ایران جوہری مذاکرات استنبول سے عمان منتقل کرنا چاہتا ہے: امریکی میڈیا
اشاعت کی تاریخ: 4th, February 2026 GMT
امریکی میڈیا نے علاقائی سفارتکاروں کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ ایران امریکا کے ساتھ ہونے والے جوہری مذاکرات کا مقام ترکیے کے شہر استنبول کے بجائے عمان منتقل کرنا چاہتا ہے۔
رپورٹس کے مطابق امریکا ان مذاکرات میں جوہری پروگرام کے علاوہ بیلسٹک میزائل اور خطے میں ایران سے منسلک گروہوں کی سرگرمیوں جیسے موضوعات بھی شامل کرنا چاہتا ہے، تاہم ایران کا مؤقف ہے کہ بات چیت صرف جوہری امور تک محدود رہنی چاہیے۔ سفارتکاروں کے مطابق ایران علاقائی ممالک کی براہِ راست شرکت کے حق میں بھی نہیں ہے۔
ادھر وائٹ ہاؤس کی ترجمان نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ رواں ہفتے متوقع بات چیت طے شدہ شیڈول کے مطابق ہی ہوگی اور امریکا سفارتی عمل کو آگے بڑھانے کے لیے تیار ہے۔
دوسری جانب ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے کہا ہے کہ مذاکرات کے مقام اور وقت سے متعلق معاملات پیچیدہ نہیں ہیں اور اس حوالے سے امریکا کے ساتھ مشاورت جاری ہے۔ ان کے مطابق ترکیے، عمان اور خطے کے دیگر ممالک نے مذاکرات کی میزبانی کی پیشکش کر رکھی ہے۔
واضح رہے کہ امریکا اور ایران نے مئی 2023 سے تعطل کا شکار جوہری مذاکرات کو جمعے کے روز دوبارہ شروع کرنے کی تصدیق کی ہے، جن کے آغاز کے لیے ترکیے کو ابتدائی مقام قرار دیا گیا تھا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: کے مطابق
پڑھیں:
سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل
نیتن یاہو - فوٹو: فائلاسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سعودی عرب پر سول جوہری معاہدے کےلیے ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کی شرط سے متعلق ردِ عمل دے دیا۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری ایک بیان میں اسرائیلی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کا ’ابراہیمی معاہدے‘ میں شامل ہونا مشرقِ وسطیٰ میں امن و سلامتی کے لیے تاریخی اور عظیم پیش رفت ہوگی۔
خیال رہے کہ نیتن یاہو کی جانب سے یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اعلان کے بعد سامنے آیا جس میں انہوں نے امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والے سول جوہری معاہدے کا ذکر کیا تھا۔
اپنے بیان میں امریکی صدر کا کہنا تھا کہ امریکی محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان سول جوہری معاہدہ منظور کرلیا جائے گا۔
صدر ٹرمپ نے واضح طور پر یہ شرط رکھی تھی کہ امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان یہ سول جوہری معاہدہ اسی صورت ممکن ہوگا جب سعودی عرب باضابطہ طور پر ’ابراہیمی معاہدے‘ کا حصہ بنے گا۔
تاہم یہ علم میں رہے کہ اپنے بیان میں اسرائیلی وزیراعظم نے امریکہ اور سعودی عرب کے اس سول جوہری معاہدے کا براہِ راست کوئی تذکرہ نہیں کیا۔