ اور او بی سی سرٹیفکیٹ شامل ہیں۔ لوگ 4 سے 5 گھنٹے طویل قطاروں میں کھڑے رہنے پر مجبور ہیں۔
ممتا بنرجی خود سپریم کورٹ میں پیش ہوئیں اور بنچ کے سامنے کھڑے ہو کر اپنا موقف رکھا۔ انہوں نے کہا "میں ایک عام خاندان سے ہوں، میں کوئی خاص نہیں ہوں، مگر میں سب کے لئے لڑ رہی ہوں"۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ایس آئی آر کے عمل سے امتیاز پیدا ہو رہا ہے۔ اگر کوئی لڑکی شادی کے بعد شوہر کا سر نیم اختیار کرتی ہے تو اس کا نام ووٹر لسٹ سے کاٹا جا رہا ہے۔ ممتا بنرجی نے مزید کہا کہ مغربی بنگال کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ 100 سے زائد افراد کی موت ہو چکی ہے، کئی بی ایل اوز نے خودکشی کرلی ہے۔ چیف جسٹس سوریہ کانت نے کہا کہ آدھار کارڈ کے معاملے پر عدالت فی الحال کچھ نہیں کہہ سکتی، کیونکہ اس پر پہلے ہی طویل سماعت ہو چکی ہے، تاہم ناموں میں غلطی اور اسپیلنگ سے متعلق شکایات پر الیکشن کمیشن سے وضاحت طلب کی جائے گی۔
الیکشن کمیشن کی جانب سے پیش ہوئے ایڈووکیٹ راکیش دیویدی نے کہا کہ کمیشن نے ریاستی حکومت کو متعدد بار خط لکھ کر کہا تھا کہ کلاس-2 افسران کو ای آر او مقرر کیا جائے، مگر صرف 80 افسر فراہم کئے گئے، اسی لیے مائیکرو آبزرور تعینات کرنا پڑا۔ سپریم کورٹ نے کہا کہ وہ اس معاملے کا عملی حل تلاش کرنے کی پوری کوشش کرے گی اور پیر کو دوبارہ سماعت ہوگی۔ اس کے ساتھ ہی عدالت نے الیکشن کمیشن سے باضابطہ جواب طلب کر لیا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: نے الیکشن کمیشن ممتا بنرجی سپریم کورٹ نے کہا کہ ووٹر لسٹ انہوں نے
پڑھیں:
زیر التوا مقدمات کو جلد نمٹانے کے لیے سپریم کورٹ کا بڑا انتظامی فیصلہ
سپریم کورٹ آف پاکستان نے سال 2026 کے لیے موسم گرما کی تعطیلات سے متعلق بڑا انتظامی فیصلہ کرلیا ہے۔
سپریم کورٹ کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق عدالتی کارکردگی میں بہتری اور زیر التوا مقدمات کے جلد از جلد فیصلوں کو یقینی بنانے کے لیے تعطیلات کا نیا شیڈول مرتب کیا گیا ہے۔
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ یہ اہم فیصلہ چیف جسٹس پاکستان کی درخواست اور ججز کے درمیان باہمی مشاورت کے بعد کیا گیا۔
نئے انتظامات کے تحت سپریم کورٹ کے ججز نے موسم گرما کی تعطیلات کے دوران اسلام آباد میں واقع پرنسپل سیٹ پر کام کے دورانیے میں اضافے پر رضامندی ظاہر کردی ہے۔
اعلامیے کے مطابق ماضی کی روایت کے برعکس اس بار سپریم کورٹ کی برانچ رجسٹریوں میں ججز کے بیٹھنے کے وقت میں کمی کرنے پر اتفاق کیا گیا ہے۔
تاہم ججز کی جانب سے اصل میں حاصل کی جانے والی تعطیلات کا دورانیہ گزشتہ برسوں کی طرح 4 ہفتے ہی برقرار رہے گا۔
سپریم کورٹ کے اعلامیے میں مزید کہا گیا ہے کہ نئے انتظامات کا بنیادی مقصد تعطیلات کے دوران بھی ججز کی دستیابی کو یقینی بنانا اور مقدمات کی سماعت کے عمل کو بلا تعطل جاری رکھنا ہے تاکہ زیر التوا کیسز کے بروقت فیصلوں میں مدد مل سکے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews انتظامی فیصلہ تعطیلات سپریم کورٹ وی نیوز