ایران امریکا کیساتھ مذاکرات کا مقام و طریقہ کار تبدیل کرنیکا خواہشمند، امریکی میڈیا کا دعویٰ
اشاعت کی تاریخ: 4th, February 2026 GMT
ویب سائٹ کے مطابق علاقائی سفارتکار کا کہنا ہے کہ ایران جمعے کو ہونے والے جوہری مذاکرات استنبول سے عمان منتقل کروانا چاہتا ہے۔ سفارتکار نے کہا کہ ایران جمعے کے مذاکرات میں صرف جوہری بات چیت پر توجہ چاہتا ہے، ایران مذاکرات میں علاقائی ممالک کی براہ راست شمولیت نہیں چاہتا۔ اسلام ٹائمز۔ امریکی نیوز ویب سائٹ کی جانب سے دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ ایران امریکا کے ساتھ مذاکرات کا مقام اور طریقہ کار تبدیل کرنا چاہتا ہے۔ ویب سائٹ کے مطابق علاقائی سفارتکار کا کہنا ہے کہ ایران جمعے کو ہونے والے جوہری مذاکرات استنبول سے عمان منتقل کروانا چاہتا ہے۔ سفارتکار نے کہا کہ ایران جمعے کے مذاکرات میں صرف جوہری بات چیت پر توجہ چاہتا ہے، ایران مذاکرات میں علاقائی ممالک کی براہ راست شمولیت نہیں چاہتا۔ ادھر ایران کی جانب سے اس دعوے کی تصدیق یا تردید نہیں کی گئی۔ خیال رہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان ترکیہ میں بالواسطہ مذاکرات شروع ہونے جا رہے ہیں، جس کے لیے دونوں ممالک کے نمائندگان کی ملاقات کا دن بھی طے کرلیا گیا ہے۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی نمائندہ خصوصی برائے مشرق وسطیٰ اسٹیو وٹکوف کی ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سے ملاقات استنبول میں جمعہ کو شیڈول ہے۔ امریکی حکام کا کہنا تھا کہ وٹکوف اور عراقچی ممکنہ طور پر جوہری معاہدے اور دیگر مسائل پر بات کریں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ صدر ٹرمپ معاہدہ کرنے کے لیے ایران پر زور دیتے رہے ہیں۔ یہ ملاقات اسی لیے ہے کہ صدر ٹرمپ کی بات سُنی جائے۔ خیال رہے کہ ایک روز قبل امریکی ٹیلی ویژن کو انٹرویو دیتے ہوئے ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ پرامید ہوں کہ امریکا سے جوہری معاہدہ ممکن ہے۔
انہوں نے کہا تھا کہ امریکا پر اعتماد نہیں، بات چیت مصالحت کار دوستوں کے ذریعے جاری ہے۔ بیلسٹک میزائل اور مزاحمتی تنظیموں کا ساتھ چھوڑنے کی بات ناممکن ہے۔ اس سے قبل تہران میں تقریب سے خطاب میں ایرانی سپریم لیڈر آیت اللّٰہ خامنہ ای نے کہا تھا کہ امریکا نے جنگ شروع کی تو اس بار یہ علاقائی جنگ بن جائے گی۔ اہل ایران صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی دھمکیوں سے خوفزدہ نہیں ہیں۔ اس بیان پر ردِعمل دیتے ہوئے امریکی صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ امید ہے کہ ہم جلد معاہدے پر پہنچ جائیں گے، اگر معاہدہ نہیں ہوتا تو پھر ہمیں معلوم ہو جائے گا کہ خامنہ ای نے ٹھیک کہا تھا یا نہیں۔ خامنہ ای علاقائی جنگ کی بات کیوں نہ کریں گے، ظاہر ہے، وہ ایسا کہیں گے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: کہ ایران جمعے مذاکرات میں ہے کہ ایران چاہتا ہے کا کہنا نے کہا تھا کہ
پڑھیں:
امریکا نے ایران پر مسلسل 13 ویں رات بھی فضائی حملے شروع کر دیے، سینٹکام
امریکہ نے ایران کے خلاف مسلسل 13 ویں رات بھی فوجی کارروائیاں جاری رکھیں جبکہ ایرانی شہر اہواز میں متعدد دھماکوں کی آوازیں سنی جانے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔
امریکی سینٹرل کمانڈ سینٹکام نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں تصدیق کی کہ امریکی افواج نے جمعرات کی شب ایران کے فوجی اہداف پر ایک اور حملہ کیا۔ بیان کے مطابق یہ کارروائیاں مسلسل 13 ویں رات جاری رہیں۔
U.S. forces started another night of strikes against Iranian military targets at 6:45 p.m. ET today. This is the 13th consecutive night of strikes aimed to hold Iran accountable and diminish threats from the Islamic Revolutionary Guard Corps to commercial shipping.
مزید پڑھیںمشرق وسطیٰ کی صورتحال کنٹرول سے باہر ہوتی جارہی ہے، یو این سیکریٹری جنرل
جارحیت کی قیمت واشنگٹن کو بہت مہنگی پڑے گی، عباس عراقچی
— U.S. Central Command (@CENTCOM) July 23, 2026سینٹکام کا کہنا ہے کہ ان حملوں کا مقصد ایران کو اس کے اقدامات پر جوابدہ بنانا اور پاسداران انقلاب کی جانب سے تجارتی بحری جہازوں کو لاحق خطرات کو کم کرنا ہے۔
دوسری جانب ایران کے صوبہ خوزستان کے دارالحکومت اہواز کے رہائشیوں نے جمعہ کی علی الصبح متعدد زور دار دھماکوں کی آوازیں سننے کی اطلاع دی ہے۔
ایرانی خبر رساں ادارے کے مطابق دھماکوں کی تفصیلات فوری طور پر سامنے نہیں آسکیں۔