بحیرہ عرب اور آبنائے ہرمز میں امریکی و ایرانی افواج کی دو جھڑپیں، خطے میں کشیدگی میں خطرناک اضافہ
اشاعت کی تاریخ: 4th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد:بحیرہ عرب اور آبنائے ہرمز میں تعینات امریکی اور ایرانی افواج کے درمیان ہونے والی دو الگ الگ جھڑپوں کے بعد مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی مزید سنگین صورت اختیار کر گئی ہے، جس کے باعث دونوں ممالک کے درمیان متوقع سفارتی مذاکرات بھی غیر یقینی صورتحال سے دوچار ہو گئے ہیں۔
عالمی خبر رساں اداروں کے مطابق امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) نے تصدیق کی ہے کہ امریکی طیارہ بردار بحری جہاز یو ایس ایس ابراہم لنکن کے قریب آنے والے ایک ایرانی ڈرون کو دفاعی کارروائی کے دوران مار گرایا گیا، یہ ایرانی ڈرون اشتعال انگیز انداز میں امریکی بحری جہاز کی جانب پرواز کر رہا تھا حالانکہ امریکی افواج کی جانب سے تناؤ کم کرنے کے اقدامات کیے جا رہے تھے۔
امریکی بحریہ کے ترجمان کیپٹن ٹم ہاکنز کے مطابق ایک F-35C لڑاکا طیارے نے دفاعی اقدام کے طور پر ایرانی ڈرون کو نشانہ بنایا، اس واقعے میں کوئی امریکی اہلکار زخمی نہیں ہوا اور نہ ہی امریکی بحری سازوسامان کو نقصان پہنچا۔
دوسری جانب ایرانی میڈیانے بھی اس واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاسدارانِ انقلاب کا ایک ڈرون عرب سمندر میں نگرانی اور فلم بندی کے مشن کے دوران لاپتا ہو گیا، ڈرون اپنی نگرانی کی فوٹیج کامیابی سے بیس تک منتقل کر چکا تھا جبکہ اس سے رابطہ منقطع ہونے کی وجوہات کی تحقیقات جاری ہیں۔
اسی روز چند گھنٹوں بعد آبنائے ہرمز میں ایک اور کشیدہ صورتحال اس وقت پیدا ہوئی جب ایرانی پاسدارانِ انقلاب کی دو گن بوٹس نے امریکی پرچم بردار کیمیکل ٹینکر ایم/وی اسٹینا امپیریٹو کے گرد تیز رفتاری سے تین چکر لگائے اور ریڈیو کے ذریعے جہاز پر چڑھائی اور قبضے کی دھمکیاں دیں، اس دوران ایک ایرانی ڈرون کو بھی امریکی پرچم بردار ٹینکر کے اوپر پرواز کرتے دیکھا گیا، جس سے صورتحال مزید بگڑ گئی۔
امریکی بحریہ کے ڈسٹرائر یو ایس ایس مک فال نے فوری طور پر مداخلت کرتے ہوئے ٹینکر کو بحفاظت خطرے کے علاقے سے نکال لیا جبکہ امریکی فضائیہ نے فضائی معاونت فراہم کی، کیپٹن ٹم ہاکنز نے ایرانی رویے کو غیر پیشہ ورانہ اور اشتعال انگیز قرار دیتے ہوئے کہا کہ بین الاقوامی پانیوں میں اس قسم کی کارروائیاں ناقابلِ قبول ہیں۔
یہ دونوں واقعات ایسے وقت پیش آئے ہیں جب امریکا اور ایران کے درمیان جمعہ کو اہم سفارتی مذاکرات طے تھے جن کا مقصد ممکنہ فوجی تصادم کو روکنا تھا۔ ذرائع کے مطابق ایران نے اچانک مذاکرات کے مقام، شرکاء اور ایجنڈے سے متعلق نئی شرائط رکھ دی ہیں۔
ایران کا مطالبہ ہے کہ مذاکرات استنبول کے بجائے عمان میں ہوں، ثالثی ممالک شریک نہ ہوں اور بات چیت صرف جوہری پروگرام تک محدود رکھی جائے۔
اس کے برعکس امریکا کا مؤقف ہے کہ مذاکرات میں ایران کے بیلسٹک میزائل پروگرام اور خطے میں اس کے حمایت یافتہ گروہوں کے معاملات بھی شامل ہونے چاہئیں،مذاکرات تاحال شیڈول کے مطابق ہیں، تاہم صدر ٹرمپ کے پاس تمام آپشنز موجود ہیں جن میں فوجی کارروائی بھی شامل ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ایرانی ڈرون کے مطابق
پڑھیں:
امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور
امریکا کے ریپبلکن اکثریتی ایوان نمائندگان (ہاؤس آف ریپریزنٹیٹوز) نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف امریکی فوجی کارروائیاں روکنے کی ہدایت دینے والی قرارداد منظور کر لی جسے کانگریس کی جانب سے صدر ٹرمپ کے لیے ایک اور علامتی پیغام قرار دیا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: آبنائے ہرمز میں کسی بھی جہاز پر حملہ ہوا تو ایران کا بنیادی ڈھانچہ تباہ کردیں گے، ڈونلڈ ٹرمپ کی دھمکی
قرارداد 214 کے مقابلے میں 208 ووٹوں سے منظور ہوئی جبکہ چار ریپبلکن ارکان نے بھی ڈیموکریٹس کا ساتھ دیتے ہوئے اس کی حمایت کی۔
یہ قرارداد واشنگٹن سے تعلق رکھنے والی ڈیموکریٹ رکن پرامیلا جے پال نے پیش کی جس میں صدر ٹرمپ کو ہدایت دی گئی ہے کہ کانگریس کی منظوری کے بغیر ایران کے خلاف امریکی مسلح افواج کی کارروائیاں بند کی جائیں۔
تاہم ماہرین کے مطابق اس قرارداد کی حیثیت زیادہ تر علامتی ہے، کیونکہ حالیہ مہینوں میں بھی کانگریس اس نوعیت کی متعدد قراردادیں منظور کر چکی ہے مگر ان کے نتیجے میں جنگی کارروائیاں نہیں رک سکیں۔
مزید پڑھیے: ایران مذاکرات کے لیے بے تاب، لیکن بامعنی بات چیت ہی ہوگی، ڈونلڈ ٹرمپ
قرارداد کی حمایت کرنے والے چار ریپبلکن ارکان میں ٹام بیریٹ (مشی گن)، برائن فٹزپیٹرک (پنسلوانیا)، وارن ڈیوڈسن (اوہائیو) اور تھامس میسی (کینٹکی) شامل ہیں۔
Today, the House PASSED my bipartisan War Powers Resolution to end the war in Iran by a vote of 214-208.
This is a big victory for the vast majority of Americans who want President Trump to end this illegal war and focus on their lives right here at home. pic.twitter.com/ZaE3NtTJdP
— Rep. Pramila Jayapal (@RepJayapal) July 23, 2026
اگرچہ ریپبلکن پارٹی کو ایوان نمائندگان اور سینیٹ دونوں میں معمولی برتری حاصل ہے تاہم اس قرارداد کی منظوری کو صدر ٹرمپ کی پالیسیوں پر اپنی ہی جماعت کے بعض ارکان کے تحفظات کی علامت بھی قرار دیا جا رہا ہے۔
ادھر امریکی سینیٹ میں بھی ایران سے متعلق ایک علیحدہ مگر ملتی جلتی قرارداد پر ووٹنگ متوقع تھی۔
یہ پیشرفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب صدر ٹرمپ نے ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں میں مزید شدت لانے کا اعلان کیا ہے اور امریکی فوجیوں کی ہلاکتوں کی بھی تصدیق کی ہے۔
مزید پڑھیں: ایران کو ایک امریکی فوجی کے قتل کی کئی گنا زیادہ قیمت چکانی پڑےگی، ڈونلڈ ٹرمپ کی تہران کو وارننگ
صدر ٹرمپ نے جمعرات کو ایران اور اس کے اتحادی یمنی حوثی گروپ کو بڑی فوجی سزا دینے کا عندیہ دیا۔ دوسری جانب، عارضی جنگ بندی کے مؤثر طور پر ختم ہونے کے 2 ہفتے بعد امریکی فوج نے ایران پر ایک اور رات فضائی حملے کیے، جس کے جواب میں ایران نے پڑوسی ممالک میں قائم امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
امریکا امریکی ایوان نمائندگان ایران امریکا کشیدگی ٹرمپ کو جنگ روکنے کی ہدایت ڈیموکریٹ رکن پرامیلا جے پال ہاؤس آف ریپریزنٹیٹوز